17 لاکھ افراد جنیاتی تجزیہ کرتے ہیں 41 کے بعد جین دریافت کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ کسی کو کوئی بچی نہیں ہے۔  فوٹو: فائل

17 لاکھ افراد جنیاتی تجزیہ کرتے ہیں 41 کے بعد جین دریافت کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ کسی کو کوئی بچی نہیں ہے۔ فوٹو: فائل

آسٹریلیا: سائنس سائنس کی کامیابی کا تجربہ اب تک ہم جانتے ہی نہیں ہیں کہ وہ قاصر ہیں جو ہمارے یہاں کام کر رہے ہیں۔ کچھ افراد بائیں بازو کی باتیں کرتے ہیں اور بہت ہی کم لوگوں کو تحریر دینے کی ضرورت ہے۔

اب ماہرین نے اس سوال کا جواب دیا کہ 17 لاکھ افراد مطالعہ کر رہے ہیں اور اس میں نوٹ کیا جاسکتا ہے کہ 41 جنوری کو لوگوں کو دائیں اور بالخصوص چھوڑ دیا جاسکتا ہے۔

ماہرین دماغی سرگرمی کے ساتھ لاکھوں افراد کے ساتھ مطالعہ کے دائیں یا بائیں طرف ‘جینیاتی وجوہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تحقیق سے وابستہ ماہرِ جینیات ڈاکٹر سارہ دللین یہ کہتے ہیں کہ لکھے ہوئے عمل دماغی ساخت پر بھی اثر ڈالتے ہیں۔

‘تحقیق بتاتی ہے 41 جینیاتی تبدیلیاں ہوئی ہیں جو کسی کوٹھے ہتھھے بنا سکتی ہیں جبکہ دیگر ساتھی جین سیکشن میں بھی شامل ہیں جو وقت کے دائیں اور بائیں حصے میں ہیں۔ لیکن یاد نہیں ہے کہ یہ سارے جین کا کیفیٹ صرف 12 فیصد ہی ہے۔ اس سے کچھ زیادہ نہیں ہوسکتا ہے اور ہم اس کے بارے میں جانتے ہیں۔

یونیورسٹی آف کوئنزسلینڈ کے ماہرِ جینیات ڈیوڈ ایونس متفرق ہیں کہ شاید ماحولیاتی عوامل بھی اس میں ایک اہم کردار ادارہ ہیں۔ اس میں کسی چوٹی کا لگنا ، کھیل ، لکھاؤ یا میوزک آلہ بجانے ہی نہیں ہوتا تھا یا اس کا استعمال کرنا بھی ہوتا ہے۔

اس تجربے کے بعدویو بایوینک اور 23 اینڈ می میٹنگ میں ڈیٹا لیا گیا ہے جبکہ اس کی مکمل تفصیل نیچر ہیومن بیہیویئر میں شائع ہوئی ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here