’’شکاری کی مکڑی‘‘ مینڈک کو شکار کرنے کے بعد اس کی دعوت اُڑا رہی ہے۔ (فوٹو: ڈومینیک اینڈریاس مارٹن)

’’شکاری کی مکڑی‘‘ مینڈک کو شکار کرنے کے بعد اس کی دعوت اُڑا رہی ہے۔ (فوٹو: ڈومینیک اینڈریاس مارٹن)

مڈغاسکر: جنگلی حیات کے ماہرین نے مڈغاسکر کے جنگل میں ایک مکڑی کو اپنے ریشمی لعاب سے پتّوں کو آپس میں جوڑ کر جعلی پناہ گاہ بناتے ہوئے اور مینڈک کا شکار کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

اس عجیب و غریب منظر سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض مکڑیاں صرف اپنے جالے میں ہی شکار نہیں کرتیں بلکہ اسی جالے کو اچھوتی ’جعل سازی‘ کےلیے بھی استعمال کرسکتی ہیں۔

اس کا مکمل سائنسی نام Sparassidae, Damastes sp ہے لیکن عام زبان میں اسے ’’شکاری کی مکڑی‘‘ (ہنٹس مین اسپائیڈر) کہا جاتا ہے کیونکہ یہ بہت تیزی سے دوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

جسامت میں یہ عام مکڑیوں سے خاصی بڑی یعنی 4 سے 6 انچ جتنی ہوتی ہے۔ اس کی زیادہ تر اقسام مڈغاسکر کے گھنے اور بارانی جنگلات میں پائی جاتی ہیں جنہیں اب تک بڑے کیڑے مکوڑوں کا شکار کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

یہ کسی پودے یا درخت کے بڑے پتوں کو اپنے ریشمی لعاب (ریشے) کی مدد سے آپس میں اس طرح چپکاتی ہے کہ ایک طرف سے ان کے درمیان کا کچھ حصہ کھلا رہ جاتا ہے جبکہ یہ مکڑی اس کے اندر، ایک کونے میں چھپ کر بیٹھ جاتی ہے۔

کیڑے مکوڑے ان پتوں کو محفوظ پناہ گاہ سمجھ کر اندر گھسے چلے آتے ہیں اور یہ مکڑی انہیں آرام سے شکار کرلیتی ہے۔

غیر فقاری (بغیر ریڑھ کی ہڈی والے) جانوروں کے ہاتھوں فقاری (ریڑھ کی ہڈی والے) جانوروں کا شکار بننا بہت کم مرتبہ ہی مشاہدے میں آیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ جب ’’شکاری کی مکڑی‘‘ کو اسی طریقے سے ایک مینڈک کا شکار کرتے دیکھا گیا ہے۔ البتہ یہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے کہ وہ مینڈک غلطی سے اس مکڑی کی ’’جعلی پناہ گاہ‘‘ میں گھس آیا تھا یا پھر اس قسم کی مکڑیوں کو بطورِ خاص مینڈکوں کا شکار کرنے کی عادت ہے۔

بہرحال، یہ جو کچھ بھی ہے، یقیناً بہت دلچسپ ہے جس کی مکمل سائنسی تفصیلات اوپن ایکسیس آن لائن ریسرچ جرنل ’’ایکولوجی اینڈ ایوولیوشن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here