کشمیری طور پر اس ڈسجنل انجن سے طاقت حاصل ہوتی ہے جب وہ آبپاشی ٹوٹی ہوجاتے ہیں اور بجلی سے چلتے ہیں۔  (تصاویر / ویڈیو: وِکٹا)

کشمیری طور پر اس ڈسجنل انجن سے طاقت حاصل ہوتی ہے جب وہ آبپاشی ٹوٹی ہوجاتے ہیں اور بجلی سے چلتے ہیں۔ (تصاویر / ویڈیو: وِکٹا)

لندن: برطانیہ میں فوجی کشتیاں اور بحریہ کے دیگر سازوسامان اور سامان تیار کرنے والی کمپنی ” ویکٹا ” نے ‘سب سی کرافٹ’ کے نام سے ایک جدید کشمیری تیار کیا ہے جس نے ‘اسٹیلتھ’ کو مزید ضرورت پڑھائی ہے۔ منڈو میں کشتی سے آبدوز بنتی ہے۔

واضح ہے کہ عسکریت پسندی کی زبان میں کسی چیز کی نظر نہیں آتی ہے یا حقیقت یہ نہیں ہے کہ وہ ‘اسٹیلتھ’ (چپکے) کی بات ہے۔

سب سی کرافٹ کو مضبوط اور ہر ممکن حد تک ہلکا والدین کے کاربن فائبر کے ساتھ خاص طور پر ” ڈائی ایب ” (دیاب) فوم کا استعمال بھی کیا ہوا ہے۔ اس کے وزن کے بارے میں کچھ نہیں چل رہا ہے۔

اس میں کُل 8 افراد شامل ہیں جن میں 6 غوطہ خور اسپی کھانے کی دکانوں کے علاوہ ایک پائلٹ اور ایک نیوی گیٹر شامل ہیں۔ یہ 39.2 فٹ لمبی اور 7.5 فٹ چوڑی ہے۔

کشمیریوں نے اس کو اپنایا 725 ہارس پاور واٹر ڈینل انجن کا استعمال 74 میل فی گھنٹہ زیادہ تیز رفتار سے سفر کی راہ پر ہے ، جبکہ اس کی اوسط رفتار 56 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔

463 کلومیٹر کا فاصلہ طیبہ کی موجودگی ہے۔

جب کشمیریوں سے آبدوز بنانا ہوتا ہے تو اس نے پانی بھرنا شروع کردیا تھا ، جس سے دو منٹ کے بعد پانی کی طرح پانی کی گہرائی میں اترنا پڑتا ہے۔

https://www.youtube.com/watch؟v=JgOXA5smmFs

اس ریلیے کے ‘سب سی کرافٹ’ میں سوار تمام افراد سے پہلے غوطہ خور مسک اور لباس پہلو تھے ، جن میں سانس کا کا سسٹم موجود ہے ‘اوپن ایئر سرکٹ اسٹسٹم’ سے منسلک ہے۔

اس واٹرپروف سسٹم خاص طور پر گھروں میں پانی آنے سے پہلے ہی پانی کی کمی محسوس نہیں ہوئی اور آبدوز میں سوار تمام عملے کو 4 گھنٹے تک آسیجن کی فراہمی جاری رہی۔

آبدوز میں تبدیلی کے بعد 6 الیکٹرکل تھرسٹرز کا استعمال کیا جاتا ہے جو 11 کلومیٹر فی گھنٹہ فی گھنٹہ کی اوسط رفتار سے ہوتا ہے۔

یہ تھرسٹرز لیتھیم آئن بیٹری پیک سے توانائی حاصل کرلیتی ہے اور ایک بار مکمل چارج کے بعد کم سے کم 2 گھنٹے تک ‘سب سی کرافٹ’ کوٹرا آب حرکت میں آتی ہے اور اس دوران یہ 46 کلومیٹر کا فاصلہ طے شدہ ہوتا ہے۔

اب تک ‘سب سی کرافٹ’ کے پروٹوٹائپ کو بڑے تجربے والے تالابوں میں آزمایا گیا تھا کہ اس وقت سمندر میں اس کی آزمائش اگلے سال 2021 کے جنوری میں شروع ہوئی تھی۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here