آندھرا پردیش میں تعلیم یا ہفتے کے دن والدین نے اپنے جوانوں کو بے دردی سے قتل کیا (فوٹو ، انٹرنیٹ)

آندھرا پردیش میں تعلیم یا ہفتے کے دن والدین نے اپنے جوانوں کو بے دردی سے قتل کیا (فوٹو ، انٹرنیٹ)

حیدرآباد دکن: بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں توہیم پرستار ماں باپ نے مذہبی رسم و رواج میں بیلی چڑیاں اپنے دو جوان بیٹوں کو قتل کیا۔

ہندوستانی میڈیا کے مطابق آندھرا پردیش کے ضلع چوتوڑ میں قتل کی ایک انوکھی واردات کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس کا یہ کہنا ہے کہ تین منزلہ مکان سے دو جوانوں کی لاش برآمد ہو رہی ہے ، بظاہر پوجاوں نے اس وقت ایک سازش کا استعمال کیا ہے ، لیکن اس سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ یہ کوئی رسم ہے۔ کیا ہوا ہے؟

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایک واقعہ ہے جس کی ایک روایتی پروگرام تھی جو شاواڈ کے بھی سیکشن ہیں۔ مقتولہ لڑکیاں سرخ سریوں میں ملبوس کی زندگی اور اس کا قتل عام کرنے والوں میں والدین سے ابتدائی پوچھ گچھ کا انداز بہت ہی مشہور ہے۔

مقامی پولیس آفیسر چیدانند ریڈی کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن لوڈ ہونے والے اس گھر میں شامل ہے۔ پولیس شب واقعہ کی اطلاع ملنے پر ہے جب پولیس مکان میں داخل ہوکر اس کی ماں باپ نے عجیب اور غریب سے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اس سے پہلے ہی اس کی بیٹی کو دوبارہ زندہ کردیں گے۔

اس سے پہلے کے واقعات میں باپ نے اپنے دوست کو فون پر قتل کے واقعات سے آگاہ کیا جس میں پولیس کو مطلع کیا گیا تھا۔ والدین کی بات یہ ہے کہ اس کے گھر میں پندرہ طلسمات اور جادوئی واقعات رونما ہوورے ہیں اور بہت جلد ان کی مقتولہ واپس آجائیں گی۔

پولیس واقعات کا ایک واقعہ اور ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اپنی بیٹیوں کو کسی بھی رسم و رواج میں شامل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پولیس نے ان دونوں کو تحویل میں لیا اور مقتولین کے لاشوں کے پوسٹ مارٹم کی کارروائی شروع کردی۔ مقتول کی عمر 22 اور 27 برس بتائی جاتی ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here