بہت سارے پولیس اہلکاروں کو بتایا گیا کہ اس نے ہیکنگ سے متعلق دیگر سائبر کرائمیز کی 'عملی تربیت' انٹرنیٹ اور یوٹیوب ٹیوٹوریلیز حاصل کی۔  (فوٹو: انٹرنیٹ)

بہت سارے پولیس اہلکاروں کو بتایا گیا کہ اس نے ہیکنگ سے متعلق دیگر سائبر کرائمیز کی ‘عملی تربیت’ انٹرنیٹ اور یوٹیوب ٹیوٹوریلیز حاصل کی۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

دہلی: ہندوستانی شہر غازی آبادی کے رہائشی کوٹ آن لائن ہراساں کے بارے میں دس دس سال کا بھٹی تقسیم کرنے والا واکر مجرم کوئی بھی نہیں اور نہ ہی اسی شخص کا 11 سالہ سگا بیٹا نکلا۔

اس بات کا اندازہ ، ہندوستانی شہر غازی آباد سے راجیو کمار نامی شخص سے متعلق ایک مقامی پولیس سائبر کرائم برانچ میں واقع لکھوائی کے مطابق یکم جنوری 2021 سے اس ای میل اکاؤنٹ میں ہیکٹریا گیا تھا جس میں ‘ہیکرز کا گروہ’ تھا۔ کروڑوں بھٹہ وصول کرتے ہیں۔

راجیو پولیس کو اس کی حساس معلومات سے آگاہ کرتی ہے اور کچھ خاص باتیں ” خاص تصاویر ” چوری کرنے کے بعد خود بخود اس کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں اور ان کی معلومات اور تصویروں کو دنیا کے سامنے لے جانے کا امکان ہوتا ہے۔ جس کے بعد اور اس کے اہل خانہ کو قتل کیا جائے گا؟

پہلے راجیو انڈرکیز کو نظرانداز کیا تھا جب ہیکر اس کا ای میل پاس ورڈ تھا اور موبائل فون کا نمبر بار بار تبدیل کرنا پڑتا تھا اور اس کے اہل خانہ کی حرکات اور سکنات سے راجیو کو آگ بجھانا پڑتا تھا؟ بالآخر راجیو سے پولیس سے رابطہ کرنا ہے۔

پولیس سائبر کرائم ڈپارٹمنٹ نے فوراً اس کیس پر کام شروع کیا۔ ہفتہ کے روز جب اس کیس کا ڈراپ سین ہوا تھا تو وہ ” نامعلوم ہیکر ” اور بھتہ خور اسی شخص کی 11 سالہ بیٹا تھی۔

ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ راجیو کو آئی سی ایڈریس سے متعلق ایمیز ای میلز بھی اس کی عمر کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں۔ یعنی اس کیس کا مرکزی کردار اسی گھر میں موجود تھا۔

اس کے بعد جب پولیس والے راجیو کے گھروں میں سے تھے تو انہوں نے کہا کہ یہ کچھ اسی طرح کی کارستانی تھیم ہے۔

اس نے پولیس کو مزید معلومات فراہم کی ہیں کہ ہیکنگ اور دوسرے سائبر جرائم کی انجام دہی کی ساری ٹرینٹی اس کے یوٹیوب پر موجود ہے ” معلوماتی رابطے ” اور اسی قسم کے دیگر ” آن لائن ٹیوٹوریلز ” کو دیکھتے ہوئے کریکشن تھیٹ۔

اعترافِ جرم کے ساتھ اس نے بھی پولیس کو اطلاع دی کہ یہ یقینی ہے کہ وہ پکڑا نہیں جاسکتا ہے ، کیوں کہ متاثرہ شخص کا سگنل بیٹا ہونے کی وجہ سے کسی کو بھی شک نہیں ہوا تھا۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here