کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ دو اشعار کس شاعر کی فکر کا نتیجہ ہیں:
نہیں منازل ِہستی کی ظلمتوں کا خطر
تِری ضیاء سے ہے روشن مِرا حریمِ وجود…..

اور یہ:

ہوگا آخر بارگاہ حق میں اک دن باریاب
میرا نعرہ انقلاب و انقلاب و انقلاب……

اگر میں یہ کہوں کہ آزاد ؔ تخلص کے کسی گم نام شاعر نے یہ اشعار کہے، جس نے اپنی خستہ حالی کے سبب، تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے صحافت کا پیشہ اختیار کیا، پھر دو چھوٹی سی ریاستوں (جاگیروں) کے شہزادوں کا اتالیق رہا، مگر اُسے بطور شاعر، صحافی، وکیل یا مصنف شہرت نہیں ملی، بلکہ وہ دنیا بھر میں ایک الگ، آزاد اور خودمختار مسلم ریاست کے واضح تصور کا پہلا پرچارک تھا ….اُسے اس کے حین حیات ہی انقلابی سیاسی رہنما کی حیثیت سے جانا پہچانا گیا ….تو کیا آپ اس کا نام بتاسکتے ہیں؟

یہ انکشاف یقیناً ہمارے اہل علم اور اہل سیاست دونوں ہی کے لیے چونکانے والا ہے کہ ان اشعار کا خالق، رحمت علی آزادؔ وہی شخص تھا جس نے ہماری تاریخ میں چودھری رحمت علی کے نام سے ممتاز مقام حاصل کیا، یہ اور بات کہ اُسے اپنوں ہی نے ہمیشہ نظرانداز کیا اور آج بھی کررہے ہیں۔ {ایک ضمنی، مگر اہم نکتہ: چودھری کا مطلب ہے، چارمناصب پر فائز شخص۔ یہ چوہدری نہیں ہے}۔ آپ نے اکثر یہ بات سنی پڑھی ہوگی کہ تاریخ اس لیے مسخ شدہ ہے کہ بادشاہانِ وقت اپنے درباری مؤرخین سے، اپنے مطلب کی تاریخ لکھوایا کرتے تھے۔

جنھیں تاریخ نویسی کا ادراک ہے، وہ جانتے ہیں کہ یہ بات بھی محض جھوٹا پراپگینڈا ہے۔ ایسا اگر ہوا بھی ہوگا تو بہت کم کسی بادشاہ کے پاس اتنی فرصت ہوگی کہ اپنے مطلب کی تاریخ، وہ بھی بالتفصیل لکھوائے۔ تاریخ پاکستان، خصوصاً تحریک پاکستان کے باب میں یہ بددیانتی (کہ Heroکو یا توZero بنادیا یا اُس کا کردار اس قدر مختصر اور غیراہم کردیا کہ قارئین کو پتا ہی نہ چلے کہ اُس نے کیا کارنامے انجام دیے اور کیا قربانی دی) کسی بادشاہ کے حکم پر نہیں ہوئی، یہ سیاہ کارنامہ بعض مخصوص، متعصب اور ابن الوقت افراد یا اُن کے گروہ نے انجام دیا۔

چودھری رحمت علی ہماری تاریخ کی ایسی ہی شخصیت ہیں جنھیں اُن کی بے لوث قربانیوں کا صلہ یہ ملا کہ مطالعہ پاکستان کی سرکاری درسی کتب میں فقط ایک سطر (’’پاکستان کا نام چودھری رحمت علی نے تجویز کیا‘‘) تک محدود کردیا گیا۔ جس شخص نے اپنا تن من دھن سب کچھ اس وطن کے خواب سے تعبیر تک عمل میں لگادیا، کالج کے دورِتعلیم سے تادمِ مرگ، (برصغیرپاک وہند کے تقریباً تمام سیاسی رہنماؤں کے برعکس)، فقط ایک ہی مقصد اور سیاسی منزل کے حصول کے لیے کوشاں رہا، اپنی نجی زندگی کو اس قدر غیراہم جانا کہ شادی کی نہ مال جائیداد بنانے پر توجہ دی۔

تن تنہا ہزاروں کی تعداد میں خطوط لکھ کر اور متعدد اہم سیاسی شخصیات سے مسلسل ملاقات کرکے پاکستان کا تصور اجاگر کرتا رہا، جب وطن کے قیام کے بعد، اپنی خراب صحت کے باوجود، زندگی بھر کی جمع پونجی لیے، بقیہ عمر یہیں بسر کرکے قومی خدمات انجام دینے کے لیے واپس آیا تو اُسے یہاں چین نہ لینے دیا گیا اور یہ کہہ کر انگلستان واپس روانہ کردیا گیا کہ آپ کی وہاں زیادہ ضرورت ہے۔  ؎ اے کمال افسوس ہے، تجھ پر کمال افسوس ہے! گزشتہ دنوں کسی نے انکشاف کیا کہ اَب جو نصابی کتب منظرعام پر آرہی ہیں۔

ان میں اس عظیم ہستی کے متعلق گزشتہ کئی عشروں سے دُہرائی جانے والی، واحد سطر بھی شامل نہیں۔ {میرے محترم فیس بک /واٹس ایپ دوست پروفیسر جمیل احمد کھٹانہ نے بعض دیگر مواد کی فراہمی کے علاوہ کسی کا یہ قول بھی مجھے ارسال کیا تھا:’’پاکستانی گوئبلز نے قوم کو ایک ایسی کیفیت میں مبتلا کردیا ہے جسے Credulity=Willingness to believeکہا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں محو شخص اپنے ناپسندیدہ شخص کے خلاف اور اپنے پسندیدہ شخص کے حق میں، ہر بات فوراً ماننے پر آمادہ ہوجاتا ہے‘‘}۔

چودھری رحمت علی کے متعلق ایک اور شوشا یہ بھی چھوڑا گیا کہ لفظ پاکستان کے خالق وہ نہیں، کوئی اور تھا۔ روزنامہ ایکسپریس میں آج سے نو سال پہلے شایع ہونے والے ایک فیچر کے جواب میں، خاکسار نے رَدّتحقیق (Counter research)کرتے ہوئے مضمون لکھ کر یہ ثابت کیا کہ یہ کارنامہ چودھری رحمت علی ہی کا ہے، کسی اور کا نہیں۔ {یہ مضمون بعنوان ’لفظ پاکستان کا خالق کون: چند معروضات‘ ، روزنامہ ایکسپریس میں پانچ جون دوہزار گیارہ کو شایع ہوا اور اسے بعض اخبارات نے بطور قند مکرر بھی شایع کیا}۔ سولہ نومبر اُسی محترم محسن ملت، نقاش پاکستان، مصور پاکستان چودھری رحمت علی (رحمۃ اللہ علیہ) کا یوم ولادت ہے جسے ہم نے فراموش کرکے یہ ثابت کیا کہ ہم احسان فراموش قوم ہیں۔

آئیے آج اس عظیم رہنما کی یاد تازہ کرتے ہوئے اپنی اور آیندہ نسل کی معلومات میں اضافہ کریں اور مرحوم کی نجی وسیاسی زندگی کے وہ اوراق پلٹ کر دنیا کے سامنے پیش کریں جن سے شعوری طور پر اغماض برتا گیا۔ بقول محترم خان نیازمحمد خان، (اُن کے عزیز دوست، چودھری رحمت علی کی شخصیت اور زندگی ان آٹھ لفظوں میں بیان کی جاسکتی ہے: ’’خوش پوش، خوش کلام، خوش خور، خوش اطوار، جہاں دیدہ، مدبر، متین اور مَردُم شناس۔‘‘ چودھری رحمت علی کے دوست ڈاکٹر یارمحمد خان (معالجِ جسٹس ڈاکٹر جاویداقبال ولد علامہ سرڈاکٹر شیخ محمد اقبال) کے فرزند ڈاکٹر رفیق خان نے تو اُن کے لیے فقط ایک ہی لفظ ’’بانکا‘‘ استعمال کیا جو اُن کی بھرپور شخصیت کا بھرپور احاطہ کرتا ہے۔

ابتدائی حالات ِزندگی: چودھری رحمت علی سولہ نومبر سن اٹھارہ سو ستانوے [16-11-1897] کو ضلع ہوشیارپور (موجودہ ریاست پنجاب، ہندوستان) کی تحصیل گڑھ شنکر کے ایک موضع، موہر میں پیدا ہوئے جسے موہراں بھی کہا جاتا ہے۔ اُن کی تاریخ پیدائش اور جائے پیدائش کے متعلق بہت سی غلط روایات پائی جاتی ہیں، مگر ممتاز مؤرخ جناب کے۔کے (خورشیدکمال) عزیز کی لکھی ہوئی کتاب ’’سوانح حیات چودھری رحمت علی ‘‘ [Rahmat Ali-A Biography]کے اردو مترجم محترم اقبال الدین احمد نے پوری تحقیق سے درست تاریخ اور مقام معلوم کرکے ایک اہم کارنامہ انجام دیا ہے۔ {خاکسار نے انگریزی کتاب بہت پہلے دیکھی تھی۔ اردو ترجمہ اس کتاب کے شریک یا معاون مترجم محترم پروفیسر زیدبن عمر کی عنایت سے موصول ہوگیا۔

بہت عمدہ اور تاریخی کام ہے جس سے تحریک جنم لے سکتی ہے}۔ اُن کے والد حاجی شاہ محمد پینتیس ایکڑ زمین کے مالک، زمین دار تھے اور گوجر قوم سے تعلق رکھنے والا یہ گھرانہ کم ازکم تین پشتوں سے اُسی جگہ مقیم تھا۔ {گوجر قوم سے متعلق مواد کے لیے خاکسار کا تین اقساط پر مبنی مضمون بعنوان ’’اردو کی ماں گوجری؟‘‘ملاحظہ فرمائیں جو اسی کالم کے تحت، روزنامہ ایکسپریس میں تیس اگست دوہزاربیس سے تیرہ ستمبر دوہزاربیس تک مسلسل شایع ہوا اور اخبار کی ویب سائٹ کی زینت ہے}۔

چودھری رحمت علی کے والد شاہ محمد صاحب نے اپنی پہلی بیوی کی فرمائش پر، دوبیٹیوں کی پیدائش کے بعد، اولادنرینہ کے حصول کے لیے، دوسری شادی کی۔ اس بارے میں چودھری رحمت علی کے بھتیجے چودھری عبدالستار نے یہ انکشاف کیا کہ ایک مرتبہ اُن کے خاندان کی کسی عورت نے، جس کی چھت، شاہ محمد صاحب کے گھر سے ملی ہوئی تھی، اپنے کپڑے اُن کی چھت پر سُکھانے کے لیے ڈالنے کی کوشش کی تو شاہ صاحب کی اہلیہ نے اسے روکا، جواب میں اس عورت نے انھیں ’’ناپُتی‘‘ (یعنی بیٹے سے سدامحروم عورت) کہہ دیا۔

یہ گہرا نشتر ایسا لگا کہ بیگم شاہ محمد نے اپنے شوہر کو دوسری شادی پر آمادہ کرنے کے لیے پوری کوشش کی اور بالآخر اس میں کامیاب ہوگئیں۔ شاہ محمد صاحب نے دوسری شادی کی تو دو بیٹے رحمت علی اور محمد علی اُن کے یہاں پیدا ہوئے۔ اس کے علاوہ اُن کے گھرانے میں ایک بیٹی کا بھی اضافہ ہوا، مگر افسوس! قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ لڑکی کی پیدائش کے فوراً بعد، دوسری اہلیہ چل بسیں اور یہ لڑکی بھی بچپن میں فوت ہوگئی۔

چودھری رحمت علی اور اُن کے بھائی محمدعلی کی پرورش اُن کی سوتیلی ماں نے بہت نازونِعَم سے کی اور وہ بھی اپنی سوتیلی ماں اور سوتیلی بہنوں سے حقیقی بیٹے اور بھائی جیسا سلوک کرتے تھے۔ اُن کے درمیان رشتہ الفت مثالی تھا۔ چودھری رحمت علی کے والد محترم شاہ محمد نے اُنھیں تین سال کی عمر سے اپنے ساتھ مسجد لے جانا شروع کیا اور ابتداء ہی سے اُنھیں ایک منظم، باعمل اور اسلام کے سانچے میں ڈھلی ہوئی زندگی کی شاہراہ پر ڈال دیا۔

چھَے سال کی عمر میں اُنھیں عابدہ نامی خاتون نے قرآن شریف کی تعلیم دی اور پھر یہ سلسلہ سید تابع حسین صاحب کی زیرِنگرانی جاری رہا۔ {’’چھ‘‘  فقط ایک آواز ہے جسے سہواً حرف کا درجہ دیا گیا، جبکہ چھَے باقاعدہ لفظ ہے جو گنتی کے عدد کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اس بارے میں حکیم محمد سعید شہید نے باقاعدہ تحریک چلائی تھی}۔ چودھری رحمت علی نے ابتدائی یعنی پرائمری سطح تک تعلیم، قریبی گاؤ ں، بالاچور (نیز بلاچور) میں حاصل کی، آٹھویں جماعت تک تعلیم کے لیے قریبی قصبے ’راہوں‘ کا رُخ کیا جہاں انھوں نے میونسپل بورڈ مڈل اسکول سے اینگلو ورناکیولر مڈل اسکول سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔ یہ غالباً 1910ء کی بات ہے۔ چودھری رحمت علی نے سینداس اینگلو سنسکرِت اسکول (جالندھر) سے میٹرک کا امتحان پاس کیا جس کا تعلیمی انصرام جامعہ پنجاب کے تحت تھا۔

انھوں نے وہاں اردو، فارسی، انگریزی، ریاضی، تاریخ اور جغرافیہ کے مضامین کی تعلیم پائی۔ یہ سال تھا 1912ء۔ اسی سال انھوں نے لاہور کے مشہور زمانہ تعلیمی ادارے اسلامیہ کالج میں داخلہ لیا۔ سن 1915ء میں انھوں نے انگریزی، تاریخ، فارسی اور ریاضی جیسے مضامین میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان بدرجہ دوم پاس کیا۔

اسی کالج سے سن 1918ء میں بدرجہ دوم، بی اے کا امتحان پاس کرنے والے چودھری رحمت علی نے انگریزی، فارسی اور معاشیات میں نمایاں استعداد کا مظاہرہ کیا، متعدد ہم نصابی سرگرمیوں میں ممتاز ہوئے اور انعامات سے سرفراز بھی۔ انھیں کالج کی Debating Union کے سیکریٹری، اپنے Tutorial Groupکے سیکریٹری اور نائب صدر، Punjab University Recruitment Committee for the Double Company،Our Day Fund Committee اور لاہور کی Inter-collegiate Association کے سیکریٹری کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دینے کا اعزاز حاصل ہوا۔ چودھری رحمت علی اپنی اسی درس گاہ کے کالج میگزین Crescentکے مدیر بھی رہے۔

انٹرمیڈیٹ کے طالب علم کی جانب سے بزم شبلی کی تاسیس اور قیام پاکستان کا مطالبہ: یہ بات آج بھی بہت سے بزعم خویش مستند محققین کے لیے انتہائی حیرت انگیز ہے کہ سن 1915ء میں چودھری رحمت علی نے علامہ شبلی نعمانی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ، بزم شبلی کی بنیاد رکھی اور اس کے تاسیسی اجلاس میں ہندوستان کی آزادی اور ایک الگ، آزاد وخودمختار مسلم ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا۔ تاریخ کا یہ باب بھی عینی شاہدین کی گواہی کے ساتھ کتب میں محفوظ ہے، مگر ہمیں پڑھنے کی فرصت نہیں۔ چودھری صاحب کی اس جرأت ِ رندانہ کی توثیق حکیم آفتاب احمد قرشی کے والد حکیم محمد حسن قرشی نے کی تھی جو چودھری رحمت علی کے ہم جماعت تھے۔ انہوں نے ’’کاروان ِ شوق‘‘ (ادارہ ٔ تحقیقات ِ پاکستان، جامعہ پنجاب، لاہور۔ صفحہ نمبر 44)۔ چودھری رحمت علی نے بانی صدر کی حیثیت سے جلسہ تأسیس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:’’ہندوستان کا شمال، مسلم علاقہ ہے اور ہم اسے مسلم ہی رکھیں گے۔

صرف یہی نہیں، ہم اسے ایک مسلم ملک بنائیں گے، لیکن ہم ایسا اُسی وقت کرسکتے ہیں جب ہمارا اور ہمارے ’شمال‘ کا تعلق (باقی) ہندوستان سے ٹوٹ جائے۔ چونکہ یہ شرط اولین ہے، اس لیے جتنی جلدہم ’ہندوستانیت‘ (یعنی ہندومسلم و دیگر ایک قوم) کا طوق اُتار پھینکیں، اتنا ہی ہم سب کے لیے اور اسلام کے لیے بہتر ہوگا۔‘‘ یہ وہ دور تھا جب ہندومسلم اتحاد کی مساعی عروج پر تھیں۔ خطہ ہند کے تقریباً تمام سیاسی زُعَماء کے متفق مؤقف کے برعکس اور متوازی جاری ہونے والے، ایسے خطرناک بیان کا نتیجہ یہ نکلا کہ اُنھیں، مسلسل بحث مباحثے کے بعد، ہندو اور مسلم نوجوانوں کی ایک انقلابی سوسائٹی کے غیظ وغضب کا سامنا کرتے ہوئے اُن سے یہ کہہ کر الگ ہونا پڑا:’’دوستو! اگر آپ کو میرے خیالات (نظریات) سے اتفاق نہیں تو بہتر ہے کہ ہم علیٰحدگی اختیار کرلیں۔

ایسا کرتے ہوئے ہم اس عہد پر قایم رہیں کہ ہم انقلاب کے نصب العین پر، اپنے اپنے عقائد (ونظریات) کے مطابق جنگ ِآزادی لڑیں۔ آپ اپنی راہ لیں اور میں اپنا راستہ اختیار کروں گا۔ آپ ہندوستانی انقلاب کے لیے سرگرم عمل رہیں، مگر مَیں اپنے (تصور کے مطابق) اسلامی انقلاب کے لیے کام کرو ں گا۔ بالآخر ہم یہ دیکھیں گے کہ ہندوستان میں کون سب سے زیادہ متحرک وتخلیقی انقلاب برپا کرتا ہے۔‘‘ برسوں بعد چودھری رحمت علی نے اس بظاہر افسوس ناک واقعے کے متعلق غور کیا تو انھیں یہ احساس ہوا کہ یہ تو گویا اللہ کی رحمت تھی جس نے ’’میرے نصب العین کو ایک خاص الخاص اسلامی جہت عطا کی۔

ایسی سمت جس نے آخر کار پاک پلان کی طرف (میری) رہنمائی کی، جس کا پہلا حصہ پاکستان ہے۔‘‘ {یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ چودھری رحمت علی نے اس خطے میں کئی دیگر ریاستوں کے قیام اور بعدازآں، برّاعظم ایشیا میں متعدد ممالک نیز اسلامی حصہ ایشیا بعنوان ’’پاکیشیا‘‘ یا پا ک ایشیا کی تشکیل کا منفرد تصور بھی پیش کیا تھا جسے اُن کے حین حیات عوام الناس اور بعض معاصرین میں تو پذیرائی ملی، مگر مشاہیر سیاست نے اُن کی، اپنے اپنے ذہن کے مطابق، خوب تذلیل و تضحیک کی۔ آج بھی ایسے ’’بڑوں‘‘ کے بعض کور مقلد، یہ سمجھتے ہیں کہ چودھری رحمت علی نے ماسوائے ناقابل عمل تصورات پیش کرنے کے، کچھ نہیں کیا، حالانکہ تحریک پاکستان برائے حصول پاکستان میں اُس ایک شخص کا عملی حصہ اُس دور کے تمام مسلم قائدین پر بھاری تھا}۔

صحافت میں طبع آزمائی: کالج کے دور طالب علمی میں نوجوان چودھری رحمت علی نے بطور جُزوَقتی مضمون نگار، مشہور اخبار، ’’پیسہ اخبار ‘‘ سے ناتا جوڑا، مگر پچیس تا تیس روپے ماہوار کی یہ ملازمت بھی اُن کے تعلیمی اخراجات کے لیے ناکافی تھی۔ منشی محمد دین فوقؔ کشمیری کے معروف اخبار ’’کشمیر‘‘ میں بطور نائب مدیر ملازم ہونے والے، جوشیلے اور اپنے مقصد کے لیے ہمہ وقت مستعددانش ور، چودھری رحمت علی نے ہندوستانی تاریخ و سیاست پر خامہ آرائی کرتے ہوئے متعدد مضامین میں اپنا یہ نظریہ پیش کیا کہ چونکہ ہند کا شمالی اور شمال مغربی حصہ، مسلم اکثریت کا حامل ہے۔

لہٰذا اسے اُن کا حق سمجھتے ہوئے آزاد مسلم ریاست کا حق دے دیا جائے۔ اُن دنوں اسی قسم کے ایک ’باغیانہ‘ مضمون بعنوان ’’مغرب کی کورانہ تقلید‘‘The blind immitation of the West] [ لکھنے کی پاداش میں ہمارے اس عظیم رہنما کو ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے۔ ریاست بہاول پور اور روجھان کے شہزادوں/ نواب زادوں کی تدریس بطور اتالیق [Tutor]: ایچی سن کالج (عُرف چیفس کالج)، لاہور میں، اُمَراء کے بچوں کی اتالیقی [Tutorship] کا منصب خالی ہوا تونوجوان قائد نے اپنی اعلیٰ تعلیم (شعبہ قانون) جاری رکھنے کے عزم کے ساتھ، اس پرفائز ہونے کی کوشش کی۔

انھیں اسلامیہ کالج ، لاہور کے پرنسپل Henry Martin کی سفارش پر، ایچی سن کالج کے پرنسپل نے باقاعدہ امتحان لینے کے بعد ریاست بہاول پور کے شہزادگان کا اتالیق مقرر کردیا۔ ایک سال تک یہ ملازمت جاری رہی، پھر 1919ء میں نواب بہاول پور کے شہزادے کی انگلستان روانگی کے بعد، انھیں روجھان (ڈیرہ غازی خان) کے نواب زادوں کی تعلیم کا فریضہ سونپ دیا گیا۔ پاکستان کے نہایت معتبر سیاسی رہنما، محترم شیرباز مزاری (مرحوم) کے چھبیس سال پہلے شایع ہونے والے، ایک اخباری انٹرویو میں بھی یہ انکشاف شامل تھا۔

چودھری رحمت علی اُن کے بڑے بھائی بلخ شیر مزاری (سابق نگراں وزیراعظم پاکستان) کے اتالیق تھے۔ اُنھی دنوں راقم نے ٹیلی وژن پروگرام ’’ٹی وی انسائیکلوپیڈیا‘‘ کے محقق و مصنف کی حیثیت سے محترم شیرباز مزاری کو ٹیلی فون کال کی۔ انھوں نے خاکسار سے گفتگو کرتے ہوئے اس (مطبوعہ) انکشاف کی تردید کی کہ وہ خود بھی، چودھری رحمت علی کے شاگرد تھے (یعنی انٹرویو لینے والے صحافی کو مغالطہ ہوا تو انھوں نے دونوں بھائیوں کے نام لکھ دیے)۔ اس کے علاوہ ہمارے اس عظیم رہنما نے کرنال (ہندوستان) کی ایک چھوٹی سی (سابقہ) ریاست کونج پورہ کے نواب زادوں کے اتالیق کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ یہ واقعہ 1923ء سے قبل کا ہے۔

لفظ پاکستان کی ایجاد: آثار وقرائن سے یہ قیاس کرنا غلط نہیں کہ اسی دور میں، (غالباً روجھان کے زمانہ قیام میں ) چودھری رحمت علی اپنے مجوز، آزاد مسلم ملک کے لیے منفرد نام ’’پاک۔ستان‘‘ یا پاکستان وضع (Coin)کرچکے تھے جو بعدازآں اُن کے مشہور پمفلٹ بعنوان”Now or Never” کے ذریعے منظرعام پر آیا۔ بہرحال فی الحال اس بابت کوئی سند یا شہادت موجود نہیں، البتہ چودھری رحمت علی کا جو بیان نقل کیا جاتا ہے اس کے مطابق دسمبر 1932ء میں ، ایک مرتبہ بس کے سفر میں اُن پر عجیب روحانی کیفیت طاری ہوئی اور یہ نام ذہن میں اُبھرا۔

پنجاب یونی ورسٹی لاکالج میں قانون کی تعلیم: چودھری رحمت علی نے دو سال تک پنجاب یونی ورسٹی لا کالج میں قانون کی تعلیم حاصل کی، مگر حتمی امتحان سے قبل بیمار پڑگئے اور سند حاصل نہ کرسکے۔

روجھان کے نواب مزاری کے قانونی مشیر: چودھری رحمت علی نے 1923ء تا 1930ء ڈیرہ غازی خان کی چھوٹی سی ریاست نما جاگیر، روجھان کے نواب مزاری کے قانونی مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

جداگانہ مسلم ریاست کے قیام کی مختلف تجاویز: خطۂ ہند کی ہندو ؍مسلم بنیاد پر تقسیم کا نظریہ مختلف انگریز رہنما اٹھارویں صدی سے پیش کرتے آئے تھے۔ مسلم عوام اورعلماء کی اکثریت کے راسخ عقیدے کے برعکس، سرسید احمد خاں ہندومسلم اتحاد کے پرچارک تھے، مگر اردو ہندی تنازع کے سبب، انہوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اَب اِن قوموں کا یک جا رہنا محال ہے۔ اس بِناء پر سہواً انہیں دو قومی نظریے کا بانی قرار دیا گیا، حالاں کہ اس نظریے کے اصل محرک، اعلیٰ حضرت احمد رضا خان تھے۔

{یہ بات متعدد تاریخی حوالوں، خصوصاً پروفیسر مسعود احمد مرحوم کی تحقیقی کتب اور اُس دور کے علمی جریدے ’السواد اعظم‘ کی مدد سے بارہا ثابت کی جاچکی ہے}۔ 1914ء میں ہندوستان کے دو اشتراکی بھائیوں عبدالستار خیری اور عبدالجبار خیری نے بھی ایک عالمی کانفرینس میں تقسیم ِ ہند کی تجویز پیش کی تھی۔ مگر اس ساری تفصیل سے قطع ِ نظر، چودھری رحمت علی سے قبل، کسی سیاسی رہنما نے اس قسم کا کوئی بیان کبھی نہیں دیاتھا۔ بقول ایف کے خان درّانی، (چودھری رحمت علی کے بعہد طالب علمی معاصر) اُس دور یعنی 1915ء کے لگ بھگ، ہندوستان کی تقسیم اور مسلم ریاست کے قیام کا خواب، اکثر طلبہ کے مابین موضوع بحث ہوا کرتا تھا۔

(کے کے عزیز کی تحقیق کے مطابق یہ صاحب اپنے کئی غلط بیانات کی وجہ سے قابل اعتبار نہیں، ممکن ہے انھوں نے چودھری رحمت علی کے سر سے سہرا اُتار کر، یہ معاملہ عمومی بناکر پیش کرنے کی کوشش کی ہوکہ ایسا تو ہر دوسرا آدمی سوچ رہا تھا پھر چودھری رحمت علی کا نام ہی کیوں لیا جائے)۔ چودھری رحمت علی کی تجویز کی پہلی تائید سردار گل محمد خان، صدر انجمن اسلامیہ، ڈیرہ اسمٰعیل خان نے 1923ء میں کی: ’’ہندوستان کے شمال مغربی حصے میں آباد، ہم مسلمان، ہندوؤں سے علیٰحدگی چاہتے ہیں۔

تئیس (23) کروڑ ہندوؤں کو جنوب کی طرف راس کماری سے آگرہ تک علاقہ دے دیا جائے اور آگرہ سے پشاور تک علاقہ چھَے (6) کروڑ مسلمانوں کے حوالے کیا جائے۔‘‘ (حکومت ِ ہند کی شمال مغربی سرحدی کمیٹی North-West Frontier Enquiry Committee] [ کے رُوبرو بیان۔ منقولہ پاکستان: دی فادر لینڈ آف دی نیشن صفحہ نمبر 215 از چودھری رحمت علی)۔ چودھری رحمت علی نے اس تجویز کا یوں تجزیہ کیا: ’’اس سادہ سے مسلمان نے یہ مطالبہ پیش کرکے اُن تمام مسلمان رہنماؤں اور تنظیموں کے مؤقف کو یکسر مسترد کردیا جو ہندو مسلم یک جہتی کے عَلم بردار تھے۔

انہوں نے مسلمانوں کی منفرد قومی حیثیت تسلیم کرتے ہوئے ہندوستان کی تقسیم کا مطالبہ کیا۔‘‘)پاکستان: دی فادر لینڈ آف دی نیشن صفحہ نمبر 215از چودھری رحمت علی(۔ ہندوستان کی مکمل آزادی کا نعرہ لگانے والے جری مجاہد، مولانا حسرت موہانی نے 1924ء میں مسلمانوں کے لیے، اندرون وفاق ِہند، بہتر اور محفوظ تشخص کا مطالبہ کیا (یعنی وہ ہندوستان کی آزادی کے خواہاں اور عَلَم بردار تو تھے، مگر کم از کم اُس وقت، مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے نعرے سے متفق نہیں تھے)۔:’’ہندوستان کو مکمل آزادی دی جائے نیز ہندوؤں اور مسلمانوں کی علیٰحدہ علیٰحدہ ریاستوں کا قیام عمل میں لایا جائے جو ایک وفاقی حکومت کے تحت ہو۔‘‘ (یعنی آزاد کنفیڈریشن: س ا ص)۔ چودھری رحمت علی نے اُن کی تجویز میں ترمیم کے باوجود اُنھیں ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا:’’وہ (حسرت موہانی) بے غرض، انقلابی، شاعر اور سیاست داں تھے جنھوں نے تمام عمر آزادی کی جنگ لڑتے ہوئے گزاری اور اپنی قربانیوں سے عوام کے لیے کی جانے والی خدمات کا معیار بلند کردیا۔‘‘

چودھری رحمت علی یہ سمجھتے تھے کہ مخلص رہنما حسرت موہانی کی آزاد وفاقِ ہند کی تجویز پر عمل درآمد کی صورت میں بھی اسلام آزاد نہ ہوگا، بلکہ ’’ایسا وفاق اسلام کے پاؤں میں زنجیریں ڈالنے کے سواء کچھ نہ کرے گا۔‘‘ اس اعتراض کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے چار وجوہ پیش کیں: ’’مسلم صوبوں کے مسلم ریاست کی شکل میں بدل جانے سے ہماری بنیادی حیثیت (یعنی اقلّیت) میں کوئی فر ق نہیں پڑے گا، چھَے مسلم اور سولہ ہندو ریاستوں کے وفاق پر مشتمل ہندوستان کے قیام سے، ہم ہمیشہ کے لیے محکوم ہوکر رہ جائیں گے، حسرت موہانی نے یہ بات تسلیم کی نہ اس کا اعلان کیا کہ (اُن کے نزدیک) مسلمان کوئی علیٰحدہ قوم ہیں۔

اس متحدہ یا مشترکہ قومیت کا مطلب یہ ہوا کہ ہم مسلمان بھی ہندوقومیت ہی کا حصہ ہیں، اور آخری نکتہ یہ کہ مرکزی حکومت میں غالب اکثریت ہندوؤں کی ہوتی۔‘‘ انگلستان روانگی، قیام اور پاکستان نیشنل موومنٹ کی تشکیل: یوں تو ہماری قومی وسیاسی تاریخ میں متعدد رہنماؤں نے قلیل یا طویل مدت کے لیے انگلستان میں قیام کیا اور وہا ں بیٹھ کر کوئی نہ کوئی علمی وسیاسی پیش رفت کی، کوئی کارنامہ انجام دیا یا اس کی پیش بندی کی، مگر تحریک پاکستان درحقیقت اسی انگلستان کی سرزمین پر پھلی پھولی۔ چودھری رحمت علی کی Pakistan National Movement ایک بھرپور عالمی تحریک تھی جس کا ذکر ہماری نصابی کتب میں نہیں۔ وہ30یا 31اکتوبر 1930ء کو انگلستان تشریف لے گئے اور یہیں عمانوئیل کالج، کیمرج [Emmanuel College, Cambridge]سے بی اے ، ایم اے اور ایل ایل بی آنرز حاصل کی۔

{وضاحت: یہ انگریزی لفظ کیمبرج نہیں ہے، کیونکہ اس میں ‘B’ساکن ہے}۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے ڈبلن یونیورسٹی سے قانون کی اعلیٰ تعلیم پائی، مگر یہ بات تحقیق سے درست ثابت نہیں ہوئی۔ (اس طرح کے تسامحات وِکی پیڈیا میں بھی موجود ہیں۔ وہاں تو یہ بھی درج ہے کہ چودھری صاحب کی یہ تحریک 1946ء میں شروع ہوئی، حد ہوگئی غلط بیانی کی بھی!)۔ ابتداء میں انھوں نے لندن کی گول میز کانفرنسز میں مسلم زعماء بشمول علامہ اقبال و قائداعظم محمد علی جناح سے ملاقات کرکے اپنا نظریہ پاکستان پیش کیا، مگر اُن کی طرف سے کوئی تائید نہ ملی۔

یوں 1933ء میں انھوں نے پاکستان نیشنل موومنٹ کی بنیاد رکھی۔ انھوں نے 28جنوری 1933 ء کو بروز عیدالفطر (یکم شوال ۱۳۵۱ھ) اپنا تاریخی پمفلٹ Now or Never شایع کیا جس کا اردو ترجمہ 1938ء میں کمالیہ کے زمیندار ظفر گوندل نے شایع کیا۔ انھوں نے ہندوستان بھر میں اپنے منصوبے کے پرچار کے علاوہ، دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کرکے ، نیز رابطے کرکے عربی، فرینچ اورجرمن زبانوں میں تحریک کا منشور عام کیا۔ وہ ہماری تاریخ کے واحد مسلم رہنما تھے جنھوں نے ہٹلر سے بھی تحریک آزادی کے لیے مدد طلب کی تھی۔

کیا علامہ اقبال اور چودھری رحمت علی کا منصوبہ ایک ہی تھا: اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے، مگر ماسوائے ایک آدھ محقق کے، سبھی نے غلوئے عقیدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یا سینہ گزٹ کو تاریخ سمجھ کر نقل درنقل کا فارمولا اپنایا اور یہ مشہور کرنے کی کوشش کی کہ علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباد [1930]کی تجویز کو چودھری رحمت علی کے منصوبے میں وسعت یا صراحت سے شامل کیا گیا۔

علامہ اقبال کی خطبہ ٔ الہ آباد(1930) والی تجویز پر بہت سے اہلِ قلم نے طبع آزمائی کی۔ چودھری رحمت علی اُن کے مداح ہونے کے باوجود، اپنی اسکیم کا اُن کی تجویز سے فرق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’پاکستان کا مطالبہ، علامہ اقبال کی تجویز سے بنیادی طور پر مختلف تھا۔ علامہ کی تجویز تھی کہ ہمارے پانچ مسلم اکثریتی شمالی صوبوں میں سے چار صوبوں کو ملا کر ایک اکائی بنایا جائے، مگر ہم نے اِن پانچوں صوبوں کو وفاق ِ ہند سے بالکل الگ اور خودمختار ملک بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔‘‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ہندوستان میں اس وقت تک نہ تو امن قائم ہوسکتا ہے نہ ہی مسلمان اپنی قسمت کے مالک بن سکتے ہیں، جب تک ہندو وفاق کے چکر میں غالب ہے۔‘‘ علامہ اقبال نے کئی مواقع پر اس پرچار کی تردید کی کہ انھوں نے پاکستان اسکیم کی حمایت کی ہے یا اُن کا منصوبہ بھی پاکستان کا حصول ہی تھا۔ اخبار ٹائمز، لندن کے مدیر کے نام، ڈاکٹر E. Thompson اور علامہ راغب احسن کے نام اُن کے مکاتیب میں واضح تردید موجود ہے۔

علامہ کاظمی کا لفظ پاکستان تخلیق کرنے کا فسانہ: علامہ سید غلام حسین شاہ کاظمی اسی دور کے ایک صحافی، کئی زبانوں کے عالم، قایم مقام مدیر روزنامہ زمین دار ودیگر اخبارات ہوگزرے ہیں۔ سید غلام حسین شاہ کاظمی کے نام مشاہیر کے خطوط: تدوین، مقدمہ اور حواشی وتعلیقات (مقالہ برائے ایم فِل) {از جناب ظہیر عباس، لیکچرراردو۔ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج، کوٹلی۔ آزادکشمیر، شعبہ اردو۔علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی، اسلا م آباد (پاکستان): 2019} نامی مقالے میں لکھا ہے کہ موصوف نے ۱۹۲۸ء میں اخبار کے اجراء کے اجازت نامے یعنی ڈیکلریشن کی درخواست دی جس کی منظوری ۱۹۳۵ء میں ملی۔ ہفت روزہ اخبار ۱۹۳۶ء تا ۱۹۳۸ء جاری رہا، پھر صوبہ سرحد کی کانگریسی حکومت اور ڈاکٹر خان صاحب کی ناراضی کے سبب بند ہوگیا اور کاظمی صاحب صحافت سے د ست کُش ہوکر تصنیف وتالیف میں مشغول ہوگئے۔ ایک بیان کے مطابق سید غلام حسن شاہ کاظمی نے یکم مئی 1936ء کو ہفت روزہ پاکستان، ایبٹ آباد سے جاری کیا۔

راقم کے 5جون 2011ء کے مضمون ’’لفظ پاکستان کا خالق کون۔چند معروضات‘‘ میں اس بارے میں کئی دلائل جمع کیے گئے جن سے اس دعوے کی تردید ہوتی ہے کہ لفظ پاکستان، چودھری رحمت علی سے پہلے، کسی اور نے ایجاد یا استعمال کیا۔ کے کے عزیز کی کتاب میں مزید تحقیق ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ اسی کتاب میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ کاظمی صاحب کا ہفت روزہ پاکستان، چودھری رحمت علی کی سرپرستی ونگرانی میں چلنے والی تحریک کا ایک عکاس یا پرچارک تھا، جبکہ 1938ء میں لکھنؤ سے بھی ایک ہفت روزہ جریدہ بعنوان پاکستان جاری ہوا۔

عظیم قائد کی بحالت کَس مَپُرسی، دیارغیر میں وفات وتدفین: اپنے وطن کے قیام کے بعد وہ مزید کچھ خواب آنکھوں میں سجائے یہاں تشریف لائے تو انھیں ہر طرح کی ایذا پہنچاکر واپس انگلستان روانہ کردیا گیا۔ 3فروری 1951ء کو ملت کے عظیم فرزند چودھری رحمت علی اس دارفانی سے کوچ کرگئے۔ تحریک پاکستان کے ممتازرہنما، نامورصحافی اور شاعر محترم حمیدنظامی، مدیر نوائے وقت (یکے از بانیان مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن) نے اپنے اداریے میں چودھری رحمت علی کی وفات پر انھیں یوں خراج عقیدت پیش کیا:’’چودھری رحمت علی برطانیہ میں انتقال کرگئے۔

مرحوم چودھری صاحب، تحریک پاکستان کے اولین خادموں میں شامل تھے، بلکہ فی الحقیقت پاکستان کے بانیوں میں سے تھے۔ ہمارے محبوب وطن کو پاکستان کا نام سب سے پہلے مرحوم چودھری صاحب نے دیا تھا۔ انھوں نے اپنی تحریک، پاکستان نیشنل موومنٹ کو کیمرج (انگلینڈ) میں بیٹھ کر اس طرح چلایا کہ بالآخر پاکستان ایک واضح حقیقت بن کر دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔ مگر یہ عمل قابل صدافسوس ہے کہ نہ پاکستانی قوم نے نہ اس وقت کی حکومت نے اُن کی قدر کی ہے۔ مرحوم چودھری صاحب، فی الواقع، ایک عظیم پاکستانی ہیں اور مؤرخ جب بھی پاکستان کی تاریخ لکھنے بیٹھے گا تو چودھری رحمت علی کی عظمت سے انکار نہیں کرسکے گا۔‘‘ (اداریہ، مطبوعہ روزنامہ نوائے وقت، لاہور۔ مؤرخہ سولہ فروری سن انیس سو اکیاون)۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here