یہ سارے ستارے سے ہم 300 نوری دوری سے دور ہیں جہاں سے کوئی ممکنہ خلائی تحفظ ہمارا مشاہدہ طلبہ نہیں ہے۔  (فوٹو: انٹرنیٹ)

یہ سارے ستارے سے ہم 300 نوری دوری سے دور ہیں جہاں سے کوئی ممکنہ خلائی تحفظ ہمارا مشاہدہ طلبہ نہیں ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

نیو یارک: کورنیل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے انکشاف کے بارے میں ایک دلچسپ تحقیق کی ہے۔ ” کائناتی پڑوس ” میں کم از کم 1،004 ممکنہ سیارے موجود ہیں جہاں خلائی اجزاء موجود ہیں سک اور جو شاید خاموشی سے دیکھ رہے ہوں۔

اس تبدیلی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ‘ناسا’ ” ٹرانزٹنگ ایگزوپلینٹ سروے اسٹیلائٹ ” (TESS) کے مشاہدات سے استفادہ کیا ہے۔ یہ مشن بطورِ خاص دوسرے ستاروں کے گرد چکر لگانے والی عبادت میں سیارے ڈھونڈنے والے ہی خلاء میں جا چکے ہیں۔

پچھلے دو سالوں میں یہ 74 فیصد آسمان کا مشاہدہ مکمل کرچکا ہے۔

جب ہم کسی سیارے کو دیکھتے ہیں تو ان کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ” عبور ” یا ” ٹرانزٹ ”۔ اس واقعہ میں ستارے کی روشنی چند گھنٹوں تک ہوتی ہے جو کچھ دن تک محدود رہتی ہیں ؛ اور پھر معمول پر واپس آجاتی ہے۔

ٹرانزٹ کا اصول استعمال کرنے کے بعد ہم دوسرے دشتوں کے گرد چکر لگانے والے ہزاروں سیارے دریافت کرچکے ہیں۔ لیکن یہ اصول تبصرے کے بعد درآمد شدہ رہتا ہے جب زیرِ مشاہدہ ستارے کا مستوی (ہوائی جہاز) ہمارا نظام شمسی مستوی کی سیدھ میں ہے۔

قدرتی جداگانہ الفاظ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی دوسرا ستارہ اور اس کے گرد گھریلو سیارے ہیں ، تو اس نظام کی شمسی پہلو میں ہوں گی ، پھر ہم اس ٹرینزٹ کی وجہ سے اس ستارے کی روشنی میں واقع ہوسکتے ہیں۔ موجودگی کا پتا رہ سکتا ہے۔

اگر ہم نظامی شمسی سے باہر ہیں ، تو ہم جیسی ذہانت اور ہم جتنی ہیں یا ہم اس سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ خلائ کی موجودگی میں موجود ہیں ، اور اس نے بھی کائناتی پڑھنے والے کھنگالنے والے ٹرانزٹ کا اصول استعمال نہیں کیا۔ دیکھ رہے ہو پائے گی یا نہیں؟

ملازمین کا کیا جواب تھا ، اس نے کورنیل یونیورسٹی کی ماہرِ فلکیات لیزا کیلٹیینیگر اور لیہائی یونیورسٹی کے جوشوا پیپر کو مشترکہ طور پر ” ٹیس ” کا ڈیٹا کھنگالنا شروع کیا۔

https://www.youtube.com/watch؟v=fJxDMD6SfMI

یہ معلوم ہوسکتی ہے کہ زمین سے 300 نوری سالی تک 1004 ستارے ہیں جن میں تین خصوصیات موجود ہیں:

  • وہ سب سب سورج ہیں جیسے ‘مین سیکوینس’ ستارے ہیں ؛
  • وہ ہمارے نظامِ شمسی کے مستوی (پلین) کی بالکل سیدھ میں ہیں ؛ اور
  • مل متوہ جلتا ماحول موجود ہے۔

یہ تینوں خصوصیات ہیں جن کی بنیاد پر ماہرین کا اندازہ ہوتا ہے کہ شاید اس ستارے کے حلقوں کا وجود ہی موجود رہتا ہے لیکن زندگی کا صرف وجود ہی نہیں ہوسکتا تھا جس میں ارتقاء منازل طیبہ کے بعد جتنی ذہانت اور ترقی کا دن ہوتا تھا۔

اگر ہم اس طرح ٹرینزٹ کا اصول استعمال کرتے ہیں تو ہم اسے تلاش کرتے رہتے ہیں۔

واضح ہے کہ صرف ایک مفروضاتی تجزیہ ہے ، جس کی وجہ سے لوگوں کو دریافت کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بادی النظر میں ملازمت کرتے ہوئے ماہرین نے اپنی ساری تحقیق کے بارے میں بتایا کہ ‘منتھلی نوٹسز آف دی رائل ایسٹرونومیکل سوسائٹی: لیٹرز’ کی ویب سائٹ پر 20 اکتوبر کے روز شائع بھی ہوچکی۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here