تصویر میں خواتین کے سر کا اوپر والا کاغذ اسپیکر نمایاں ہے جس میں لگ رہا ہے 56 اسپیکر 360 درجات میں آوازیں ہٹائیں۔  فوٹو: شیمزونیورسٹی آف ٹکنالوجی

تصویر میں خواتین کے سر کا اوپر والا کاغذ اسپیکر نمایاں ہے جس میں لگ رہا ہے 56 اسپیکر 360 درجات میں آوازیں ہٹائیں۔ فوٹو: شیمزونیورسٹی آف ٹکنالوجی

لائپزگ ، جرمنی: مصروف مقامات پر آواز پہنچنے کے لئے اب کاغذ نمایاں مٹیریل پر اسپیکر چھاپے کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ گول گول ڈائروں اور حلقوں کی صورت بھی دی جاسکتی ہے۔ “ماہرین نے ٹیپپر کا نام لیا ہے۔

جرمنی کی شیمنزیونورسٹی آف دی بارشوں کے بعد کے کاغذات کی طرح باریک ، مختصر اور ایک طریقہ سے نظر نہیں آرہی ہے۔ اب یہ اسپیکروں کے کاغذات کی طرح چھپ کر کے دستاویزات اور آواز کو خارج کرنے والے والدین کی شکل میں ہر جگہ مقصود ہیں۔ اس طرح فوری طور پر کسی جگہ پر بھی سراؤنڈ ساؤنڈ کو کو کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

اس طرح کسی بھی گھر میں یا ہال کوٹ میں بہت کم خرچ ہوتا ہے جس میں تفریحی اور تعلیمی مقام ہوتا ہے۔ اسی طرح عجائب گھروں اور ہوائی اڈوں پر خوبصورت چھلے ہوئے لوگ اسپیکر لگائے جاسکتے ہیں۔ 2015 میں اس جامعہ کی ذیلی تعلیم ، انسٹی ٹیوٹ فار پرنٹ اینڈ میڈیا ٹکنالوجی نے کام شروع کیا اور اس سے پہلے ٹی بک تیار کی تھی۔ اس کتاب میں الیکٹرونک سرکٹ تھا اور ہر صفحہ پل سے متعلق موضوعات کی آوازیں آتی ہے۔

ٹی بک کے بعد والے ماہرین نے ٹیپپر کام کیا اور بڑے پیمانے پر رول بھی بنائے۔ اس میں کاغذ نما پالیمر کی دو باریک پرتوں کو لے کر آئے اور اس کے درمیان ایک اور پرت لگائی۔ اس میں مختلف مٹیریئل کوٹ (ایک پینٹ) کا معاملہ چسپاں ہوا۔ دوسری بار لچکدار پنی نما مٹٰیریئل کو بطور سبسٹریٹ استعمال کر رہی ہے۔

اب تیار ہونے والے کسی بھی کاغذ میں چھپے اسپیکرز بھانپ نہیں رہے تھے لیکن تیزروشنی ڈالی کی وجہ سے اس کے اندر چھپی سرکٹ بت عبادت ہیں جو کسی بھی اسپیکر کی بات نہیں ہے۔ اس طرح کاغذ میں الیکٹرونک کی روح سمائی ہے اور اسپیکر کا 90 فیصد کاغذ ہے۔ اوپر کسی بھی رنگ کا ڈیزائن اور منظر چھاپا جا سند اور صرف ایک کاغذ کا وزن صرف 150 گرام ہے۔

چار میٹر میٹر کاغذ میں 56 جگہوں سے آواز آتی ہے اور وہ گولڈ ڈائرے کی صورت اختیار کرتا ہے۔ اب اس دائرے میں ہوکر ہوکر آپ ہر سمت سے آواز سن سکتے ہیں۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here