ایک نئی اور تازہ تحقیق سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ انسان کی آواز اور اس کے اشارے سے آگاہ ہے اور اس کی نظر اس کے دوست سے کھلی ہوئی ہے۔ یا دشمن۔

ہاتھی میں قدرت قدرتی طور پر اس کی آواز آتی ہے کہ وہ انسان کی آواز ہی نہیں ہے بلکہ صرف انسانوں کے اندر ہی پائی رہ جاتی ہے اور خود ہی خوشی ہوتی ہے اور خواجہ کو سمجھ نہیں آتی ہے۔ اور عمر میں بھی فرق کرلیتا۔

ہاتھیوں کے بارے میں بھی اس کا مشورہ ہے کہ یہ سب سے پہلے پیش پیش ہے جو خطرات سے دوچار ہے اور سونگھ بھی واقع ہے اور موقع ملنے والے بھی اس سے خطرہ نہیں ہیں۔ ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ کسی بھی طرح کے ایڈیشنل لوگ اس سے کم نہیں ہوسکتے ہیں ، لیکن ان کے سامنے یہ بات سامنے آتی ہے کہ حسن و جمال کا جائزہ بھی بہت دور ہے۔ آئینے میں خود کو دیکھتے ہو آپ کوکچھ پہچان بھی ہوسکتے ہیں۔

ایک نئی سائنسی تحقیق بھی انسانوں کے پہلوؤں پر مشتمل ہے ، جو انسانوں کو دیکھ رہی ہے اور یہ سنجیدہ ہے کہ اس گروپ کے لوگوں نے بھی عام طور پر انھیں دیکھا ہے۔ یہ واضح ہے کہ کسی شخص کے دوستی سے متعلق یہ دستاویزات موجود ہیں یا اس کی وجہ سے یہ مسائل پیدا ہوسکتے ہیں اور وہ اس کا دشمن بن کر سامنے آ جاتا ہے۔ چناں چہ اس اہم موقع پر اس نے انسان سے بچنا حکمت عملی اختیار کیا تھا اور اس جگہ سے بھاگنے کی تیاری شروع ہوگئی تھی اور وہ بھی کسی لڑکے سے یا اس جگہ سے باہر نہیں نکل پائے جاتے تھے جس سے وہ عافیت سمجھتے تھے۔

نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی کاروائیاں شائع ہونے والی ایک تازہ ترین ریاست کے محقق شناسی کے بارے میں جائزے کے مطابق ، انسانی آواز کی حد تک صرف افریقی ہاتھیوں کا وجود موجود ہے جو انسانوں کے جذبات اور خیالات کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ “کیا ہوا وہ دوست اور دشمن کا تمیز بھی سکھاتی ہے یا نہیں۔ اور کیا انسان کی آواز سن کر ہاتھی کی جنس اور عمر کے انداز میں بھی لگاسکتے ہیں یا نہیں۔ برطانیہ اور کینیا کے محقق کی ایک ٹیم نے امبوسیلی نیشنل پارک میں موجود لوگوں کے بارے میں 47 مختلف فیملی گروپس کا ایک تحقیقی مطالعہ کیا محسوس کیا ہے جو انسان کے شیروں کے مقابلے میں ہاتھیوں کے لئے زیادہ خطرات کا باعث ہے۔ مختلف واقعات

پھر یہ بھی خطرات کی نوعیت الگ الگ اور مختلف اقسام کی تھی۔ یہ انسان کے مختلف گروپوں کے الگ الگ لیولز کے خطرات سے دوچار ہیں۔ اس تحقیق سے متعلق مصنفین نے لکھا ہے:

” ماسائی قبیلوں کے گلہ بان ، گڈری اور چرواہ کبھی کبھار جب صرف اس کے ساتھ ہی رابطے میں آرہے تھے جب ان کے جانوروں کو چارگاہوں میں دریا کے کنارے تک رسائی حاصل تھی۔ کبھی کبھار ماسائی قبیلے والے افراد کے پیچھے رہ جانے والے عمل کے دوران اس قبیلے کے لوگوں کو بھی راستہ مل جاتا ہے۔ ”

اس بربکس کمبہ قبیلے کے افراد جو زیادہ سے زیادہ امن اور زرعی کلچر کے حامل ہیں ، یہ افراد نیشنل پارک کے اندر موجود ہاتھیوں میں سے کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے جب کبھی اس کے درمیان کوئی تیار فصل تھی۔ کوئی جھگڑا یا تنازعہ کھڑا نہیں ہوا تھا ، وہ بھی نیشنل پارک سے باہر ہی اس میں جھگڑے میں زیادہ تر ہاتھیوں کی جگہ ہاتھنیاں شامل تھیں اور اس میں حصہ بھی لیتی ہے۔

ماضی کی حالت میں ایک مستند ریسرچ نے بھی اس کا سراغ لگادیا اور تنازعے کے دوران ہاتھیوں نے ماسائی قبیلے کے لوگوں کو لباس پہنایا جس کی وجہ سے وہ لباس پہنے ہوئے تھے۔ اس طرح وہ مسائی قبیلے والے لوگ لال یا سرخ رنگ کے لباس پہنے ہوئے تھے اور اس کے رنگ سے اس کی رنگت ہوتی ہے ، جیسے اس نے سرخ رنگ کے لباس پہن رکھے ہیں۔

اس ساری ریسرچ سے ماہرین نے یہ نتیجہ نکالا کہ ہاتھیوں نے ماسائی اور کمبہ قبیلوں کی عورت اور مرد اور نوجوان لڑکے کی آواز کی ریکارڈنگ سنجیدگی کے بعد ان کا واضح فرق یا امتیاز بھی بہت تھا۔ مثال کے طور پر جب ہاتھیوں نے ماسائی بالغوں کو پلے بیک کی آواز سنی تو وہ زیادہ سے زیادہ دفاعی انداز میں آگئے اور جب انہوں نے کمبا قبیلے کی آوازیں سنیں تو وہ بڑے محتاط انداز میں آگے بڑھ رہی تھی اور وہ سونگھ سونگھ قدم آگے بڑھ رہے تھے۔ ۔ اس کے ساتھ ہی وہ بالغ مرد افراد کے ساتھ پورے شہر میں رہتے تھے ، جب وہ بالغ ماداؤںی گاؤں ہوتے تھے اور اس سے زیادہ ڈرامہ بھی ہوتا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ اس کا بڑا احترام ہوتا تھا۔

ادھر ان سبھی ہاتھیوں نے بھی اس کی طرح کی جنس کی طرح کا انداز بھی لکالیا تھا ، جب وہ نرس تھی یا ماد جبہ ، جب اس کے بھائیوں یا والی کی اصل آواز تک ریکارڈنگ تھی اس کے بعد آلٹر ہکر ویچی تھی اور وہ خاصی تبدیلیاں بھی رکھتے تھے۔ ۔ اس کی وجہ سے ہاتھیوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسی طرح کی ریسرچ یا تحقیق کا واقعہ بھی سامنے آگیا ، یہ ایک بڑی عمر کا شاہ مادر یا لیڈر ہتھنیاں اس کام میں بھی بہت مہارت والا تھا جو مختلف خطوں میں فرق یا تمیز کرلیٹی اور ماسائی قبیلے کے لئے خطرہ ہے۔ نوجوانوں کی آوازیں بڑی خوبی اور مہارت کے ساتھ سمجھتے ہیں۔ اس اسٹیڈیڈی میں شامل تمام محقق کے بارے میں مطالعہ بھی نوٹ کیا گیا تھا کہ اس میں ایک شیروں کی پلے بیک گرج جب اس کے بعد کا کوئی ذریعہ موازنہ تھا اس میں ان کی بڑی واضح دفاعی حکمت عملی آئی آئی شامل تھی۔ مصنفین نے یہ بھی نوٹ کیا تھا کہ جب اس نے انسانوں کو انسانیت سے دوچار کردیا تھا تو اس نے حملہ کیا تھا۔

ہاتھیوں کے بارے میں یہ بھی ایک بہت ہی درد کی طبیعت کا مالک ہے ، لیکن اگر کبھی انسان کو تکلیف نہیں ہوتی ہے تو وہ اس کی مدد کرتا ہے۔ فوری طور پر تیار ہونے والے مشاعرے بھی کر رہے ہیں۔ ہاتھی کا جسامت اور سائز میں بڑے پیمانے پر امید ہے۔

اس کے دودھ میں نرمی اور محبت کرنے والا بھی ہے۔ یہ کبھی بھی کسی انسان کے ساتھ پیار اور محبت کے بونڈ میں بند راہ نہیں ہے تو پھر ساری زندگی اس پیار کو نبھ عبادت ہے۔ اکثر ہاتھیوں کے بارے میں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انسان کبھی کوہہی نہیں ہوتا ہے ، لیکن کبھی انسان کی مدد نہیں کرتا ہے کہ وہ قربانی اور ایثار کا عملی واقعہ ہے۔

ہاتھیوں کو ہر زمانے میں اور خاص طور پر ہر مشکل وقت میں انسانوں کے حیرت انگیز انداز سے مدد ملتی ہے اور بعض اوقات آپ کو کوکیٹ میں بھی خطرہ ہوتا ہے۔ لیکن اس کے پیش نظر صرف انسانوں کی خوشحالی تھی۔ صرف انسانوں کی ہی قبیلہ نہیں ہے یا غول کی بہبود اور بہت کچھ بھی خیال ہے۔ انسان اور ہاتھی کی دوستی تو چلی آرہی ہے اور شاید ابد تک نہیں ہوگی۔ جس طرح ہاتھی انسان سے پیار ہوتا ہے ، بالکل اسی طرح انسان بھی ہاتھیوں پر ہوتا ہے ہر وقت جان جان نچھاور کو تیار رہتا ہے۔

معتکف ماہر اور ہاتھیوں کی تحقیق کے بارے میں ڈاکٹر وکی فش لاک تو افریقی ہاتھیوں کے ساتھ عشق میں مبتلا ہو گئے۔ ہاتھیوں سے محبت اور اس کی خوشحالی کا خیال رکھنا ان کی زندگی کا سب سے بڑا خواب تھا۔ شاید اسی طرح 2011 میں کینیا کے امبوسیلی نیشنل پارک میں ہاتھیوں کے ایک تحقیقی مطالعے میں حصہ بھی لیا تھا اور اس کی کمپنی سے ہاتھیوں کو اہم ترین معلومات حاصل تھیں۔

ایک روز علی الصبح ڈاکٹر صاحبہ کو خبر ملی ہے کہ ایک ہاتھی کا بچہ پارک باہر کسی کنوؤں میں گر گیا ہے۔ پھر اس مسئلے پر کچھ دیر نہیں ہوگی۔

اس کے بعد یہ الجھن مزید بڑھتی ہوئی اور بھی پیچیدہ ہوسکتی تھیم۔ دوسری پریشانی یہ بھی ہے کہ ہاتھیوں نے رکھوالے اس کی کناں پر پہونچ لیا تھا اور دیکھتے ہو کہ اس کی ہاتھی بچے کی ماں کے ڈر سے بھاگ رہی ہے ، لیکن اگر وہ ہاتھیوں کے رکھوالے میں ہاتھی کے بچے کی ماں تھیں ، تو وہ اس سے پہلے ہی اس کی بات نہیں کر سکتی تھی۔ ہاتھی کے ہر جان سے بچنا مشکل ہوسکتی تھی ، کیوں کہ وہ بے چارہ بی بی پہلے کسی حد تک پریشان اور سہما ہوا تھا۔ چناں چہ ڈاکٹر فش لاک اپنی ٹیم کے دو ارکان کو لے کر رہی تھیں اور ایک جیپ میں سوار ہوکر جلدی سے اس کتنوں کے ذریعہ روانہ ہوئے تھے جہاں اس کا واقعہ پیش آیا تھا۔

ڈاکٹر فش لاک پوری امید کی تھی کہ ابھی تک اس کی ماں کو اس جگہ سے دور نہیں جانا پڑا۔ لیکن جس وقت ڈاکٹر فش لاک اس مقام پر پہنچتے ہیں ، اس وقت وہ منظر نامہ نہیں آتا تھا جہاں اس کا امکان زیادہ مشکل ہوتا تھا۔ ڈاکٹر فش لاک اور ان کی ٹیم کے ارکان یہ دیکھ رہے ہیں کہ جان جان جان کی ماں ہاتھنی زومبی اس کنوینز کے چاروں طرف لڑکے کی پوجا پاؤں سے گھوم رہی تھی۔ اس کا بچ بچہ ابھی تک کچھ نہیں تھا اور اس کے اندر مٹی کے ڈھلوان تھے اور مسلسل جنگلات تھے ، لیکن اس کی ماں ہتھھنی زومبی بہت خوف زدہ تھی اور رہائش پذیر بھی تھی۔

ہاتھی اس کرۂ ارض پر سب سے زیادہ طاقت ور اور سب سے زیادہ بھاری بھرکم ممالیہ ہے ، اس کے سونڈ سے 600 پاؤنڈز تک وزن حاصل ہوسکتا ہے۔ یہ طاقت ور اور بھاری بھرکم ممالیہ ہے ، اسی طرح کی ماں ہتھھنی زومبی کو کوٹ نہیں دے سکتی ہے۔ وہ کنواں اور اس کتنوں پر موجود ہاتھنی اور اس کے معمولی اور متعدد لوگ موجود تھے جن کو ریسکیو کا مشن ممکن نہیں تھا۔

“فش لاک کو اندھیرا سے دور آنے کی ہر ممکن کوشش ہے ، اس کی ماں ہتھھنی زومبی بپھر ہے اور اس کی زندگی کے ساتھ اس کی عملے کی زندگی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ وہ کافی دیر تک اس واقعی پر غور کرنے والی اکثریت اور آخر کار ریسکیو ٹیم جیپ سے آگے بڑھ رہی ہے اور مختلف آوازیں محسوس کرتی ہیں کہ ہتھھنی کو ڈرایا ہے اس پر جیپ چھاڑادیں گے لیکن اس کی ماں ہتھنی زومبی جگہ سے پہلے نہیں ہے۔ اس سے بھی زیادہ استقامت کے ساتھ جم کر کے بھی ساتھ ہی واقعات پیش آتے ہیں۔

یہ دیکھ کر ڈاکٹر فش لاک کوئی وحشی ہے ، اس طرح کی ہٹیھنی پر چیچی اور ڈرانے والی آوازیں تشریف لے گئیں۔ اس کی جیپ کی انجین کو فلٹر ریسک بھی ہے جس سے انجن بری طرح سے غریب ہوگئے ہیں ، یہ دیکھ کر ہتھنی ماری اور پلٹ کر بھاگنے لگی ہیں۔ اب ڈاکٹر فش لاک کی ٹیم کے ارکان نے اسے سنبھالا سے دور رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ، اس سے پہلے وہ اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ان کا ریسکیو پلانٹ تین اقدامات پر تھا:

ہپہلا قدم تھا وہ جیپ کے بمبار پر ایک رسی باندھ امید ہے۔

سدوسرا قدم یہ تھا کہ وہ ہاتھی کے جسم پر رسی باندھ امید ہے۔

٭ تیسرا قدم تھا وہ جیپ کو پوری رفتار سے ریورس گیئر میں چل رہا تھا۔

یہ ظاہر ہے کہ یہ کام آسان نہیں ہے۔ اس کی رسی کو کو پھیلانا بھی چھوٹی جاگتی دستاویز نہیں تھی ، کیوں کہ وہ خود ہی اپنی ماں کی طرف جارہی ہے اور اس پر زور دیا گیا تھا کہ وہ نجات دہندوں کے پاس نہیں ہے۔

اس نے دھینگا مشٹی میں ہاتھیوں کو زور سے مارا اور خود کو بچا لیا۔ وہ بہت پریشان بھی تھا اور اس کی سمجھ میں بھی نہیں تھا۔

آخر ڈاکٹر فش لاک پیر کا دباؤ ڈالا اور جیپ کا ایکجنٹر پہاڑ کا دباؤ ڈالا اور جیپ کا انججن پہاڑ ہوا ہوا گرجا جس کے ساتھ ہی جیپ بھی اچھلٹی کے پیچھے آگیا جس کے ساتھ وہ بھی ہاتھی کا بچا تھا اور اس کا منہ بھی باہر سے نکل گیا تھا۔ ہوا کی طرف جانے والا تو فاتحانہ نعرے لگائے۔ لمحوں میں وہ کناں سے باہر تھا۔

ماں ہتھنی خوش تھی تھی ، لیکن بے چارہ حواس باختہ بھی تھی ، اس نے اس کو خوش آمدید کہا ، اس کی آنکھوں میں آنکھیں بھی نہیں تھیں۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here