کمپنی نے تین ماہ تک گوشت چھوڑ دیا ہے خوش نصیب کی ایک فصل کا نقشہ کا اعلان کیا ہے (فوٹو: فائل)

کمپنی نے تین ماہ تک گوشت چھوڑ دیا ہے خوش نصیب کی ایک فصل کا نقشہ کا اعلان کیا ہے (فوٹو: فائل)

لندن: کچھ لوگوں کی صحت کی وجہ سے یا ماحول دوستی کی وجہ سے سبزی خور مشقیں ہوتی ہیں لیکن کسی کمپنی کو اس کی عادت کو ترک کرنا ہوتی ہے۔

برطانیہ میں غیر حیوانی اجزا سے کھانا تیار کرنے والی کمپنی ‘واائبرینٹ ویگن’ کے ذریعہ سبزیجاتی کھانوں کی مشوری میں 50 ہزار سالانہ پاؤنڈ یعنی 68 ہزار ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔ یہ انعام مسلسل گوشت خور کو دیا 90 روزہ تک پہنچتا ہے ناگہ صرف سبزیوں پر۔ اس طرح کی رقم پاکستانی روپیہ میں ہے۔

اس سے پہلے 1500 گوشت خور جماعتیں اور مریضوں کا سروے کیا ہوا تھا اور اس کے بعد اس کا متنازعہ اعلان ہوا تھا کہ وہ ‘گوشت چھوڑ کر سبزی کھا رہے ہیں۔ ‘ کمپنی کے مطابق خود لوگ بھی سب سے زیادہ لوگوں کو کھانے پینے میں تلاش کر رہے ہیں اور سنہ 2020 ء میں سال 2020 ء میں اس میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 2014 ء میں غیر منافع بخش کاروبار کا آغاز ہوا جس کے بعد بالخصوص برطانیہ میں دنیا بھر میں سبزیوں کے لوگوں کی طلب ، تلاش اور کھپت میں بھی اضافہ ہوا۔ قبل ازیں ریستوران نے جنوری کی مناسبت سے ‘ویگنوری’ کا اعلان کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ماہ (جنوری) میں لوگوں میں گوشت کی سبزی کھلی ہوئی ہے اور اب تک 50 ہزار افراد اس تجویز کو قبول کرلیتے ہیں۔

لیکن اب رگبت سے گوشت پینے والے افراد میں خطیر رقم کا انعقاد ہوتا ہے۔ اس کے ہزاروں درخواست گزاروں میں سے کسی کو منتخب کردہ کمپنی کا نمائندہ بنایا جائے گا اور باقاعدہ معاہدے پر دستخط ہوں گے۔ اس کے بعد 90 روزہ تک گوشت نہیں کھانا اور ترغیبی ویڈیو میڈیا پر پوسٹ کرنا ہے۔ اس دوران کمپنی سبزیوں کو کھانا مہیا کرتی ہے اور وہ سبزیوں کی مصنوعات کی تشخیص بھی کرتا ہے۔

اگر تین مہینوں میں ہی سبزی کھانے پینے لگیں تو وہ 2021 ء میں سالانہ سبزیوں کے پاس گزارا کرنے کی درخواست دیتے ہیں۔ اس کے بعد بھی انعام کے طور پر اس کی پوری زندگی ایک لاکھ پونڈ مالیت کی سبزیوں کی مفت فراہمی کے لئے جانا ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here