ملک کے زیر نگرانی اشیا کی ضرورت اور دستیابی اور قیمتوں پر قابو پانے کے بارے میں جائزہ اجلاس ہوا (فوٹو ، فائل)

ملک کے زیر نگرانی اشیا کی ضرورت اور دستیابی اور قیمتوں پر قابو پانے کے بارے میں جائزہ اجلاس ہوا (فوٹو ، فائل)

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے اس وقت کہا تھا کہ معاشی اعشاریوں نے معاشی میدان میں اس کی پیش کش کی ہے اور معاشی میدان میں اس کی پیش کش کی جارہی ہے۔

ملک کے زیر انتظام اشیا کی ضرورت اور دستیابی اور قیمتوں پر قابو پانے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا۔ اجلاس کوئٹہ سیکریٹری پنجاب نے گندم اور چینی صوبے میں دستیابی اور قیمتوں کے بارے میں بتایا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ آٹے کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے تمام ضلعی انتظامیہ کے افسران مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ فلور ملز مالکان سے مشورہ کرنے والی چیز ہے۔ سیکریٹری پنجاب کا یقین ہے کہ یومیہ 25،000 ٹن گندم کی پسائی اور مارکیٹ میں دستیابی کو کوشاں ہے۔

وزیر اعظم نے صوبوں کو ہدایت کی کہ وہ خود بھی حاضر رہیں اور چینی کی صورتحال پر مسلسل نظر آئیں اور اس کے بارے میں پیشگی انتظامات کو یقینی بنائیں۔ درآمد شدہ چینی ملک کے مختلف حصوںوں میں ترسیل کے انتظامات کوٹ کوٹ کیا جا رہا ہے ، جس پر کسی تاخیر کا شکار نہیں ہوا۔

سیکریٹری خیبر پختونخواہ کے اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبہ کے اس وقت یومیہ 11،000 ٹن گندم کی کھوپڑی اور 11 لاکھ ٹن اسٹاک میں موجود واقعات تھے جن میں فلور ملز کی 10 سے 50 فی صد 20 کلو تھیلی کمی واقع ہوئی ہے۔ کی آمادگی ظاہر ہو رہی ہے۔ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے بعد 2400 ایف آئی آر درجے کی ہیں۔ سیکریٹری یقین دہانی کرائی ہے کہ صوبائی حکومت کی 5000 ٹن یومیہ گندم کی ریلیز بنائ ہو گی۔

اس مقصد کی نشاندہی اور قیمتوں کا تعی صوبن صوبہ اختیار کسی غریب لوگوں کی سہولت سے متعلق ہے لیکن خود اس امر کی نگرانی کو حکومت کی طرف سے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔



Source by [author_name]

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here