عالمی کمپنی نے بولی والے کے پاس اشارہ کی زبان میں ڈجیٹل کرداروں سے نمٹنے کے لئے سافٹ ویئر تیار کیا۔  فوٹو: فائل

عالمی کمپنی نے بولی والے کے پاس اشارہ کی زبان میں ڈجیٹل کرداروں سے نمٹنے کے لئے سافٹ ویئر تیار کیا۔ فوٹو: فائل

لندن: اب سماعت ہونے والے افراد سے ایک نئی فارم بنائی ہوئی ہے جس سے بولی جانے والے افراد کی تعداد ایک ویڈیو ماڈل یا ڈیجیٹل اوتار سے ظاہر ہوتی ہے۔ اس طرح کے بہت سارے تاثرات انداز میں سماعت اور بصارت سے تعلق رکھنے والے افراد تک ان کی بات پہنچ جاتی ہے۔

برطانیہ میں مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) یا اے آئی سے وابستہ کمپنی نے سافٹ ویئر بنایا ہے جو نیورل نیٹ ورک کی طرز پر کام کر رہا ہے اور ڈجیٹل کردار تخلیق ہے۔ یہ کوئی گفتگو نہیں ہے سائن لینگویج (اشور کی زبان) اداکاری کرنے والوں کو ڈجیٹل اوتار سے ویڈیو کی صورت میں پیش آرہی ہے۔

اس طرح عین حقیقی تصاویر والی ویڈیو ظاہر ہوتی ہے اور اس کا اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی ماہر نہیں ہوتا ہے۔ اس عمل سے لوگوں کو حقیقی وقت ملتا ہے۔ ایک وقت میں بہت سے افراد کی ویڈیو دیکھ سکتے ہیں۔

اس اہم پروجیکٹ میں یونیورسٹی آف سر کے بین سینڈرز اور ان کے ساتھیوں کو نیورل نیٹ ورک نہیں بنایا گیا جس کو بولوں نے اشارے کی زبان میں تبدیل کردیا۔ اس کے بعد سائن ایج کمپنی نے اسے انسانی ڈھانچہ اور تھری ڈی ماڈل بنایا ہے۔ ایک اور ٹیم اشوروں کی حقیقی زبان کے مواد اور تصاویر پیش کرتی ہے۔

اس سے پہلے بھی گائگ نے ویڈیو کال کے دوران سائن لینگویج کا انکشاف کیا تھا لیکن یہ بعض اوقات خامنوں کی زندگی کے باوجود سائن ایج کا نیا علاؤدھم بہت بہتر ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here