انٹارکٹیکا کی گرمی کی ہوا دریا بہہ رہی ہے اور اس سے برف سے پگھلنے جارہے ہیں۔  فوٹو: نیوسائنٹسٹ

انٹارکٹیکا کی گرمی کی ہوا دریا بہہ رہی ہے اور اس سے برف سے پگھلنے جارہے ہیں۔ فوٹو: نیوسائنٹسٹ

ابو ظبی: انٹارکٹیکا سے ایک عجیب خبر آ گئی ہے کہ وہاں گرمی کی ندی ہو رہی ہے اور پھر اس کا شدت سے جگہ جگہ برف پگھل رہ گئی ہے۔ اس طرح وہاں برف سے جلدی ہو رہی ہے۔

اس طرح کسی بھی دریا کی طرح گرمی کی ہوا تھی ، انٹارکٹیکا سمندر پر کسی پپیری کی طرح جمی برف والے گھروں میں بھی کافی خلائیاں موجود تھیں۔

عموماً سمندری طوفان بھی اس کی وجہ سے جنوری ‘پولنیا’ کا مشورہ دیتے ہیں۔ اب تک سینکٹر کلومیٹر اور وسیع پیمانے پر دیکھے جاتے ہیں۔ لیکن اب تک سائنسداں یہ جانتے قاصر ہیں کہ کبھی سمندری طوفان کبھی برف باری نہیں کرتے اور کبھی بھی کوئی عبادت اور خدمت گزار نہیں ہوتے ہیں۔

ابوظہبی واقعی خلیفہ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیانا فرانسِس پرامید ہیں کہ اس نے اس سوال کا جواب ڈھونڈ لیا۔ اس سیٹلائٹ تصاویر اور کلائمیٹ ڈیٹا کا بغور جائزہ لیا گیا۔ اس کے 1973 سے لے کر 2017 تک ویڈال سمندر میں پولنیا بننے کے بڑے واقعات پر غور کیا گیا۔

تحقیق سے انکشاف ہوا ہوا ہے اور پانی کی بخارات فاصلوں تک پہنچ رہی ہیں جنوری ‘فضائی دریا’ سے رابطہ کیا گیا ہے۔ ایک ہی دریا 2017 میں جنوبی امریکہ سے ہونے والی چھاپوں اور والڈل سمندر تک آپہنچا۔ پھر دوماہ سے پہلے ستمبر میں وڈل سمندر میں ہوا کا درجہ حرارت حرارت یکدم 10 درجے کی سینٹی گریڈ میں بڑھ گیا تھا۔

اس سے برف کی کمزوری ہوئی ہے اور اس کے بعد طوفانوں نے مزید طوفان برپا کردیا ہے۔ لیکن ڈیانا کہتی ہیں کہ فضائی دریا سمندری طوفانوں نے مزید گرمی کا سامنا کیا ہے اور اس کے مابین باہمی تعلقات مضبوط ہیں۔

آب و ہوا میں تبدیلی (کلائمٹیٹ چینج) اس کی ذمہ داری دار ٹھہرایا گیا ہے۔ یہ ہیرو گھولٹی سمندر کے کھلونوں کا علاج ہے اور مزید برف پگھلنے کا سلسلہ جاری ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here