تصویر میں ماسک پہنی گائے باقی گایوں کے مقابلے میں 60 فیصد کم میتھین خارج کرتی ہیں کیونکہ یہ ماسک مضر گیس کو تعدیل کردیتا ہے۔ فوٹو: زیلپ کمپنی

تصویر میں ماسک پہنی گائے باقی گایوں کے مقابلے میں 60 فیصد کم میتھین خارج کرتی ہیں کیونکہ یہ ماسک مضر گیس کو تعدیل کردیتا ہے۔ فوٹو: زیلپ کمپنی

 لندن: آب و ہوا کی تبدیلی (کلائمیٹ چینج) کو روکنے کےلیے ایک اور طریقے پر ماہرین نے اب گائے کے منہ پر ماسک لگانا شروع کردیئے ہیں۔ گائے ڈکارنے پر اس کے منہ سے میتھین گیس کی بڑی مقدار خارج ہوتی ہے جو ماحول میں شامل ہوکر گلوبل وارمنگ کی وجہ بن رہی ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ ماسک گائے کی ڈکار سے پیدا ہونے والی میتھین کی 60 فیصد مقدار کو ختم کرسکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر سائنسدانوں کا خیال ہے کہ دنیا میں خارج ہونے والی میتھین کی 37 فیصد مقدار کا تعلق گائے کے ریوڑ اور باڑوں سے ہے۔

سائنس سے ثابت ہوچکا ہے کہ میتھین ایک خوفناک گرین ہاؤس گیس ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بھی 21 گنا زیادہ حرارت کو ماحول میں روکے رکھتی ہے۔ اس طرح کرہِ ارض پر درجہ حرارت بڑھانے میں اس گیس کا خاص کردار ہے۔ گائے اپنے جسم سے خارج ہونے والی 95 فیصد میتھین اپنے منہ اور نتھنوں سے خارج کرتی ہے۔

برطانیہ کی زیلپ نامی کمپنی نے یہ ماسک بنایا ہے جسے گائے کے منہ پر بہت سہولت سے باندھا جاسکتا ہے۔ اس ماسک کے اندر لگے خاص اجزا میتھین گیس کی بڑی مقدار کو آکسیڈائز کرکے ماحول دوست سالمات میں تبدیل کردیتے ہیں۔ اس طرح گائے کو ’’ماحول دوست گائے‘‘ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

ایک فارم میں بہت سارے مویشیوں کو لگانے کے بعد میتھین گیس کے اخراج میں 53 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here