گائے انسانوں سے براہ راست بات خوشگوار ہے۔  فوٹو: فائل

گائے انسانوں سے براہ راست بات خوشگوار ہے۔ فوٹو: فائل

ویانا ، آسٹریا: سائنسدانوں نے کسی فارم میں موجود گائوں کی نفسیات بت پرستی کے بارے میں ویڈیو کال ، لاؤڈاسپیکر یا ریکارڈنگ کی براہ راست براہ راست بات کی تھی۔

آسٹریا سے آئی ایس تحقیق کے ویڈیو کالے خود بھی گنی بھی اتنی ہی چڑتی ہیں جن کو ہم بیزار کرتے ہیں۔ اس طرح ضروری ہے کہ کسی فارم کے جانوروں سے براہ راست راست بات ہو۔ ویانا یونیورسٹی آف ویٹرنری ڈیسن انیکا لینج کی بات ہے کہ اگر مصنوعی جسمانی رابطے ہیں تو جانوروں پر بھی اثر نہیں پڑتا۔

پالتو جانوروں میں گائے کی ضروریات ہیں اور مختلف آوازیں دور ہوجاتی ہیں۔ اس مخصوص فری کوئنسی پر ہماری باتیں بھی ہوتی ہیں۔ اگر انسان گائے کوئی نام نہیں ہے تو وہ اس کے کان دھرتی ہیں۔ اگر اس کے مالک سے بات ہو تو وہ بہت خوش ہوتی ہے۔

انیکا نے اس تحقیق فرنٹیئرس ین سائیکولوجی میں شائع کرائی ہے۔ اس تحقیق میں 28 گائوں پر تجربات ہوتے ہیں۔ اس میں براہ راست باتیں کی گواہی اور ریکارڈنگ سنائی گوا کی بات ہے۔ لیکن وہ انسانوں سے نہیں ہے جو براہ راست بات کرتے ہیں جو خوش رہتے ہیں اور جواب دیتے ہیں گردن ہلائی جو دوستانہ رویہہ ظاہر ہوتا ہے۔

اسی طرح گائے کے کانوں کی طرح نظر آرہی ہے جو اس سے بہتر موڈ کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس طرح ثابت ہوا ہوا سے براہ راست راست باتیں کرتے جائیں تو بہت خوشی ہوتی ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here