جی این - زیڈ 11 نامی یہ بات ظاہر ہے کہ 'دُبِّ اکبر' کہلانے والے آسمانی جھرمٹ کی سمت میں واقع ہیں۔  (فوٹو: ناسا / ای ایس اے / کیک ٹیلی اسکوپ)

جی این – زیڈ 11 نامی یہ بات ظاہر ہے کہ ‘دُبِّ اکبر’ کہلانے والے آسمانی جھرمٹ کی سمت میں واقع ہیں۔ (فوٹو: ناسا / ای ایس اے / کیک ٹیلی اسکوپ)

ہوائی: سائنسدانوں نے ایک عالمی ٹیم کا اعلان کیا تھا کہ اس نے کائنات کی قدیم ترین بات کا انکشاف کیا ہے جو آج سے 13 ارب 40 سال پہلے کے وجود میں آچکی تھی ، یعنی بگ بینگ صرف 40 سالوں کے بعد!

یہ بات سائنسدانوں نے ” جی این – زیڈ 11 ” کا نام نہیں بتائی ہے۔ ” دُبِّ اکبر ” (عرسا میجر) ” وہی آسمانی جھرمٹ کی سمت واقع ہوئی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ ہم 13 ارب 40 سالوں تک چل رہے ہیں لیکن یہ طویل عرصے تک ہم سے اور اس سے بھی دُور ہوچکی ہے۔

محتاط انداز کے مطابق ، اس وقت ہمیں تقریباً 32 ارب نوری سال دور سے پتہ چلتا ہے۔

ویسے تو ” جی این – زیڈ 11 ” کوالٹ میں ہبل خلائی دوربین سے دریافت کیا ہوا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ روشنی میں غیر معمولی ہے ” سرخ منتقلی ” (ریڈ شفٹ) کو مدنظر دیکھا گیا تھا۔ شاید یہ اب تک دریافت ہے اور قدیم اور سب دور سے ظاہر ہے۔

البتہ اس خیال کی تصدیق کے بارے میں مزید معلومات اور حساس مشاہدات کی ضرورت تھی جنوری کو مکمل طور پر مزید تین سال لگنا پڑتا ہے۔

سوئٹزرلینڈ ، امریکہ ، چین اور جاپان کے ماہرینِ فلکیات پر عالمی ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ریاست ‘ہو’ میں ” کیک ” (کیک) خلائی دوربین جدید دور کے آلات سے پتہ چل رہی ہے کہ ایک بار پھر مطالعہ کرنا ہے۔ یہ واقعی کائنات کی قدیم ترین بات ہے جو آج تک دریافت ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق ، ” ملکی وے ” کے مقابلے میں ‘جی این – زیڈ 11’ کی جسامت صرف 4 فیصد (25 گنا کم) اور کمیت صرف ایک (1) فیصد جٹنی تھیم ہے۔ البتہ اس میں ستارے بننے کی رفتار ، ملکی 20 گنا گنا زیادہ ہے۔

آج کل 13 ارب 40 سال پہلے کے اس دن کے سورج دس گنا بھاری (یا پھر اس سے بھی زیادہ ضخیم) ہیں ہوں گے۔

بالکل صاف بات ہے کہ قریب قریب اسی وقت بننا شروع ہوا تھا جب کائنات کا سب پہلو ستارہ وجود میں آیا تھا۔ اس کی ایک اور بات یہ بھی ہے کہ ” جی این – زیڈ 11 ” انکشاف کرتے ہیں کہ دیہی علاقوں کی ابتداء کے بارے میں کچھ نظریات بھی چیلنج کرئے ہیں جن کے بارے میں نظر ثانی کی ضرورت نہیں ہے۔

اس کے علاوہ ، ماہرین کا خیال بھی اس سے زیادہ دوری پر ہے ، لیکن کسی حد تک مشکل نہیں ہوسکتا ہے ، کیونکہ یہ اس مقام سے بہت قریب ہے ، لیکن ہم اس قابل ہوسکتے ہیں کہ کائنات کی دیوار بھی ہے؟ الگ الگ ہیں۔

نوٹ: یہ تحقیق ریسرچ جرنل ” نیچر ایسٹرونومی ” ایک حالیہ شمارے میں شائع ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here