جوزف بائیڈن کی بطور صدرکامیابی کی ہر طرف خبریں سنائی جا رہی تھیں، عالمی رہنما نئے امریکی صدر کو مبارک باد دے رہے تھے، ایسے میں ورجینا کلب میں گالف کھیلتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کو یقین تھا کہ وہ شکست نہیں کھا سکتے، اگر جو بائیڈن کو کامیابی ملی ہے تو یہ دھاندلی کا نتیجہ ہے۔

وہ ٹوئٹر پر بار بار انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات دہراتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’’ مبصرین کو گنتی کے کمروں میں اجازت نہیں دی گئی۔ یہ الیکشن میں جیتا اور مجھے سات کروڑ دس لاکھ قانونی ووٹ ملے۔ بری چیزیں ہوئیں ہیں جنھیں ہمارے مبصرین کو دیکھنے کی اجازت نہ تھی۔ ڈاک کے ذریعے وصول ہونے والے لاکھوں ووٹ ان لوگوں کو بھیجے گئے، جنھوں نے وہ مانگے ہی نہیں تھے ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ کیسے جو بائیڈن غلط طریقے سے فاتح قرار دیے جانے میں عجلت کر رہے ہیں اور کیوں ان کے میڈیا کے ساتھی ان کی بھرپور مدد کر رہے ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ سچائی سب کے سامنے آئے۔‘‘

ٹرمپ کی ٹیم نے کئی ریاستوں میں مقدمات بھی درج کرائے، ایریزونا میں انھیں شکایت تھی کہ ووٹوں کو غلط طور پر مسترد کیا گیا، پینسلوانیا میں کہا گیا کہ مقررہ وقت کے بعد موصول ہونے والے ووٹوں کو بھی گنتی میں شامل کیا گیا۔ ان کا موقف تھاکہ انتخاب کے دن کے بعد موصول ہونے والا ووٹ نہیں شمار ہونا چاہئے۔ واضح رہے کہ بعض ریاستوں کے انتخابی قوانین کے مطابق یوم انتخاب سے ایک دن پہلے پوسٹ ہونے والا ووٹ بھی گنتی میں شامل ہوگا۔

انھوں نے ریاست نیواڈا میں مقدمہ دائر کیا کہ وہاں کی کلارک کائونٹی میں بے ضابطگیوں نے انتخابات کو متاثر کیا ہے، اسی طرح ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے ان تمام ریاستوں میں مقدمات درج کرائے جہاں جو بائیڈن کو ٹرمپ سے زیادہ ووٹ مل رہے تھے۔ تاہم ٹرمپ کی بدقسمتی کہ دھاندلی کے الزامات کی اس مہم میں ان کی اپنی جماعت ’ ریپبلیکن پارٹی‘ ان کے ساتھ کھڑی نظر نہیں آئی، بلکہ ان کی جماعت کے بعض رہنمائوں نے ان الزامات اور مقدمات پر اظہار ناراضی بھی کیا ۔

مثلاً ریاست یوٹا کے سینیٹر مٹ رومنی نے ٹرمپ کے دھاندلی کے الزامات پر تنقید کی ۔ مٹ رومنی ، جو خود بھی ایک مرتبہ صدارتی امیدوار تھے اور باراک اوباما کے خلاف الیکشن میں کھڑے ہوئے تھے، کا کہنا تھاکہ ’’ امریکی صدارتی انتخاب میں دھاندلی کے الزامات لگانے سے دنیا بھر میں آزادی کو نقصان پہنچتا ہے۔‘‘ اسی طرح ریپبلیکن پارٹی کے ایک سابق سینیٹر رک سینٹورم نے ٹرمپ کی پریس کانفرنس کو ’خطرناک‘ قرار دیا اور کہا کہ ٹرمپ کے ریمارکس ’مایوس کن اور چونکا دینے‘ والے ہیں۔ انھوں نے کہا : ’’میں پر امید ہوں کہ ریپبلیکنز اس وقت میں کھڑے ہو جائیں گے اور وہ وہی بات کہیں گے جو الیکشن کی سالمیت کے لیے ضروری ہے ۔‘‘ ری پبلکن رہنمائوں کے بیانات اور بہت سے لوگوں کی خاموشی کہہ رہی تھی کہ وہ انتخابی شکست کو قبول کرنا چاہتے ہیں اور کچھ بھی ایسا نہیں کرنا چاہتے جس کے نتیجے میں امریکا کی سالمیت کو نقصان پہنچے۔

اس پر ٹرمپ کے بیٹوں نے رپبلیکن پارٹی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس نے ان کے والد کی حمایت میں کوتاہی برتی جو دوبارہ صدر بننے کے لیے (قانونی) جدوجہد کر رہے تھے۔ ٹرمپ کے بڑے بیٹے ڈان جونیئر نے جماعت پر ’کمزور‘ ہونے کا الزام عائد کیا جبکہ ڈان جونیئر کے بھائی ایرک نے بھی خبردار کیا کہ ’ہمارے ووٹر کبھی آپ کو نہیں بھولیں گے ۔‘

ٹرمپ کا ساتھ صرف ری پبلکنز ہی نہیں چھوڑا بلکہ میڈیا کے ان اداروں نے بھی نظریں پھیر لیں جنھوں نے سن 2016ء میں ٹرمپ کو وائٹ ہائوس تک پہنچانے کی مہم چلائی تھی، مثلاً ’ فاکس نیوز ‘ ، ’ دی نیویارک پوسٹ ‘ اور ’ دی وال سٹریٹ جرنل ‘ کے مالک روپرٹ مرڈاک اور ان کا میڈیا ایک عرصے تک ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں میں سے رہا لیکن دھاندلی کے الزامات کی مہم میں وہ ٹرمپ کے ساتھ نہیں کھڑا ہوا۔

روپرٹ مرڈاک کے تمام میڈیا اداروں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ووٹ فراڈ سے متعلق غیر مصدقہ اور بغیر کسی ثبوت کے سامنے آنے والے الزامات کو نہ صرف نظر انداز کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ انھیں دھاندلی کہیں نظر نہیں آئی۔ اس بار مرڈاک کے جریدے ’’ نیویارک پوسٹ ‘‘ میں دو ایسے کالم بھی شائع ہوئے جن میں کہا گیا تھاکہ ٹرمپ الیکشن ہار جائیں گے۔

٭امریکی فوج کس کے ساتھ تھی؟
ایک خیال یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ امریکی دفاعی ادارے نہیں چاہتے تھے کہ ٹرمپ ایک بار پھر صدر منتخب ہوں ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ٹرمپ اپنے عہد صدارت میں پینٹاگون اور سی آئی اے کے مشوروں، منصوبوں کو خاطر میں نہیں لائے، انھیں جو مشورہ دیا جاتا، وہ اس کے برعکس حکمت عملی اختیار کرتے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کے پینٹاگون کے ساتھ تعلقات میں تنائو بلکہ کشیدگی محسوس کی گئی ۔ مثلاً ٹرمپ نے افغانستان سمیت دنیا میں مختلف علاقوں سے مکمل طور پر امریکی فوج نکالنے کا اعلان کیا، پینٹاگون کو یہ بات پسند نہیں آئی، اس نے ردعمل میں ایسے بیانات جاری کئے جو ٹرمپ کے اعلانات کے برعکس تھے۔گزشتہ برس کے اواخر میں جب ٹرمپ نے شام سے یکطرفہ طور پر امریکی فوج واپس بلانے کا اعلان کیا تو اس پر بھی پینٹاگون نے مخالفانہ ردعمل ظاہر کیا تھا، اور کہا تھا کہ وہ ان فوجیوں کو عراق بھیج دیں گے۔

جب امریکی سیاہ فام جارج فلائیڈ کو گورے پولیس افسروں نے گھٹنے تلے دبا کر ہلاک کیا تھا اور اس کے ردعمل میں پورے ملک میں احتجاج قابو سے باہر ہونے لگا تو صدر ٹرمپ نے احتجاج کرنے والوں پر قابو پانے کے لئے فوج استعمال کرنے کی دھمکی دی تھی تاہم پینٹاگون کے سربراہ مارک ایسپر نے کہا کہ وہ فوجی دستوں کے استعمال کی مخالفت کریں گے، اس پر امریکی صدر شدید ناراض ہوئے۔ دوسری طرف پینٹاگون کے سابق سربراہ جم میٹس نے بھی عین اسی وقت ٹرمپ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ملک کو تقسیم کر رہے ہیں۔انھوں نے مزید کہا تھا ’’ یہ میری زندگی میں پہلے صدر ہیں جو امریکی عوام کو متحد کرنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ ایسی کسی کوشش کا اظہار بھی نہیں کرتے۔‘‘

صدر ٹرمپ اور پینٹاگون کے درمیان کشیدگی سرد قسم کی نہیں تھی بلکہ صدر ٹرمپ بعض اوقات پینٹاگون پر کھلی اور کڑی تنقید کرتے تھے، ایسی تنقید جسے امریکی محکمہ دفاع کے ذمہ داران کے لیے ہضم کرنا مشکل ہوتا تھا۔اپنی انتخابی مہم کے دوران ( ستمبر2020ء ) میں ٹرمپ نے واضح طور پر کہا تھا کہ پینٹاگون اسلحہ بنانے والی کمپنیوں کو نوازنے کے لئے دنیا بھر میں جنگیں کراتا ہے جبکہ میں امریکا کو نہ ختم ہونے والی جنگوں سے نکال رہا ہوں لیکن جنرل میرے ساتھ نہیں ہیں، البتہ فوجی مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پینٹاگون کے اعلیٰ عہدے دار جنگوں کے علاوہ کچھ نہیں کرتے، وہ اپنی خوشی کے لئے بم بناتے ہیں اور ایسے ہی دوسرے منصوبے تیار کرتے ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے عہد صدارت میں کئی بار جنگوں میں کام آنے والے امریکیوں فوجیوں کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کئے۔نومبر2018ء میں دورہ فرانس کے دوران میں، انھوں نے ہلاک ہونے والے اور پکڑے جانے والے امریکی فوجیوں کے لئے شدید الفاظ استعمال کیے۔ اس دورے کے دوران میں جب ٹرمپ سے امریکی فوجیوں کے قبرستان کے شیڈول دورے کا کہا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’’ میں قبرستان کیوں جائوں؟ یہ ناکام لوگوں سے بھرا پڑا ہے۔‘‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی دورے کے دوران 1918ء میں بیلیو ووڈز کے مقام پر مرنے والے 1800 امریکی فوجیوں کو ’’ دھوکا کھا جانے والے ‘‘ قرار دیا ۔

ٹرمپ کے ایسے ہی مزید کئی بیانات بھی ریکارڈ پر ہیں جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ پینٹاگون کے جنگی منصوبوںکو پسند نہیں کرتے۔ اسی طرح انھوں نے شمالی کوریا کے ساتھ پینٹاگون کے مشوروں کے عین برعکس حکمت عملی اختیار کی۔ ٹرمپ شمالی کوریا کے سربراہ ’ کم جانگ ان ‘ کے ساتھ مثبت رویہ کا دروازہ کھولنا چاہتے تھے لیکن پینٹاگون نے انھیں ایسا کرنے سے منع کیا تاہم ٹرمپ نے وہی کیا، جس کا وہ فیصلہ کر چکے تھے۔ انھوں نے کم جانگ کے ساتھ ملاقات کی، اس میٹنگ پر پوری دنیا کے امن پسندوں نے خوشی کا اظہار کیا لیکن پینٹاگون نے بے چینی محسوس کی ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے ، ٹرمپ اور پینٹاگون کے درمیان کشیدگی نے فوج میں بھی ان ( ٹرمپ ) کا تاثر خراب کیا ہو اور انھیں بہت سے امریکی فوجیوں کے ووٹ نہ ملے ہوں ۔ یاد رہے کہ امریکی فوجی روایتی طور پر ریپبلیکن پارٹی ہی کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں مگر ٹرمپ کی جانب سے فوجی قیادت کے ساتھ تصادم نے، ہو سکتا ہے افسران اور اہلکاروں میں سے بعض کو مایوس کیا ہو ۔ حتیٰ کہ ری پبلیکن پارٹی میں بھی پینٹاگون سے غیرمعمولی محبت رکھنے والے حلقوں نے پینٹاگون سے ٹرمپ کی کشیدگی کو پسند نہیں کیا۔ اندازے ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اگر ٹرمپ اور پینٹاگون میں ہم آہنگی ہوتی تو انھیں دوبارہ صدر منتخب ہونے میں کوئی رکاوٹ درپیش نہ ہوتی ۔ بہرحال وہ اب ملک کے گیارھویں صدر ہیں جو دوسری مدت کے لئے منتخب ہونے میں ناکام رہے ہیں ۔

٭ قبل از انتخاب، رائے عامہ کے جائزے کیا ظاہر کر رہے تھے؟
گزشتہ برس اکتوبر سے نومبر کے آغاز تک رائے عامہ کے مختلف جائزوں میں بتایا جاتا رہا کہ جوبائیڈن کو ٹرمپ پر 7.9فیصد کی برتری حاصل ہے ۔ ’ ٹو سیون زیرو ٹو ون‘ ، ’ رئیل کلئیر پالیٹکس‘ اور ’ فائیو تھرٹی ایٹ‘ جیسے اداروں کی جائزہ رپورٹس میں بتایا گیا، اگرچہ اس پورے سال کے دوران میں دونوں امیدواروں کے لئے حمایت میں اتار چڑھائو بھی آتا رہا لیکن ٹرمپ کسی بھی لمحہ بائیڈن پر برتری نہ لے سکے۔ رائے عامہ کے جائزے لینے والے امریکی ادارے ’’ فائیو تھرٹی ایٹ‘‘ امسال جون 2020ء سے نومبر2020ء تک مسلسل رپورٹ جاری کر رہا تھا کہ جو بائیڈن کے انتخاب جیتے کے امکانات 89 فیصد ہیں ۔

بعض اداروں نے ریپبلکن پارٹی کو کوئی معجزہ ہونے کی امید دلائی تھی، پارٹی سے وابستہ ایک انتخابی ماہر فرینک لنٹس کا کہنا تھاکہ ’’ امریکی صدارتی انتخاب کے دوران رائے شماری کے بعض جائزے غلط ثابت ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے 19 فیصد حامی ’ اپنے خاندان اور دوستوں سے جھوٹ بول رہے تھے‘ جبکہ بائیڈن کے صرف 9 فیصد حامی ایسا کر رہے تھے۔ ان کے کہنے کا مطلب تھا کہ ایسے لوگ سرعام تسلیم نہیں کرتے کہ وہ کس امیدوار کو ووٹ دیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی سطح پر رائے شماری سے عام طور پر نتائج کی پیشگوئی کرنے میں مدد ملتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو پیشگوئی کی جائے گی، انتخاب میں وہی ہوگا۔ ایسے تمام اندازوں کو شک کی نظر سے دیکھنا چاہیے‘‘۔

٭مسلمانوں نے کسے ووٹ دیا؟
حالیہ امریکی انتخابات میں مسلمانوں نے غیرمعمولی جوش و خروش سے ووٹ ڈالا۔ ’ کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشن‘ کے ایک جائزے کے مطابق دس لاکھ مسلمانوں نے ان انتخابات میں ووٹ کاسٹ کیا، جن میں سے70فیصد نے جوبائیڈن کو ووٹ دیا جبکہ 17فیصد نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ۔ حیران کن امر یہ ہے کہ 2016ء کی نسبت اس بار ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں چار فیصدکا اضافہ ہوا۔ چار برس قبل 13فیصد مسلمانوں نے ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا۔ مسلمان امریکیوں نے نہ صرف ووٹنگ میں ریکارڈ حصہ لیا بلکہ 50 سے زائد مسلمان امیدوار منتخب بھی ہوئے۔ یاد رہے کہ مجموعی طور پر 110مسلمان امیدوار تھے ۔

سن 2017ء میں شائع ہونے والی ’ پیو ریسرچ سنٹر ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا میں رہنے والے مسلمانوں کی تعداد 30لاکھ 45 ہزار ہے۔ ان میں 41 فی صد سفید فام ہیں،28 فیصد ایشیائی ، 20 فیصد سیاہ فام اور آٹھ فیصد ہسپانوی ہیں ۔ مسلمان زیادہ تر بڑے شہروں میں رہتے ہیں ۔ان میں سے 58 فیصد امریکا منتقل ہوئے ہیں ۔ 18فیصد امریکا میں پیدا ہوئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکی مسلمان اگلے بیس برسوں میں امریکہ میں دوسرا بڑا گروہ ہوں گے ۔ اس وقت یہودی عیسائیوں کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں ۔

جب امریکا میں پالیسیوں کی بات آتی ہے تو مسلمان مختلف گروہوں کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں۔ اخلاقی اور سماجی ایشوز پر وہ ری پبلیکن پارٹی کے ساتھ اپنے آپ کو ہم آہنگ پاتے ہیں، جہاں تک ثقافتی اور مذہبی معاملات کا تعلق ہے تو وہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی سوچ کو پسند کرتے ہیں ۔ کانگریشنل ایلکٹورل سروے کے مطابق 18فیصد امریکی مسلمان اپنے آپ کو قدامت پسند کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں،51 فیصد ماڈریٹ جبکہ 31 فیصد لبرل ۔88 فیصد مسلمان اسلحہ پر سختی سے قابو کے حق میں ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ 96 فیصد ڈیموکریٹس بھی اسی حق میں ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف سوشل پالیسی اینڈ انڈرسٹینڈنگ کے جائزے (مارچ2020ء) کے مطابق 65 فیصد مسلمان سیاہ فاموں کی تحریک ’ بلیک لائیوز میٹر‘ کی حمایت کرتے ہیں ۔ مذہبی گروہوں کی طرف سے اس تحریک کی حمایت کا جائزہ لیا جائے تو مسلمانوں کی طرف سے سب سے زیادہ ہے ۔

یہاں آدھے سے زیادہ مسلمان مذہبی آزادی کے علمبرداروں کے ساتھ ہیں ۔ امریکی مسلمان چاہتے ہیں کہ انھیں بھی احترام دیا جائے اور امریکی معاشرے کا حصہ مانا جائے۔ ان توقعات کے تناظر میں ڈیموکریٹک پارٹی کی پالیسیاں ان کے نزدیک بہتر ہیں ۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکی مسلمانوں کی اکثریت (55 فیصد ) ڈیموکریٹس کی ہم جنس پرستی کی پالیسی کی مخالف ہے ۔ حالیہ امریکی انتخابات سے پہلے جائزہ لیا گیا تو مسلمانوں نے کہا کہ ٹرمپ کی پالیسیاں امریکی معیشت کی بحالی کے لئے زیادہ بہتر ہیں ۔ مسلمان ری پبلیکنز کی پالیسیوں کو متعصبانہ اور مسلمان مخالف قرار دیتے ہیں جبکہ ڈیموکریٹس کی پالیسیوں کو اسلامی اخلاقیات اور خاندانی اقدارکے منافی قرار دیتے ہیں۔

حالیہ انتخابات سے قبل رائے عامہ کے ایک جائزے سے پتہ چلا کہ 81 فیصد مسلمانوں نے کہا، وہ انتخاب کے دن ہی ظاہر کریں گے کہ وہ کس کو ووٹ دیں گے ۔ یاد رہے کہ ایونجلیکل طبقہ کے 92 فیصد اور کیتھولکس کے91 فیصد افراد نے بھی یہی بات کہی تھی ۔

گیارہ ستمبر کی دہشت گردی کے بعد مسلمانوں نے اپنی حمایت کا پلڑا تبدیل کیا۔ ان واقعات سے پہلے غیر سیاہ فام مسلمانوں میں سے 80 فیصد ری پبلیکن پارٹی کا ساتھ دیتے تھے جبکہ قریباً تمام سیاہ فام ڈیموکریٹک پارٹی کو ووٹ دیتے تھے ۔ تاہم اس کے بعد جارج بش جونئیر ( ری پبلیکن پارٹی) نے جس انداز میں ’’ دہشت گردی کے خلاف جنگ ‘‘ لڑی، اس نے مسلمانوں کو دوسرے پلڑے کی طرف جانے پر مجبور کیا ۔

مسلمان سمجھتے تھے کہ بش اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں ۔ چنانچہ 2004ء کے انتخابات میں مسلمانوں کی طرف سے ری پبلیکن پارٹی کی حمایت میں سات فیصد کی کمی دیکھی گئی ۔ 2008ء کے انتخابات میں مسلمان مزید بڑی تعداد میں ڈیموکریٹ پارٹی کی طرف چلے گئے۔2016ء میں بھی مسلمانوں میں یہی رجحان دیکھنے کو ملا، 82 فیصد امریکی مسلمانوں نے ہیلری کلنٹن کی حمایت کی ۔ 2018ء تک ری پبلیکن پارٹی کے لئے مسلمانوں کی حمایت 10فیصد تک رہ گئی۔

اس کے بعد ٹرمپ کے لئے مسلمانوں کی پسندیدگی میں اضافہ ہونے لگا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ٹرمپ امریکی معیشت کی بہتری لئے زیادہ مناسب کوششیں کر رہے ہیں اور وہ مشرق وسطیٰ کی لڑائیوں میں سے امریکا کو الگ کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے دو معاملات نے مسلمانوں کو ٹرمپ سے مزید بے زار کیا تھا۔ اولاً مسلمانوں کی امریکا آمد پر پابندی عائد کرنا، ثانیاً امریکی سفارت خانہ یروشلم میں منتقل کیا، جس کا مطلب تھا کہ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا۔ ان اقدامات نے مسلمانوں بالخصوص فلسطینیوں کو ان سے دور کیا۔

صدارتی انتخاب سے پہلے ڈیبیٹس میں دونوں امیدواروں نے واضح طور پر ظاہر نہیںکہا تھا کہ وہ صدر بن کر کیا خارجہ پالیسی رکھیں گے۔ اس تناظر میں مسلمان ووٹرز پہلے مخمصے کا شکار رہے کہ وہ کسے ووٹ دیں، آخرکار انھوں نے جو بائیڈن ہی کے حق میں فیصلہ کیا جو انھیں باقی امریکیوں جتنا احترام دینے کا وعدہ کر رہے تھے۔ امریکی انتخابات میں مسلمان ووٹ نے اہم کردار ادا کیا ہے بالخصوص مشی گن جیسی ریاست میں جہاں سخت انتخابی معرکہ ہوا ۔ یہاں عرب امریکن ووٹ بڑی تعداد میں موجود ہے ۔ مشی گن میں مسلمان کل آبادی کا تین فیصد ہیں ۔ اس قدر بڑی تعداد انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لئے کافی ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ 2016ء کے انتخابات میں اس ریاست سے ٹرمپ نے ہیلری کلنٹن کو محض 0.23 فیصد سے ہرایا تھا۔ حالیہ انتخاب میں جوبائیڈن مشی گن سے محض2.7 فیصد ووٹ زیادہ لے کر جیتے ہیں۔

٭جوبائیڈن کے وعدے جو کامیابی کا سبب بنے
جو بائیڈن نے بار بار وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صدارتی انتخاب جیت گئے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سات مسلم ممالک کے تارکین وطن کے ملک میں داخلے پر پابندی کے حکم نامے کو ختم کر دیں گے۔ انھوںنے ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ سات مسلم ممالک کے افراد پر امیگریشن کی پابندی عائد کرنا اختیارات کا ناجائز استعمال ہے۔

انھوں نے اسے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ اسلامو فوبیا کا شکار ہے۔ اس کے اسلامو فوبیا کے نظریات کے باعث سکولوں میں مسلم بچوں کے ساتھ بد سلوکی کے ساتھ ساتھ ملک میں مسلم مخالف نفرت انگیز واقعات میں بھی اضافہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ مسلم مخالف نظریات کے ذریعہ دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں، امریکی قوم کو اپنی طاقت نہیں بلکہ حسن سلوک کا پیغام دنیا کو دینا چاہیے۔ ٹرمپ دنیا بھر میں امریکی روایات اور پہچان کا تمسخر اڑا رہے ہیں۔

جوبائیڈن نے کہا کہ اگر میں صدارتی انتخاب جیتا تو اپنی کابینہ میں مسلم اراکین کو شامل کروں گا جو میری انتظامیہ کا حصہ ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی میں جمہوری روایات کو شامل کریں گے اور دنیا میں ایک قائدانہ قوم بن کر سامنے آئیں گے جو اپنے ملک میں بسنے والے تمام افراد کی نمائندہ ہوگی۔انھوں نے کہا تھا کہ فلسطین اور اسرائیل کے عوام کے الگ ریاست کے حقوق کے لیے لڑوں گا۔

شمالی امریکا میں ایک غیرملکی میڈیا ادارے سے وابستہ اینتھونی زرکر نے جوبائیڈن کے وعدوں کی ایک فہرست تیار کی ہے جس کے مطابقکورونا وائرس کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ صدر بن کر پورے ملک میں مفت ٹیسٹ کی سہولت مہیا کریں گے، وہ ایک لاکھ افراد کو بھرتی کر کے کورونا سے متعلق قومی رابطہ پروگرام کا اجرا کریں گے۔ ہر ریاست میں کم از کم دس ٹیسٹنگ مراکز قائم کریں گے جنھیں وفاقی اداروں کے اہلکار چلائیں گے۔ اس کے علاوہ وفاقی ماہرین کی مدد سے کورونا سے بچاؤ کی ہدایت جاری کریں گے۔

وہ چاہتے ہیں کہ گورنرز اپنی ریاستوں میں ماسک پہننے کو لازم قرار دیں۔
جوبائیڈن نے وعدہ کیا کہ چھوٹے کاروبار کو سہارا دینے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ وہ خاندانوں کو دی جانے والی سوشل سکیورٹی کی رقوم میں دو سو ڈالر ماہانہ کا اضافہ کریں گے اور متاثرہ خاندانوں کی مالی امداد کریں گے۔ ٹرمپ دور کے ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ کو ختم کریں گے اور طلبہ کے قرضوں میں دس ہزار ڈالر کی رعایت دیں گے۔

جو بائیڈن کی ’بلڈ بیک بیٹر (بہتر تعمیر نو)‘ کی معاشی پالیسی دو طبقوں کے گرد گھومتی ہے: نوجوان اور مزدور پیشہ افراد، جو روایتی طور پر ڈیموکریٹ پارٹی کے حامی تصور کیے جاتے ہیں۔ ان کا کم از کم اجرت کو ساڑھے گیارہ ڈالر فی گھنٹہ سے بڑھا کر پندرہ ڈالر فی گھنٹہ کرنے کا وعدہ نوجوانوں میں بہت مقبول ہوا۔ یہ وعدہ ان کا بائیں جانب کی طرف جھکاؤ کا عندیہ دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ صدر بن کر ماحول دوست توانائی پر دو کھرب کی سرمایہ کاری کریں گے۔ ان کا موقف ہے کہ ماحول دوست توانائی مزدور پیشہ لوگوں کے لیے بھی مفید ہوتی ہے ’جنھیں تمام کام کرنے ہوتے ہیں۔‘

جو بائیڈن نے وعدہ کیا کہ وہ مصنوعات کی امریکہ میں تیاری کی حوصلہ افزائی کے لیے400 ارب ڈالر کی رقم خرچ کریں گے اور تعمیرات کے منصوبوں کے لیے امریکہ سے مال کی خریداری کے قانون کو نافذ کریں گے۔ ماضی میں جوبائیڈن پر الزام لگتا رہا ہے کہ وہ فری ٹریڈ کے امریکی معاہدے (نیفٹا) کے حامی ہیں جس کی وجہ سے امریکی صنعتیں اور روزگار امریکہ کی سرحدوں سے باہر گئے۔ اب ان کا منصوبہ ہے کہ وہ ’میڈ اِن امریکہ‘ کو رائج کرنے کے لیے مقامی ساز و سامان، خدمات (سروسز)، تحقیق اور ٹیکنالوجی پر 300 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔

امریکہ میں رواں برس نسل پرستی کے خلاف ہونے والے احتجاج کے تناظر میں جوبائیڈن نے کہا ، وہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں نسل پرستی کی سوچ موجود ہے اور امریکہ کو اس مسئلے پر قابو پانے کے لے اقلیتوں کی مدد کے لیے معاشی اور سماجی پروگرام ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اقلیتوں کی کاروباری مدد کے لیے 30 ارب ڈالر کا ایک فنڈ قائم کرنے کا وعدہ کیا ۔جوبائیڈن جرائم پر سختی سے قابو پانے کے طریقے سے دور ہٹتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انھوں نے قید و بند کی سزا کم کرنے کی تجویز دی ہے جبکہ نسلی، صنفی اور آمدن سے متعلق تنازعات سے نمٹنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ وہ قید و بند کو کم کرنے، لازمی سزاؤں کو ختم کرنے اور گانجے کے استعمال کو جائز قرار دینے اور چرس کے استعمال پر دی گئی سزاؤں اور موت کی سزا کو ختم کرنے کے لیے 20 ارب ڈالر کی لاگت سے ایک پروگرام شروع کریں گے۔جو بائیڈن محکمہ پولیس کی فنڈنگ سرے سے ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ وہ پولیس کے کچھ فنڈز کو ذہنی صحت کے سماجی پروگرام کی طرف موڑنے کے حامی ہیں۔ وہ کمیونٹی پولیس کے لیے 300 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی بات کرتے ہیں۔

جو بائیڈن نے ماحولیاتی تبدیلی کو انسانی بقا کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پوری دنیا کو ساتھ ملا کر گلوبل وارمنگ پر قابو پانے کے لیے کوشش کریں گے۔ ان کے صدر بننے پر امریکہ کو دوبارہ پیرس معاہدے میں شامل کیا جائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکہ عالمی ماحولیاتی معاہدے سے دستبردار ہوگیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ کو 2025 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو 28 فیصد کے درجے تک لانا ہے۔

بائیڈن بائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے پیش کردہ ’گرین نیو ڈیل‘ کی تجویز کے حامی نہیں ہیں، لیکن انھوں نے ماحول دوست ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے 1.7 کھرب ڈالر کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ 2050 تک گرین ہاؤس گیسوں کے صفر اخراج والا ملک بن جائے۔ واضح رہے کہ امریکہ کے علاوہ دنیا کے ساٹھ دوسرے ملکوں نے بھی 2050 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو صفر تک لانے کا عہد کیا ہے۔

جو بائیڈن نے وعدہ کیا کہ بطور صدر وہ اپنی توجہ قومی معاملات پر مرکوز رکھیں گے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کثیر الملکی اداروں اور معاہدوں سے دور ہوں گے۔ ان کی پالیسی ٹرمپ انتظامیہ کے بالکل برعکس ہے جو تنہا پسندانہ ہیں۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ اپنے اتحادیوں، خاص طور پر نیٹو کے ساتھ اپنے تعلقات کو پھر سے استوار کریں گے جو ’ ڈونلڈ ٹرمپ کی بار بار کی دھمکیوں سے خراب ہو چکے ہیں۔‘وہ غیر منصفانہ تجارتی طریقے استعمال کرنے پر چین کا احتساب کرنا چاہتے ہیں۔

وہ چینی مصنوعات پر یکطرفہ محصولات بڑھانے کی بجائے جمہوری حکومتوں کا ایک عالمی اتحاد بنانے کے حامی ہیں جنھیں چین ’نظر انداز‘ نہیں کر سکے گا۔جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ صدر اوباما کے دور میں صحت عامہ میں اصلاحات کو توسیع دیں گے جس کے تحت 97 فیصد امریکی اس ہیلتھ انشورنس سے مستفید ہو سکیں گے۔ البتہ وہ بائیں بازو کے خیالات کے حامل لوگوں کے ان خیالات کے حامی نہیں ہیں جو تمام شہریوں کے لیے ہیلتھ انشورنس کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جو بائیڈن کا وعدہ ہے کہ وہ تمام امریکی شہریوں کو پبلک ہیلتھ انشورنس کا حصہ بننے کا موقع دیں گے، جیسے 60 سے 65 برس کی عمر کے لوگوں کے لیے میڈی کیئر کی سہولت موجود ہے۔

جو بائیڈن نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنی صدارت کے پہلے100 دنوں میں صدر ٹرمپ کی ان پالیسوں کو ختم کر دیں گے جو میکسیکو کی سرحد پر بچوں کو والدین سے علیحدہ کرتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ امریکہ میں پناہ کی درخواستوں پر لگائی گئی قدغنوں کو بھی ختم کریں گے۔

جوبائیڈن کا وعدہ ہے کہ وہ صدر اوباما کے دور میں شروع کیے پروگرام ’ڈریمر‘ کو بھی شروع کریں گے جس کے تحت غیر قانونی طور پر امریکہ میں لائے گئے بچوں کو امریکہ میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ ان ’ڈریمرز‘ کو طلبہ کے لیے وفاقی امداد حاصل ہوسکے۔جو بائیڈن کی طرف سے ایسے تعلیمی اداروں میں اضافے کا وعدہ کیا گیا ہے جہاں مفت تعلیم دی جائے گی۔ طلبہ کے قرضوں کو معاف کرنے اور پری سکول کی تعلیم تک سب کی رسائی کا وعدہ بہت مقبول ہوا ۔ وہ کہتے ہیں کہ اس پالیسی پر عمل درآمد کے لیے ضروری فنڈز کے لیے وہ ٹرمپ دور میں ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ کو ختم کر کے پورا کریں گے۔

ٹرمپ کیوں ناکام رہے؟
فرحت شیر خان
(ڈیکالب۔امریکا)
حالیہ امریکی انتخابات اور اس کے پرائمری الیکشن سے پہلے عام تاثر تھا کہ ان انتخابات میں ڈیموکریٹس یقینی طور پر کام یابی حاصل کریں گے۔ پرائمری انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار بارنی سینڈر کی جانب سے عوام کی کم حمایت کے باعث انتخابات سے علیحدگی کے اعلان کے بعد جوبائیڈن ڈیموکریٹک امیدوار کے طور پر سامنے آئے۔ بارنی سینڈر پڑھے لکھے ڈیموکریٹس کے پسندیدہ لیڈر جانے جاتے تھے۔ امکان یہ تھا کہ وہ میدان میں رہتے تو انتخابی نتائج کچھ اور ہوتے اور یہاں کی اشرافیہ ان کو سپورٹ کرتی ۔

انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ کافی جذباتی نظر آئے۔ ان کی باڈی لینگویج سے یہ معلوم ہو رہا تھا کہ وہ 2020 کے انتخابات میں بھی صدر کا عہدہ جیتنے کا تصور کر چکے ہیں اور بار بار کہہ چکے تھے کہ وہی آئیندہ بھی صدر ہوں گے۔

انھوں نے انتخابی مہم میں گوروں کا دل جیتنے کی بھرپور کوشش کی ۔ وہ امریکا میں سخت امیگریشن قوانین کے حامی تھے اور چاہتے تھے کہ دنیا کے دیگر ممالک سے آئے ہوئے تارکین وطن کے بجائے زیادہ سے زیادہ ملازمتیں مقامی امریکیوں کو فراہم کی جائیں۔ گوروں ہی کی بھرپور حمایت حاصل کرنے کے لیے میکسیکو کے بارڈر پر باڑ کی تعمیر کا منصوبہ بنایا ۔ غیرقانونی طور پر مقیم وہاں کے شہریوں کی ملک بدری کے احکامات بھی جاری کئے ۔ ٹرمپ وقتاً فوقتاً مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب کے پیروکاروں سے بھی بے زار دکھائی دیتے تھے۔

کوویڈ 19 میں ٹرمپ ان امریکیوں کی بھرپور حمایت کرتے نظر آئے جو لاک ڈاؤن اور ماسک پہننے کو شخصی آزادی کے خلاف سمجھتے ہیں ۔ ٹرمپ کے حامی بھی ان کی طرح نہایت جذباتی دکھائی دیتے ہیں، ان کا

کہنا ہے کہ ٹرمپ جیتیں یا ہاریں یکم جنوری 2021 سے وہ ماسک نہ پہننے اور ہر شہری کو اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ رکھنے کی مہم شروع کریں گے ۔ ٹرمپ کے حامی کھل کر تو نہیں مگر دبے دبے لفظوں میں نسل پرستی کے حامی ہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکی سہولیات اور مراعات کا فائدہ صرف گوروں کا حق ہے افریقن امریکن یا دیگر ممالک سے آنے والے تارکین وطن کو اس کا کوئی حق نہیں، اگرچہ امریکا کے آئین میں سب کو مساوی حقوق دیے گئے ہیں ۔ ٹرمپ اور ان کے حامی یہ باتیں کرتے وقت یہ بھول جاتے تھے کہ ان کی پہلے کی نسلیں خود بھی کسی نہ کسی ملک سے ہجرت کرکے امریکا میں آئیں اور پھر یہیں کے ہو رہے۔

جوبائیڈن نے صدارتی مباحثوں کے دوران صدر ٹرمپ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور انھیں ایک بیمار ذہن کا شخص ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ جوبائیڈن نے کئی مواقع پر مسلمانوں کو برابری کی بنیاد پر سلوک کی یقین دہانی کرائی ۔ انھوں نے تارکین وطن کے لیے بھی نرم رویہ ظاہر کیا تھا۔ وہ اور ان کے حامی امریکی معیشت کی مضبوطی اور استحکام کے لیے دیگر قومیتوں کے ساتھ مثبت پالیسیوں کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ دوبارہ منتخب ہوئے تو امریکا کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

امریکا میں عام طور پر انتخابات نہایت پر امن طریقے سے ہوتے ہیں مگر اس بار صدر ٹرمپ کی جانب سے سخت الفاظ کے استعمال کے باعث دونوں جانب کے حامیوں میں سخت کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ اس سے قبل عام شہری ایک دوسرے کو بتا دیا کرتے تھے کہ انھوں نے کس کو ووٹ دیا، مگر اس بار کسی ناخوش گوار واقعے سے بچنے کے لیے لوگ اپنی رائے کو ایک دوسرے سے خفیہ رکھ رہے تھے۔

جوبائیڈن کے حامیوں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے دور حکومت میں ملکی معیشت تباہ ہوگئی ۔ بے روزگاری کی شرح میں زبردست اضافہ ہوا۔کورونا وائرس میں ٹرمپ کی ناقص پالیسیوں کے باعث کاروباری طبقہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، سینکڑوں کی تعداد میں بڑے بڑے کاروبار بند یا تباہی کا شکار ہو کر خسارے میں چلے گئے ۔

امریکی شہریوں کو بھی اب مہنگائی کا احساس ہے اور کورونا کے باعث ٹرمپ کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ ایک بار پھر لوٹ مار نہ شروع ہو جائے۔ مقامی حکومتیں کاروباری اداروں کو سخت حفاظتی انتظامات کرنے اور Inventory کم رکھنے کی ہدایت کر رہی ہیں اور ان ہدایات کو خفیہ رکھا جا رہا ہے۔

مسلمانوں کی اکثریت نے جوبائیڈن کی حمایت کی ۔اگرچہ وہ جوبائیڈن کو بھی مسلمانوں کا حامی نہیں سمجھتے مگر ان کا کہنا ہے کہ جوبائیڈن موجودہ صدر ٹرمپ سے کم مسلمان مخالفت رکھتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے کلپ بڑی تعداد میں شیئر کیے گئے جس میں انھیں بار بار یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا کہ مجھے معلوم نہیں مگر مسلمانوں کو کوئی نہ کوئی پرابلم ہے ۔ دوسری طرف جوبائیڈن کا کلپ بھی دیکھنے میں آیا جس میں وہ ایک مسلمان بچی کو یہ کہتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں کہ اگر وہ اقتدار میں آگئے تو اس ملک میں تمام مذاہب کے لوگوں کو برابری کی بنیاد پر حقوق ملیں گے ۔

امریکا کی فوج دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے مگر دونوں صدارتی امیدواروں نے حمایت کے لیے فوج کے سربراہ سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی فوج یا اس کے سربراہ کو آئین جمہوریت کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی اجازت دیتا ہے ۔ دونوں امیدواروں نے صدارتی مباحثوں یا انتخابی ریلیوں کے دوران ایک دوسرے پر غدار یا ملک دشمن عناصر کا الزام نہیں لگایا ۔

اس انتخاب میں کورونا کے باعث کروڑوں لوگوں نے ڈاک کے ذریعے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے، اس کے علاوہ قبل ازوقت پولنگ کی سہولت کو بھی استعمال کیا ۔ شہریوں کی اکثریت کو انتخابات کے دن چھٹی نہ ہونے کے باعث یہ سہولت اچھی لگی۔ امریکی ووٹروں میں بھی اچھی خاصی تعداد خاموش ووٹروں کی ہوتی ہے جو بظاہر کسی جماعت کی حمایت کرتے نظر نہیں آتے مگر وہ بڑی خاموشی اور ریسرچ کے بعد اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here