گانا

آنکھ مونڈی نہیں مدت ہے
خواب زاویوں میں میسر وہ مسلسل دھوکے
اس کوسٹ نے خود کو مسٹ لیا
اب شکایات مجھے جھڑکے ، ستائے ، ٹوکے؟
آپ کو بھی اطلاع نہیں دی گئی
ہم بھی خوش باش جیئے بھوٹی رفاقت کھوئے
کون دیوار اٹھائے گا مرے رستے میں
کس کی جرأت ہے کہ دریا کا بہاؤ روکے
تم نے کچھ نہیں کیا ، مرے ٹکڑے نہیں ہوئے
دکھا میں دکھاؤں………….
(کومل جوئیہ۔ پیر محل)

۔۔۔
گانا

عقیدہ سے اگر وہ میرے چوم لے رہے ہیں
ذہ کئی ذہن ذہ ذہ ذہ ذہ…….. مف مف مف مف مف مف…………………
یہ رب کوئی فیض نہیں ہے بے نیازی میں
اسی طرح کے جھولی بھر جاتے ہیں
تو کسی کا کوئی سر قلم نہیں ہے
خوشی میں اکثر اکثر جھوم جاتے ہیں
میں دو متضاد بہتی ہوں گے
وہ چل رہے ہیں پانی کو دیکھنے کے کر گھریلو سامان
دکاں داروں کو یاد آرہے ہیں
جب وہ سارے رنگ کے قریب آتے ہیں تو ٹرائی روم جاتا ہے
(اظہر فراغ۔ بہاؤ پور)

۔۔۔
گانا

سبک رویہ میں انوکھے اصول پڑتے ہیں
جو سنگِ میل ہے
عجیب دستِ محبت میں آگیا تھا
وہ بیل کاڑنا تھیی پھول بنتے ہیں
تو مجھ کو کوسے میں واقعات گھڑنے پڑے
وہ سامعین جو مشتاقِ طول بنتے ہیں
اس شہر میں سرسبز ایک برگڈ تھا
ہر ایک شاخ سے جس اسکول جاتا ہے
اگر ہم کسی صارف کی پگڑیاں باندھیں
لیکن وہ پیچیدہ ہے جو سر پر ببول بنتے ہیں
(پارس مزاری۔ بہاول پور)

۔۔۔
گانا

جو بات ہے وہ لگی لپٹی نہیں ہے
امید نہیں ہے آپ سے اللہ کی قسمت ہے
بے خوف ہو جاؤ اپنا سفر کرو
جوتھی کسی پاؤں میں نہیں آتے
کھڑکی سے سبز رنگ کا پردہ بھی
تازہ ہوا نہیں سانس بھی روکی نہیں ہے
اس میں اداس نظر نہیں آرہے ہیں
تصویر تیرے ہاتھ کی کھینچی نہیں
محبوب جس روز کی سنانیی عبادت ہو
وہ فلم یاد ہے مجھے نہیں
(خالد محبوب ۔بہاول پور)

۔۔۔
گانا

تُو کون ہے جس کی کمی پوری ہوگی
وہ آئے گا
اک آدھ اگر ہم بھی کچھ نہیں
کسی شخص کی کمی پوری ہوجائے گی
بیٹھے ہوئے تری راہ میں گلدستہ اٹھائے
یہ پیڑ یہاں میری کمی پوری ہے
تجھ سا ہے مری جان کوئی تُو نہیں ہے
یہ پھول تِری کتنی کمی پوری ہے
کچھ وصل ابھی اور بھی درکار ہیں فرہادؔ
اس بار تو وہ پچھلی کمی پوری ہو گی
(احمد فرہاد ۔باغ ، کشمیر)

۔۔۔
گانا

غم نہیں ، اور دنیا میں بھی ٹوپی ہے
اے مِرے اُجڑے دِل ، مِرے بکھرے دل
کاش اگر علم ِ مسیحائی مل مل
وہ جو دِکھ اور غم میں ڈوبے ہوئے ہے
وقتا ترا فوقتا. سفر جاری ہے
دشتِ امید میں میرے بھٹکتے دل
جب دھڑکتے ہیں تو اک حشر بپا ہوتے ہیں
اے مِرے یار ترے بھید کو پائے
عہدِ پیری میں بھی وہ بگڑے ہوئے رہتے ہیں
نوجانی کی جگہ میں بگڑے ہوئے دل
خوش بھوک سے تجزیہ کیا گیا تھا تبیر ابدی الجھن ہے
مجھ سے کہتا ہے ، دمصِبح ، مہکتے ، دل
(تاثیر خان۔ سوات)

۔۔۔
گانا

اسیرِ حلقۂ گیسوئے یار میں ہوں
اے ذوقِ عشق رواں سوائے دار ہوں
اگر چہ دھوپ میں جلنا مرا مقدّر ہے
یہ کم نہیں شجرِ سایہ دار ہوں
غبارِ راہ جس کا یہ مہر اور ماہ و نجوم
بساطِ عجز وہ شہسوار میں ہوں
مِرے کبھی ، تم اک خارِ دشتِ وحشت ہو
یہ تو ہے لالہ زار ، میں ہوں
میں صرف نام کا ساگر نہیں ہوں اے ساگر ؔ
میں بھی ہوں
(نظیر ساگر۔ کوہستان ، سوات)

۔۔۔
گانا
اچھا بولا
اسے چھوڑنا پڑھیں
احساسِ جرم تھا کیا پہلا عشق ترک
پھر دوسرا ہوا توخدا چھوڑنا پڑھا
سمجھوتہ پڑھیں
دریا بیچ ایک دیا چھوڑنا پڑھا
کوئی بھی نہیں ورگرن بتاتا میں
وہ بات جس پہلو شہر چھوڑنا پڑھا
وہ گیا تھا پلٹوں کے خوش رہو
سو مجھ کو ایک زخم کھلا چھوڑنا پڑھا
شعبان لوگ
خدا نے بھی چھوڑ دیا
(شعبان خالد ۔پونچھ ، کشمیر)

۔۔۔
گانا

تُو بڑی ضروری ہے
واقعی ، ضروری ہے
اس جہانِ مضطر میں
موت کی ضرورت ہے
ایک دن چمک کوٹ
تیرگی ضروری ہے
اے انا کی شہزادی
عاجزی ضروری ہے
وہ سب سے ضروری تھا
وہ سب سے ضروری ہے
(شہزاد مہدی۔اسکردو ، گلگت بلتستان)

۔۔۔
گانا

خیمۂ شمش کو اشارے سے سجا ہوا تھا
زخمِ دل کو ابھی دیر ہیرا رکھنا تھا
ہم تو سبزے کی طرح سنگھ سے باہر آئے
اور اس مجھ کو کوشنِ خاک دبا رکھنا تھا
وہ ہوا تھی تھی چراغوں سے
اس کو اپنایا رویّہ تو روا رکھنا تھا
روشنی کر لی ہے دستار حصول میں
خوفِ تاریکی سے ڈکو بچا رکھنا تھا
اب ستاروں کے سمندر میں کہاں ڈھونڈے ہوئے ہیں
تم کو اس چاند کے حجرے کا پتہ چل رہا تھا
دل سلہا کسی پتلی پہلو میں ہے
مرقدِ عشق پہلا تو دِیارکھنا تھا
(محبوب زائری۔اسکردو)

۔۔۔
گانا

مسیحا آپ کی کوششیں کر رہے ہیں
لیکن جس کوٹ سے دوائیں چل رہی ہیں
بھائی جھوٹ دنیا گھوم آئے
مرے سچے ابھی تسمے کھلے ہیں
میں بس اس نظر میں آدھی رہتا ہوں
جو اچھے دن ہو رہا ہے
ترے کانڈ سے لگ کر کرون رویا
یہ کون سا بال رہتا ہے؟
صحیح لوگوں کو چن چن ہے
غلط نمبر سے میسج آ رہے ہیں
بچھڑ راستہ کس منہ کی عبادت؟
تو پھر منہ سے کر آئے ہو
زبانیں چلتے رہتے ہیں
قدموں کے اوپر اٹھ کھڑے ہیں
(عین نقوی ۔سرگودھا)

پوسٹ کوچۂ سخن پہلے شائع ہوا ایکسپریس اردو.

Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here