ایک دوسرے سے جذبات کو سجانا ، نظم کو لفظ مل جانا تو شعر تخلیق ہے۔  فوٹو: فائل

ایک دوسرے سے جذبات کو سجانا ، نظم کو لفظ مل جانا تو شعر تخلیق ہے۔ فوٹو: فائل

گانا


اپنے ہونٹوں سے گل فشانی
آج اس کی بھی مہربانی کریں
پھول کاٹری پھر ان کو پانی دیا
میں نے تکیے پہلوبانی کی
تالیاں پھول جان کر آئیں
اس تصویر پر ، جوانی کی
کس قدرتی پرسکون ہے دریا
یار تصویر کھینچ پانی کی
ایک کردار کو روکنے سے
چاشنی بڑھتی جارہی ہے
کچھ مشکل سے لفظ بولے اور
گاؤں میں پہلا حکم رانی
(امجد نذیر ۔میلسی)

۔۔۔
گانا


جاسی نکلتی بھی نہیں
زندہ سورج کی حالت شرط ہے
بنا ہوا ہٹ مرے خواب پلٹ راستے ہیں
نیند الجھن
جس گھڑی نے مجھے سانس بچایا ہے
مر……….
چلتے رہتے ہیں سبھی سلسلے والے
ربط ٹوٹے کوئی تکلیف نہیں ہے
موت ہر روز نگلتی ہزاروں جانیں
اس سے بڑھتے ہو کر قیامت کی گھڑی بھی
زندگی کی گمراہی سحرؔ منظر سے ہے
جس طرف اٹلی نظر آرہی ہے
(یاسمین سحر۔جہلم)

۔۔۔
گانا


تیز رفتار کی ماوسی سے اٹلی ہوئی تھی
جب چپ چاپ تجارتی سامان ملتے رہے
روکے ہوئے لوگوں کو
ہر پڑھیں
کیا کشش ہے مجھے چھوڑنے والا
دو قدم چلتا تھا پھر مجھ سے لپٹ گیا
چاندی کی چاندنی شرما نکلنے والی تھیوری
شب کا سورج میرے ہاتھوں میں سمٹ تھا
شب خسارے کے اکاؤنٹس میں گزرتے تھے
دن ترے شہر کی دہلیز پہل کا سامان تھا
یار لوگوں کو وہ غائب ہے
ایک پتلی جو مری راہ سے ہٹ گئی تھی
(راکب مختار۔ شور کوٹ)

۔۔۔
گانا


ایک تالاب جو کائی سے بھر رہا ہے
میری کمرہ مری تنہائی سے بھر رہی ہے
دور تک پھیلاؤ ہوا دل کا یہ خالی منظر
دیکھتے ہو کہ بینائی سے بھر آتے ہیں
پیڑ کی کھردری تہوار بیلپ چھت ہو گی
زخم ہے اور مسیحائی سے بھرنا
میں اترا ہوں دریا کی گہرائی میں
مجھ میں پانی جیسے گھیراؤ بھر رہا ہے
(قاسم حیات۔ منڈی بہاؤالدین)

۔۔۔
گانا


روشنی صاف ہے
جب تک وہ میرے ساتھ ہے تب تک روشنی ہے
یہ بات بھی ظاہر ہے
یہ آسمانی سے دور تک بھی ہے
روشن نہیں ہُوا میں کبھی بھیک مانگ
تب تک مراسم موجود ہیں
میں تیرگی دور کا پہلا چراغ ہوں
میں جانتا ہوں آج کی شب تک روشنی ہے
دل پر پڑی نگاہ تو یہ راز کھلونے گئے
یعنی مرے وجود سے رب تک
راشد ھوا سے کبھی نہیں ہارنا
جب تک روشنی نہیں ہے
(راشد علی مرکھیانی۔ کراچی)

۔۔۔
گانا

اب ہم فلک رول دیتے ہیں
ہمارا کوکنا نہیں ہے
آج یہ کچا گھڑا ساتھ نہیں دے رہا ہے
اب کے دریا ہی کسی سنبھالے کو کو
جان کے ساتھ روح بھی دے دو
ہائے کیا لگے شوق نریلے ہم کوٹ
کیا قدرتی تنہا ہم آج کی دنیا میں ہیں
جس کا جی چاہے وہ سو ، باتیں سنا لے ہم
تیری آواز پہل کی طرح دو دو آئیں
روکنے کے لئے ہم لوگ ہیں
(سیدہ ہم شاہ۔ ہارون آباد)

۔۔۔
گانا


زندگی دُکھ سے عبارت نہیں کرنا
دردِ فرقت کو ہی عادت نہیں
ہم ان کی آنکھوں میں چمکتے رہتے ہیں
کس طرح جدوجہد کرنے والوں کو نہیں
ہم کوئی راستہ نہیں چھوڑیں گے
ہم غم کی بات نہیں کرتے
ہم محّبت کو عقائد کی طرح رہتے ہیں
ہم محبت میں تجارت نہیں کرتے
وہ کسی طرح کا مداوا بھی کریں گے
وہ جو اظہارِ ناماد نہیں
وہ بھی مرتی ہیں
وہ جو اظہارِ محبت نہیں کرتا
(شیخ محمد ساجد ۔لاہور)

۔۔۔
گانا


پتّے جھڑتے ہیں جب درختوں کا
یاد آتے ہیں دوست وقت
کارواں بنے ہیں وہ رہبر
جوکہ واقف نہیں ہیں
بادشاہی بھی کیا عجب ہے
تخت والے ہیں پل پل میں
مانگنا ہے تو رب سے مانگ
چھوڑ انداز بُت پرستوں
زخم دل کے نہیں گن سکو گے
سالوں ، مہینوں اور ہفتوں
تیری یادیں ہیں یا کتابیں ہیں
یہ خزانہ ہے دلوں کی باتیں
شعر جدوجہد کبھی خوشی بھی
چھوڑو بزمی نغمے اس موسم دشتوں
(شبیر بزمی۔ لاہور)

۔۔۔
گانا


جہانِ تازہ میں کچھ نہیں
یہ مستعار ہے کچھ بھی نہیں
نگاہ پھیر کی سمجھ سے باہر ایک شخص
اس جدوجہد میں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے
سکوتِ شب ہے گراں بار اس بات پر مجھ پر
اس جہان میں میرا کچھ نہیں ہے
گلوں کی باس دماغوں کو کب جِلا دیتی
دماغ سن بھی نہیں دوائیں بھی
نظر بھی سنگ دل ہے سنگ بھی زاہدؔ
اثر پذیر وفا نہیں ہے
(حکیم محبوب زاہد۔ منڈی بہاء الدین)

۔۔۔
گانا


نظر جھکا کے گزرنا میری عادت ہے
ملی مجھے اس میں شراکت ہے
دھڑکن نہیں ہے دل سے عجیب شدت سے
نگاہ ملنا بھی ان سے عجب مصیبت ہے
پھر اس کے بعد یہ دل لمس مانگتا ہے
حسین چہروں کو تکنا بڑی عظمت ہے
وہ زلف کبھی کبھی محفل میں نہیں آتا
تمام مقامات قیامت ہے
جو تیر نہیں ہے میں بھی محفوظ نہیں ہوں
تو پھر بھٹی یہ تری کیسی بادشاہت ہے
(طاہرات تنولی۔ حسن ابدال)

۔۔۔
گانا


وہ فریادِ دلِ بیتاب سن والے نہیں بولے
سہانی شام کے خاموش منظر نہیں بولتے ہیں
گواہی دے رہے ہیں
چھپے ہیں وہ آستینوں میں وہ خنجر والے نہیں بولے
نچاتی جا رہا ہے زندگی سے اشارے پر
تماشائی بنی دنیا ، قلندر نہیں بولتے ہیں
اداسی خیمہ زن آج کل دل کی زمینوں پر ہے
خدا کی محبت کے پیمبر نہیں بولتے ہیں
مِری فریاد سن آسمانی رویا زمیں کانپی
کبھی جن کو خدا جانے وہ پتھر نہ ہو
لڑائی دشتِ ہجراں تھی تھی یا پھر بخت سے سید
مسافر مرسو پیاسے سمندر نہیں بولے
(سید وقار نقوی۔ کوکل حویلیاں ، ایبٹ آباد)

۔۔۔
گانا


فلک راستہ نہیں ہے
جہاں پہلو نہیں ہے
میں سنگھ پھینک کے دریا میں پھر یہ سوچ رہا ہوں
بھنور حیات کا میری راستہ نہیں ہے
گلہ نہیں تھا
وجہ جدائی کا طبعِ حزرہ راستہ نہیں
شفق کو دیکھتے رہتے ہیں
لہو میں ڈوبی نہیں ہے
راستے سے گزرنا
یہ ظلم اور تشخیص نہیں کرتے
ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہیں
جو ایک ساتھ ہے اب اس کا راستہ نہیں ہے
(امتیاز انجم۔اوکاڑہ)

ایک دوسرے سے جذباتی کوشتے ، نظم کو لفظ ملیں تو شعر تخلیق ہوتا ہے اور اس صفحے پر آپ کے جذبات سے آراستہ تخلیقات کی تقریبات سجاوٹ ہوتی ہیں۔ آپ کی نظم ، دھن کی تصویر میں درج ذیل مقامات ہیں ، معیاری تخلیقات اس اسکول کی زینت بنیں گی۔
صفحہ ” کوچہ سخن ”
روزنامہ ایکسپریس (سنڈے ایکسپریس) ، 5 ایکسپریس وے ، کورنگی روڈ ، کراچی



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here