مرے سپرد کیا خود نہیں ہے مجھے کوئی حیرت نہیں ہے۔  فوٹو: فائل

مرے سپرد کیا خود نہیں ہے مجھے کوئی حیرت نہیں ہے۔ فوٹو: فائل

گانا


مجھے سپرد کیا نہیں ہے؟
مجھے کوئی حیرت نہیں ہے
بچاا میں بھی نہیں ہے
ترکی کے خیال میں بے ساختہ پیاز ہے
تم ایک شخص ہے لیکن تری محبت میں
دل و دماغ کی تقسیم ہے
میں تمہاری سمت بھی دیکھتا ہوں
خدا کی یاد نہیں ہے
جدائی ، رنج ، اداسی ، اندھیرا ، خوف ، گھٹن
ہر ایک دل کھولیں
اب کوئی نہیں گنجائش
مجھے تم سے محبت نہیں ہے
(علی شیران ۔شورکوٹ ، جھنگ)


گانا


جو ہو رہی ہے اسے بدلنا نہیں ہے
جو بھی تھا وہ بھی نہیں تھا؟
ہمارا دل میں اورانوں کا چراغ روشن ہے
ہمارے دل میں شبہ کوئی پل نہیں
ستم بھی ہے اور کچھ بھی نہیں ہے
خدا کی بستی میں نہیں چل رہا
یہ راز موسیٰ سے پوچھیں یا سینا سے ہیں
کوئی دید تو پروانہ جل نہیں ہے
یہ لوگ چومنے لگیں گے مراٹھا
جب جب پہلا خاکِ درِ یار نہیں ہوتا تو
وہ جس طرح سے اپنا تعلق رکھتا ہے
وہ آدمی کوئی کلیدی مسلک نہیں ہے
ہم لوگوں کو اکرام ؔزندہ رہنا ہے
کہ آفتابِ محبت تو ڈھال نہیں
(اکرام افضل۔ مٹھیال ، اٹک)


گانا


آنکھیں اس سے نہیں چھپانا بھی ہیں
جو خواب مجھے تجھ کوکھانا بھی نہیں ہے
کھلنے کی بات نہیں مری مریکی پرتیں
یہ شعر مجھے تجھ کو سنانا بھی نہیں ہے
آن لائن دیکھیں
جب تجھ کو مرے خواب میں آنا بھی نہیں ہے
مجھے دوستی ہے
ابہام سے آگے مجھے جانا بھی نہیں
جاننے کا راستہ خود سے ملنا پہلو مجھ کوک
اور گھر سے نکلنے کی بہن بھی نہیں ہے
ڈرتے ہیں درِ غم سے اٹھتے ہی نہیں جاتے
کوئی اور کوئی بات نہیں
اکیلے مسافر پہلا روانا ہوں
رکنا بھی نہیں
(شعیب بخاری۔ لیہ)


گانا


جس کوٹنا میں پسند کیا گیا تھا ، جس کوٹ میں لکھا چاند
چھوڑ دیا گیا ہے مجھ کو آج کیسے اس نے اپنایا چاند
چھپی کبھی نہیں ، کھیل کی آنکھ مچولی
میری جان مجھے بالکل ٹھیک ہے جیسا چاند
ہو سکھ ہو ، رنج ، خوشی ہو ، مشکل ہو یا آسانی
ہر موسم میں نبھائے میرا یار پرانا چاند
نفسا نفسی کا عالم سب کو اپنی فکر پڑی
اپنے دھرتی ، اپنا امبر ، اپنا سورج قبول کریں
چہروں سے خوشی اور غفلت اور غموں سے دل بوجھل
اب آپ کے دیس میں نکلا عید پہلو کیسا چاند
(صبیح الدین شعبی۔ کراچی)


گانا


عشق کے تاجروں کو نفع اور ضرر سے کام
مفت لے جانے والے ، قیمتوں سے کام لینے والے
چھت والے سمجھتے ہیں
آپ کے بادیہ پیماؤں کے گھر سے کام ہے
مانگنے میں وہ لذّت نہیں ہے
جو تجزیہ کرتا ہے اس کا اثر سے کام ہے
یہ تو جانچ پڑتال کرتا ہے یارو ہمارا اخلاص
اور کام کی دیواری سری سے کام
ہم تو عاشق ہیں ، بھٹکنا ہی منزل ہے
کیا تعلّق جادے سے ، خضر سے کیا کام؟
اس کی تنہائی مٹیوں کی آتی ہیں
ورنہ چڑیوں کو بھلا بوسٹری شجر سے کیا کام ہے
فانی! اللہ نہ بخشی ہو کان کان سخن
سیم و زَر سے ہے ، لعل و گُہر سے کیا کام ہے
(فضل اللہ فانی صوابوی۔ صوابی ، خیبر پختونخوا)


گانا

بڑے عجیب خسارے گلے پڑے ہوئے ہیں
ہمارے ہاتھ سے گلے پڑے ہوئے ہیں
سنبھلنے والی جگہ پر جو رہتے ہو
تم دوست ہو
یہ آسمان اندھیرے میں رہائش گاہ ہے
یہ چاند ستارے گلے پڑے ہوئے ہیں
میں ایک لڑکی سے بات نہیں کر رہا ہوں
مجھے یہ دیکھا گیا ہے
کسی کے بارے میں کیا کہنا ہے کہ اچھا ہے
یہاں تو سارے کے سارے گلے پڑے ہوئے ہیں
مجھے کچھ چھوڑ دو اور دیکھو مجھے
یہ خوش مزاج نظارے گلے پڑے ہوئے ہیں
میں آپ کی ذات کی گرا نہیں کاتبؔ
لیکن جو میرے سہارے گلے پڑے ہوئے ہیں
(سجاد کاتبؔ۔دریا خان ، بھکر)


گانا

ہجر کی درد بھری رات سے ناواقف ہوا
میں قیامت سے لمحات سے واقف تھا
ہر پری رُخ نہیں کِیا مشقِ سمت اس دل پر
حسن بخشوں کمالات سے ناواقف تھا
مجھے اپنے ہی خون کی پیاس نکلی ہے
ورنہ اپنوں کی عنایات سے ناواقف ہوا
چھوڑ دو پھول کو کانٹ کی خریداری
مراسلہ دل سے خود جذبات سے ناواقف ہوا
روزنامہ اشک کی بارش ہے دلِ بنجر پر
تم سے پہلے میں برسات سے ناواقف تھا
میری قسم میں سلاسل
میں زمانے کی روایات سے ناواقف تھا
آپ کی منزل کو گنوا کر پریشان تھا
واضح طور پر دیہات کی گریج کی ذات سے ناواقف ہوا
(سلیم وفا ۔سکردو)


گانا


شکایت کی طلب نہیں ہے
کوئی سن نہیں
بڑا دل بھی محبت کرتا ہے
میں دل کو خرچ کرنے میں نہیں رہتا ہوں
محبت میں معافی ہو سکتی ہے ، کیسے ممکن ہے؟
یہ دستورِ محبت نہیں ہے
اچھائیی کو بیاںیاںیاں کرنے. اچھا…………………..
معافی کی جگہ میں ہدایت نہیں ہے
کہ کارنی کی دل تک رسائی بھی ہے
اس میں کوئی دل نہیں ہے
میں مفلس ہوں مرے عالیؔ مجھے پیسہ کمانا ہوں
اس کاروبار میں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے
(عمران عالی۔ احمد پور سیال)


گانا


دیکھو خدارا دیکھو ہمارے وجود پر
کیسے نشان پڑھیں سارے وجود پر
تم چاندی مشکل رہو ستارے بھی لا دوست
اللہ کے چوم چوم تمھارے وجود
تم کرم نہیں ہو گی
مجھے یقین نہیں ہے ، وہ سنوارے وجود پر ہے
چوما تھا ایک بار ترے ہونٹ کو نڈیم
اس دن سے آگ لگ رہی ہے
(ندیم ملک۔ نارووال)


گانا


بہت لمبے عرصے سے
غنیمت اب آنکھیں بھر رہی ہیں
صدا ہوا ہے ، تو نہیں ہے
ترے غم میں صدائیں مر رہے ہیں
تری گھبراہم کو جانتا ہوں
یہ سب کچھ مجھے اکثر آتا ہے
یہ کچھ نہیں خون آلود باتیں
دن دن یہ یہ……
میں جن پی پی کے سائے میں پلاٹ ہوں
وہ شاخیں اب مجھ سے ڈرتے ہیں
(فرجاد مہدی۔اسلام آباد)


گانا
کبری رضا کا چلتا ہے
حکم ہے خدا کا چلتا ہے
کیسی قسم ہے ان چراگوں کی
زور سے ہوا کا چلتا ہے
گھر سے نکلنے والوں کے ساتھ مرے
سلسلہ اکڑ رہا ہے
دل کی نگری پہلا ہر زمانے میں
یار سکہ وفا کا چلتا ہے
چھوڑ دو حادثہ پیچھے
وقت ظالم بلا کا چلتا ہے
ہم محبت میں مارے ہوئے لوگوں میں
سارا جھگڑا انا کا چلتا ہے
(ناہید اختر بلوچ۔ ڈیرہ اسماعیل خان)



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here