کورونا کی دوسری لہر تیزی سے پھول رہی ، پولیو پاکستان اورافغانستان میں رہا۔  فوٹو فائل

کورونا کی دوسری لہر تیزی سے پھول رہی ، پولیو پاکستان اورافغانستان میں رہا۔ فوٹو فائل

اسلام آباد: پاکستان میں عالمی ادارہ صحت سے متعلق ڈاکٹر پالیتھا ماہیپالا نے کہا کہ کورونا کا مقابلہ پاکستان نے حکمت عملی پر مبنی اپنائی سے کیا۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈاکٹروں کے بارے میں ڈاکٹر پالتھا ماہیپالا نے مارننگ شو ‘ایکسپریسو’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ کورونا کا مقابلہ پاکستان نے اپنی حکمت عملی اپنائی کے دوران کیا تھا جب کورونا وبا پر بروقت قبو پا پا دنیا کے سرفہرست ممالک شامل تھے۔ ہے۔

کورونا وبا میں پاکستانی صارفین کو بھی کریڈٹ حاصل ہے جو حکومت کی حکمت عملی پر عملدرآمد ہے۔ مجموعی طور پر وزیر اعظم عمرا ن خان کی سمارٹ حکمت عملی عملی ثابت ہوئی۔ اس نے بتایا تھا کہ کورونا وبا کی دوسری لہر تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس نے پاکستان کی مدد کی ہے جو امید ہے کہ ویکسین کی تیاری پر کام کر رہے ہیں ، امید ہے کہ 2021 ء میں دو ارب ویکسینزآجائے گی۔

ڈاکٹر ماہیپالا نے تشویش کا اظہار کیا کہا کہ پولیو وائرس پاکستان اور افغانستان میں باقی رہ گئے ہیں۔ جن پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور پولیو کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کینسر اور ذیابطیس جیسی بیماریاں عام ہیں۔ پاکستان میں دنیا بھر میں بریسٹ کینسر سے آگاہی مہم جاری ہے۔ پاکستان میں ہر سال 30 لاکھ بریسٹ کینسر کے معاملات سامنے آتے ہیں جن میں سے چار ہزار 58 ہزار افراد موت کے منہ میں چلی جاتے ہیں۔ اس خطرناک بیماریوں سے بچنے کے لئے پاکستان کے بنیادی نظام صحت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔



Source by [author_name]

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here