اس نے کہا کہ وہ کورونا کا شکار ہے اور اس نے فوراً ڈالر مہیا کیا ہے لیکن ہر شخص کو اس وائرس سے متاثر ہونا پڑا۔  (فوٹو: فائل)

اس نے کہا کہ وہ کورونا کا شکار ہے اور فوراً ڈالر نہیں دے رہا ہے ہر شخص کو اس وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ (فوٹو: فائل)

جارجیہ: امریکہ ایک شخص کے بینک کے عملے کو ‘ناول کورونا وائرس’ سے ڈرا کرکون بینک کی کوشش کر رہا ہے۔

خبروں کے مطابق ، امریکی ریاست جورجیہ کی کلیٹن کاؤنٹی میں ایک بینک کی برانچ میں ایک اڈھیا عمر شخص شخص داخل ہوا جو بالکل نہیں تھا۔

اس نے بینک کے عملے سے کہا تھا کہ وہ کورونا وائرس میں مبتلا میں ہے اور اگر اس کے پاس ملاقات نہیں ہوئی تھی تو وہ برانچ میں موجود ہر شخص کے وائرس سے متاثر ہوا تھا۔

البتہ عملے اس کیمپریکی پر کوئی دھیان نہیں دے رہے تھے لیکن وہ کسی فرورا پولیس کو کال کرسٹ پر نہیں بچا تھا۔

اس کے بارے میں کلینٹن کاؤنٹی شیرف آفس نے اپنی فیس بک پیج پر ایک پری ریلیز جاری رکھی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وہ برانچ کی سی سی ٹی وی فوٹیج ہے جو اس شخص کی 51 سالہ وکٹر کی ہارڈلی کرالی کی شناخت ہے جس کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ میں نے کہا

اگرچہ اس ریلیز میں اغ اغ اغواط موجود ہیں جن کو دیکھنے کا انداز ہے لیکن شاید اس شخص کا اصل نام نہیں ہے۔

تفتیش کرنے پر اس شخص نے پولیس کو اطلاع دی کہ اسے کورونا وائرس کی وجہ سے مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس نے دو ہزار ڈالر کی اشد ضرورت تھی۔ ہمارے حالات مشکل سے دوچار ہیں۔

اس واقعے سے کسی طرف امریکہ میں کورونا وائرس پھیلتے ہوئے معاشی بدحالی کا انداز ہوتا ہے ، لیکن اس سے پہلے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کسی سرکیہ پر بھی یہ واقعہ پیش نہیں کرسکتا ہے یا دہشت گرد گروہ کورونا وائرس کو بٹور ہیٹیئر استعمال کرنے کا پروگرام ہے۔ جو اس خطرے میں مزید بڑھاو ہو۔

واضح رہے کہ امریکہ کورونا وائرس سے بدترین متاثرہ ملک ہے جہاں کورونا وائرس سے روزانہ ایک ہزار سے زیادہ اموات ہورہی ہیں جبکہ کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد ڈیڑھ میٹر کے قریب پہنچ چکی ہے اور مجموعی اموات کی تعداد 2 لاکھ 82 ہزار ہندسہ عبور کرچکی ہے ہے۔ وبائی ماہرین کو خدشہ یہ ہے کہ امریکہ میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد تین لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور اس میں تین لاکھ سے زیادہ ہوسکتی بھی ہیں۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here