ایستونیا میں یہ خیال مقبول ہے کہ ٹھنڈے میں پانی رہنے سے خون میں سفید خلیوں کی تعداد بڑھتی ہے جو کورونا وائرس سے بچنے میں مددگار ہوتی ہے۔ (تصاویر: رائٹرز)

ایستونیا میں یہ خیال مقبول ہے کہ ٹھنڈے میں پانی رہنے سے خون میں سفید خلیوں کی تعداد بڑھتی ہے جو کورونا وائرس سے بچنے میں مددگار ہوتی ہے۔ (تصاویر: رائٹرز)

ایسٹونیا: کووِڈ 19 کی عالمی وبا نے ساری دنیا کو پاگل کردیا ہے اور اس پاگل پن کا تازہ ترین مظاہرہ ایسٹونیا کے ساحلی شہر تالین میں دیکھا گیا ہے جہاں سیکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے صرف اس لیے انتہائی سرد پانی میں کئی گھنٹے تک غوطے لگائے تاکہ وہ کورونا وائرس سے محفوظ رہ سکیں۔

خبر رساں ایجنسی ’’رائٹرز‘‘ کے مطابق، ایسٹونیا کے شہر تالین میں آبدوزوں کے ایک پرانے ڈاکیارڈ میں بنائے گئے 25 میٹر طویل تالاب میں 505 مقامی افراد نے 4 گھنٹے اور 50 منٹ تک تیراکی کرنے کے علاوہ خوب غوطے بھی لگائے جبکہ پانی کا درجہ حرارت 4 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔

بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت یقینی بنانے کےلیے یہاں تیراکی کا ایک باقاعدہ ’ٹورنامنٹ‘ منعقد کیا گیا تھا جس میں شرکاء کو ٹکڑیوں کی شکل میں تیرنے کے علاوہ ٹھنڈے پانی میں غوطے بھی لگانے تھے۔

ایسٹونیا میں یہ خیال بہت مقبول ہے کہ اگر بہت دیر تک ٹھنڈے پانی میں رہا جائے تو اس سے خون میں سفید خلیوں کی تعداد بڑھتی ہے جس سے کورونا وائرس کے حملوں سے بچنے میں بہت مدد بھی ملتی ہے۔

یہ ’’اجتماع‘‘ ایسٹونیا کے شہری ایوار تیوگیدام نے منعقد کیا تھا جو سرد موسم میں تیراکی کے بہت شوقین ہیں اور گزشتہ چند سال سے ایسے ہی اجتماعات منعقد کرواتے آرہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال کورونا سے بچاؤ والی افواہ نے اس اجتماع کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ کیا اور گزشتہ برسوں کے مقابلے میں شرکاء کی تعداد تین گنا سے بھی زیادہ ہوگئی۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here