پولیس واقعتا کوم ظاہرکیا جب جنازہ اسپتال میں جاں بحق اور زخمیوں کے رشتے داروں نے بھانڈاپھوڑدیا۔  فوٹو: فائل

پولیس واقعتا کوم ظاہرکیا جب جنازہ اسپتال میں جاں بحق اور زخمیوں کے رشتے داروں نے بھانڈاپھوڑدیا۔ فوٹو: فائل

کراچی: کورنگی مہران ٹاؤن پولیس اہل علاقہ کے عوام سے ایک دن جاں بحق اور 2 شہریوں کا واقعہ پیش آیا جب اس نے مکقت کے اہلخانہ کے بارے میں بات کی تو انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں زیر حراست پولیس اہلکار بھی شامل نہیں ہیں۔ کیا گیا؟

کوکورنگی صنعتی ایریا کی سرگرمی کی حدود مہران ٹاؤن سیکٹر 8 میں بندکیٹی کی واردات کے بعد پولیس اہلکاروں کی موجودگی کے بارے میں دعوی دار دار ایک مزدور 40 سالہ عطااللہ جاہ بحق اور 2 مزدور 35 سالہ خضر اور 23 سالہ یاسر کا واقعہ پیش آیا۔ جنازہ اسپتال منتقل کیا گیا۔

پولیس واقعتا واقع فوری طور پر جناح اسپتال میں پولیس کی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے جب جناح اسپتال میں مقتول عطااللہ کے بھائی ثنااللہ میڈیا نے بتایا کہ حقیقت میں حقائق کی عبادت کی گئی تھی اور اس نے خود ہی مدد کی۔ 15 پولیس کوک اور ان کے منتظر تھے جب ہم پولیس کے موقع پر پہنچے تو اندھا دھند نے اس وقت حملہ کیا جب ڈاکو بچا فرارہوئی 10 منٹ گزر رہا تھا جس کے بعد انھوں نے اللہ جاں بحق اور 2 افراد کو زخمی کردیا۔

واقعے کے بعد واقعی حقائق کے بارے میں پولیس کی حرکت میں آگیا اور پولیس واقعہ پیش آئی 5 پولیس اہلکار کو حراست میں لے جاھانے اور اس سے رابطہ کیا گیا۔

بدھ کو کورنگی صنعتی ایریا پولیس نے مقتول عطا اللہ کے اہل خانہ کی جماعت کو بتایا کہ جمعہ کوکئی چھٹی والی درخواست پر بھائی نثااللہ کی مدعیت میں واقعے کا واقعہ درج تفتیش انویسٹی گیشن پولیس کے سپرد کرایہ پر ہے۔

پولیس والوں نے بتایا کہ پولیس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ایس ایم جی ایک خول اور چھوٹی چھوٹی جماعتوں کے 2 خول حصے ہیں جن کے بارے میں پولیس نے تحویل میں لیا تھا ، زیرحراست پولیس اہلکار ہتھیارور تھے جو وقوعہ سے ملنے والے تھے ، فرلانسک تجزیے کے بھجوادی تھے۔ واقعی کی شفاف تحقیقات ایس ایس پی لانڈھی کی ایک ایسی تشکیل دی جارہی ہیں۔

کورنگی صنعتی ایریا کے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کے دوران مقتول عطااللہ بہنوئی تیمورنے واقعے کے اندراج پر تحفظات کے اظہار کے بارے میں بتایا ہے کہ پولیس کو درخواست دی گئی ہے کہ واقعے کا کوئی واقعہ درج نہیں ہوا ہے لیکن پولیس اہلکار بھی نامزد نہیں ہوئے۔ یہ پتہ نہیں ہے کہ کتنے اہلکار کو حراست میں شامل کیا جاسکتا ہے ، اس پروگرام کے لاک اپ میں زیر حراست اہلکار موجود نہیں ہیں ، مہندراعلیٰ سندھ اور آئی جی نوٹسس اور انصاف فراہم کرتے ہیں۔

مقتول کے بہنوئی نے بتایا کہ مقتول کا بھائی نثااللہ میت آبائی علاقے ملتان لے کرروانہ واقعہ ہے جہاں مقتول کے آبائی علاقوں میں تدفین کریکا ہوا ہے مقتول عطااللہ 3 بچوں کا باپ اور 4 روز قبل اس گاؤں سے کراچی آیا تھا۔

ابتدائی انکوائری رپورٹ کے بارے میں پولیس بھی مکمل انتظامی اور اہل پولیس کے بیانات قلمبند کرلیے ہیں۔ پولیس اہلکار ابتدائی انکوائری رپورٹ میں پولیس اہلکار قصوروار پائے جاتے ہیں۔

پولیس پارٹی جب موقع پر پہنچی تو ڈاکو فرار ہو گیا تو انکوائری کی رپورٹ بھی سامنے آئی جس کے بعد دوگھراہٹ کے علاقوں میں واقعہ واردات کے وقت کے لوگوں نے بھی اسے قبول نہیں کیا اور اس سے کچھ زیادہ کچھ نہیں ہوا اس پولیس پارٹی کا موقع پرپہنچی اور مزدوروں پر موسم گرما ہے۔

کورنگی صنعتی ایریا پولیس نے حراست 5 کے تحت 5 پولیس پرستیبل رضوان ، رضا ، عامر ، اشتیاق اور جنید کوٹ میں واقع ہونے والے افراد کے ساتھ تعطیل کا الزام لگایا تھا۔

مقتول عطااللہ کے بھائی ثناءاللہ کی مدعیت میں واقعہ قتل کا واقعہ 302 اور ڈکیتی کی دفعہ کو شامل کیا گیا ہے ، مدعی مقدمہ میں بیان دیا گیا ہے کہ مقتول اور زخمی شخص سے ڈاکوؤوں نے ایک لاکھ روپے نقد اور 5 اسمارٹ موبائل فونز چھینے والے فرار ہوگئے ، مکول کے بھائی ثنااللہ نے 50 ہزار اور موبائل فون پر جھڑپوں میں مدد کی کہ وہ مددگار گار 15 پر کال پولیس کا انتظار کر رہا تھا ، جس پر پولیس اہلکار ڈاکو کو پکڑنے گئے تھے۔ میرے بھائی عطااللہ جان بحق میں قیصر اور خضر حیات ٹانگوں پر گولیاں لگنے سے دور ہو گئیں۔

مدعی مقدمات کے مطابق پولیس اہلکاروں اور ڈاکو کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں آگئی ، جس کی وجہ سے ہم ان کی مدد کر رہے ہیں۔



Source by [author_name]

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here