جس طرح ٹن میں کھانا پیکیج کا طریقہ ہے اسی طرح سے افغانستان میں مٹی کے برتن میں چھ ماہ تک محفوظ رکھے ہوئے جاسکے ہیں (فوٹو: فائل)

جس طرح ٹن میں کھانا پیکیج کا طریقہ ہے اسی طرح سے افغانستان میں مٹی کے برتن میں چھ ماہ تک محفوظ رکھے ہوئے جاسکے ہیں (فوٹو: فائل)

کابل: افغانستان میں دنیا کی پہلی انگوٹی آتی ہے لیکن بجلی اور فریج کی وجہ سے تیزی سے خرابی کی جاتی ہے۔ اس مسئلے کا ایک حل ‘کنگینہ’ کی شکل میں خود افغانی تہذیب کا حصہ ہے۔ اس میں مٹی سے اڑن طشتری نے نمایاں گول ڈبا تیار کی جس میں انگور چھ ماہ تک تازہ رہائش پذیر ہے۔

کنگینہ کا سفر خاصہ پرانا اور دلچسپ ہے۔ انگورکے افراد فرسودہ موسم کی ایک بڑی قیمت دیتے ہیں اور اسی وجہ سے افغانستان کی دیسی ریفریجریٹر ‘کنگینہ’ کی ضرورت پیش کرتا ہے۔ یہ مٹی سے تھالی نما ساختی بنائی ہوئی ہے اور اس کے اندر کی انگلیوں میں اس کے اوپر ڈھکنا ہے۔ اس کے بعد ‘کنگینہ’ کوکشکرانہ طریقہ ہے۔ سوکھنے کے بعد کی ٹنڈی ، خشک اور تاریک جگہ پر کام کرنا ہے۔ گجنینہ کو آپ پھولی ہو کچوری ، یا اڑن طشتری سے بھی مشابہت دیں۔

انگور معاف میں بطورِ خاص احتیاط سے کام لیا جاتا ہے۔ اس میں انگوروں کا مکمل راستہ ہے اور انگلیوں کو الگ الگ راستہ دیا جاتا ہے اور وہ انگور گل سڑک کے دیگر انگاروں کو بھی بری طرح سے سند دیتے ہیں۔ اس کے بعد کنگینہ کو بند ہوجائیں۔ یوں مسلسل چھ ماہ تک انگور تازہ رہتے ہیں۔ اس موسم کا پھل کا موسم ختم ہونے کے بعد جب مال دار لوگوں کو انگریزی سے چھپایا جاتا ہے۔

https://www.youtube.com/watch؟v=qaqZZwOk4x0

انگور کی حفاظت کے لئے گھاس پھوس کی تھالی بنائی راستہ ہے اور اس کے بعد مٹی کا لیپ کیا ہے۔ اس طرح کنگینہ کو مکمل طور پر ہوا بند ہوجاتی ہے اور آکسیڈیشن کا کوئی عمل نہیں ہوتا ہے اور کوئی پھل بھی نہیں ہوتا ہے اور اس کے ساتھ انگریزیوں کا بھی بہت فاصلہ رہتا ہے۔

انگریزوں نے مٹی کے ریفریجریٹر کے ماہر عبد المنان کو بتایا کہ انگور نے خود کو الگ الگ جان لیا اور اس کے بعد گچھا میں برتن میں ایک کلوگرام انگور تک رسائی حاصل کی۔ گنجائش ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here