اپنے مرکزی ستارے کے گرد چکر لگاتا ہوا 'واسپکٹ 107 بی' سیارہ: مصور کا ٹیکیل (فوٹو: وکی پیڈیا)

اپنے مرکزی ستارے کے گرد چکر لگاتا ہوا ‘واسپکٹ 107 بی’ سیارہ: مصور کا ٹیکیل (فوٹو: وکی پیڈیا)

پیساڈینا ، کیلیفورنیا: سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تین سال قبل داریافت آنے والا سیارہ ” واسپیکٹ 107 بی ” یہ قدرتی نرم اور کم کثافت والا تھا جو اس کی سیرائ کوٹ وجود میں آنا ہی نہیں تھا۔

واضح رہے کہ اس وقت 107 بی بی کو کوٹ سے کم کثافت والا سیارہ معاہدہ ہوا تھا جہاں بڑی مقدار میں ہیلیم گیس موجود تھی جس کا انکشاف بھی ہوا تھا۔ لیکن اب ماہرینِ فلکیات کی ایک عالمی ٹیم جانتی ہے کہ اس کے کثافت والے سابقہ ​​انداز بہت کم ہیں۔

بتاتا چلتا ہے کہ ‘واسپک 107 بی’ ایک بار سیروی نظام (پلینٹری اسٹسٹم) کا حصہ ہم سے 211 نوری سال دور ، برجِ سنبلہ کی سمت میں واقع ہے۔

اس سیارے کی گنتی ‘نارنگی دیووں’ (سنتری دیو جنات) کہنے والے ‘سپر نیپچون’ قسم کی سیاروں میں ہیں۔ یعنی اس کا بیشتر حصہ گیس پر ہے۔

یہ مرکزی ستارے (WASP-107) لگ بھگ اتنا قریب آرہا ہے اور سورج کا درمیانی فاصلہ ہے۔

یہ ‘سورج’ کی گردش اتنی جلدی سے ہے جو صرف 138 گھنٹی ہے (5.72 زمینی امتحان) ایک چکر مکمل کر لیتا ہے۔ آسان الفاظ میں ‘واسپک 107 بی’ کا ایک سال ، زمین سے گزرنا صرف 5.72 شام میں مکمل سرگرمی ہے۔

مرکزی ستارے بہت گرمی کی وجہ سے ہیں اور اس کی بیرونی درجہ حرارت 462 ڈگری سینٹی گریڈ میں لگ رہا ہے۔

لیکن سب سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ اس سیارے کی پوری دنیا میں سسٹری اشتہاری (جیوپیٹر) جٹنی ہے لیکن اس کی کمیت (مادّے کی مقدار) اس سے قریب قریب دس گناہ ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ ‘نیپچون’ جیسی ہے۔

اس کے بارے میں اگر ‘واسپکٹ 107 بی’ سے ایک مکعب سینٹی میٹر مادّہ ہو تو اس کی کمیت صرف 0.13 گرام رہ سکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں مشتریوں کے کثافت دس گناہ یعنی 1.33 گرام فی مکعب سینٹی میٹر ، زمین کی اوسط کثافت 5.51 گرام فی مکعب سینٹی میٹر ہے (جو ‘واسپکٹ 107 بی’ سے 42.4 گنا زیادہ ہے)۔

کسی سیارے کی اتنی کم کثافت صرف اس کے مرکزی حصے یعنی کلب (بنیادی) کی کمیت بھی بہت کم ہوسکتی ہے۔

تازہ ترین تحقیق میں ماہرین نے محتاط انداز میں کہا ہے کہ ‘واسپک 107 بی’ قلب کی کمیت ناقابل یقین حد تک کم ہے ، اس کے مقابلے میں صرف 4.6 گناہ زیادہ ہیں۔ یہ بھی ایک بات ہے ‘واسپک 107 بی’ کا 85 فیصد ماد مہ گیس کی شکل میں ہے۔

بظاہر یہ بات بھی بہت زیادہ عجیب نہیں ہے کہ یہ صرف 5 فیصد سے 15 فیصد حصہ ‘قلب’ کے معاملے میں موجود ہے جس میں 85 فیصد 95 فیصد تک کم دبئی گیس کا معاملہ ہوتا ہے۔ میں قلب کی مسلسل حرکت میں رہتا ہوں۔

البتہ ماہرین کی بات سب سے زیادہ پریشان کن ہے ‘واسپکٹ 107 بی’ کے مرکزی مقامات سے کہیں قریب ہے کہ جہاں کسی بھاری بھرکم گیسی سیارے کا وجود ممکن ہے اس کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ہم مروجہ فلکیاتی نظریات سے محفوظ بت پرست ہیں۔

اگر ہم اس نظریات کو درست سمجھتے ہیں تو پھر 107 بی بی کے ستارے سے دور رہ سکتے ہیں ، لیکن اس سے زیادہ بڑے سیاروں کی قوتِ ثقل (گریڈیٹی) نے دھکیل کے ستارے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ ۔

لیکن اگر کوئی ہوا نہ ہوا تو پھر وہ مروجہ فلکیاتی نظریات میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ وہ ‘واسپکٹ 107 بی’ ہو اور سیارے دریافت کرنا چاہیں گے لیکن اس سے پہلے بھی ‘گیسی دیوار’ ہوں گی۔

سرائڈسٹ اس بارے میں گفتگو جاری ہے جس کا حتمی نتیجہ شاید سال کے بعد برآمد ہوگا۔

نوٹ: اس تحقیق کی تفصیل ” دی ایسٹرونومیکل جرنل ” کی تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here