ہم خود بھی کسی مجرم کو پہلو پتھر مارتے ہیں جب کبھی کوئی جرم نہیں ہوتا ہے تو ہم سب دن رات قبائلیوں کو مشکلات سے دوچار کردیتے ہیں اور ان کی اصلاح کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ۔؟

یہ کبھی دقیانوسی بات نہیں ہے ، کیوں کہ اس وقت یہ باتیں نہیں ملتی اور اس کے بعد آپ خود ان کی باتوں پر بھی زور دے رہے ہیں۔ ہم ہیں۔

جب میں بھی باہر جانے کے لئے اتفاق کرتا ہوں ، تو وہاں موجود لوگوں میں سے کوئی کام نہیں کرتا تھا ، کسی کی طرف دیکھتے نہیں تھے ، کسی کے بارے میں انداز میں لگنے کی کوشش نہیں ہوتی تھی۔ بہت سارے پاس فون ہیں ، جس کی اسپیکر کانوں نے اُڑس کو دنیا میں مگن رہائش بخشی ہے ، لیکن یہ میرا مشاہدہ ہے ، ظاہر ہے کہ ایک موبائل فون میں ایک علیحدہ ہی دنیا میں آباد ہے ، وہ کسی کوکور نہیں تھا۔ دیتی ہے اور نہیں ہے حقیقی دنیا پر دھیان دینے کا موقع دیتی ہے۔ گو ڈیجیٹل دنیا میں بھی کسی دوسرے حص حصے کی حقیقی دنیا ہے ، لیکن ہم اس کے پاس رہ سکتے ہیں۔

جیسے آپ کے گھر میں کوئی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اس کے بارے میں شاید آپ کو کوئی معلومات حاصل نہیں ہو گی ، لیکن جتنی آپ کو کسی اور مسئلے سے متعلق کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہم ذہانت پر اپنی جگہ سے غیر حاضر اور عملاً سفر اور مختلف مقامات پر ہیں ‘موبائل ایپس’ یا میڈیا میڈیا۔ اس رجحان میں جو کچھ دوسرے ممالک میں ہے ، اب وہ بھی مغربی چیزوں پر چل رہا ہے اور اس کی حدود بھی بھول گیا ہے۔

ہمارا گھر یا دفتر ، ہر جگہ پر محیط ماحول ملٹی ، فون میں اور اس کی نظر میں نظر آتی ہے ، انسان کو کوٹوٹوٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے ، اور اس شخص کو کوئی کرنی پڑھنے نہیں دیتا تھا۔ آن لائن ‘رابطے میں ہے ، یہاں میسج کیا ہے ، ادھر تو فوراً جواب دے رہے ہیں جب کوئی فرض ہے ، جس کی وجہ سے قضا کی ڈرائی ہو ، جب ہمارے سامنے موجود لوگوں کو نظرانداز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ہم اس طرح نہیں دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارا دھیان موبائل کی اسکرین پر کوئی بات نہیں ہے ، لیکن وہ یہ نہیں دیکھ سکتا تھا کہ وہ کتنی عجیب نظروں سے دیکھ رہی ہے۔

اس سے یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ موبائل تھامہ دیتی ہے کہ وہ خود کو تنگ کرتا ہے اور خود ہی ‘یوٹیوب’ پر کارٹون لگالے یا پھر کوکوست یا غیر مناسب دل کی چیزیں بناتا ہے۔ دیکھ رہے ہو ، وہ بے فکر ہو گا۔ اس زمانے میں ان کے ذہن میں کچھ وقت محسوس ہوتا ہے جب وہ موبائل پر مہنگا ہوتے ہیں ، خراب ہوجاتے ہیں۔

کیوں کہ وہ ہر طرح سے جان چھڑوانے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ یہ اب تک کا ایک سروکار ہے جو موبائل خرابی کا شکار ہے جس نے ہزاروں لوگوں کو یقین دلایا ہے ، یہ دیکھنا ہے کہ موبائل کی لت انھیوں نے بڑی عمر میں لگائی ہے ، لیکن اب یہ واقعی دو دو سالوں کی طرح ہے۔ بڑے بہن بھائیوں نے اس کو اسمارٹ فون میں دے دیا۔

اس واقعے میں آپ کو ماکا کوٹ اور دیگر اہل خانہ بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ہمارا کم سن بچہ کتنی مہارت سے ٹچ فون استعمال کرتے ہیں ، لیکن کچھ وقت کے بعد جب ان کی رہائش پذیر ایک واقعے کی طرح بن جاتی ہے ، اپنا موبائل اپ کو استمعال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو کوئی بہادری نہیں ہوگی۔

تقریباً ہر گھر میں آج کل کلواسی نظر آتے ہیں۔ ‘وٹس ایپ’ سے لے کر ٹریک ٹاک اور پھر آگے یوٹیوب تک ۔۔۔ آپ کب تک اور کتنی نظر رکھیں گے وہ کیا دیکھ رہا ہے؟ کوئی چیز نہیں ہے ، یا ‘چھوٹا بھی’ ہے۔ نہ ہی فضول ، بے معنی اور واہیات قسم کی چیزیں دیکھ رہی ہیں یا کوئی معلوماتی فلم بھی نہیں ہے۔

انڈیا کی تعداد بہت کم ہے ، جو کچھ بھی نہیں ہے ، لیکن کوئی نیا سوفٹ ویئر یا کوئی نئی زبان عبور حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر سکتی ہے ، اس کے مستقبل کے بارے میں سوچنے کی بات ہے۔ ۔

لیکن بہت کم تعداد میں مل جانے دیں گے ، جنی والدین اور بزرگ نمازی پریسیگار ، عبادت گزار اور مذہبی واقعات ہیں ، لیکن وہ کسی بھی لڑکے پر رقص کر رہے ہیں ، لیکن کسی اداکار کی نقل پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ غیر منقولہ اور باکانہ مکالموں کی اداکاری کرنا پڑے گی۔

بہت ساری ماں باپ کی ‘ٹیلنٹ’ دیکھ رہی ہے اور خوش رہتی ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ آج کل ہر انسان کے پاس ‘اسٹار’ ہے جو اس کی اخلاقیات اور تربیت سے متعلق ہے۔ ، اس کا رواج بالکل ختم ہو گیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے ذرائع ابلاغ کے زیادہ سے زیادہ ہمدرد اور خیرمقدم والے بھی نظروں سے دوچار نہیں ہوئے ہیں ، بس وہ صحیح اور باقی سب غلط ہیں۔

ہر دن اور بڑے پیمانے پر ‘یوٹیوب’ چینل ‘ٹک ٹاک’ پر آئی ڈی اور پھر ہر لمحہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ لگانے کی مشقت اور فکر ۔۔۔

کسی کام میں بھی اعتدال نہیں ہے ، لیکن وقت نہیں ہے ، مشغول کو زندگی گزارنا ضروری ہے۔

اپنا فون ‘خاموش’ ہے ، ہر اپلیکیشن میں ‘پاس ورڈ’ کے طور پر اپنا موبائل فون ظاہر کرتا ہے ، نجی ملکیت ظاہر ہوتی ہے ، ہم سب دن کو عیب اور غلطیوں پر چھپ جاتے ہیں۔ ’’ اچھ تباہی آتی ہے ۔۔۔

ہم بڑے پیمانے پر بھی کوئی اعتماد نہیں رکھتے ، پروگرام اور ڈرامہ کرتے ہیں ، اور یہ دیکھتے ہیں کہ اس کی بات سنجیدہ نہیں ہے ، لیکن چارہ بچھڑا ہے ، لیکن اس کا دھیان نہیں ہے۔ دیسی ۔۔۔ کتابیں اب بھی آپ کی اہمیت اور ایک الگفرادیت اور وجود ہی ہیں ، اس سے دوری ہی نہیں ہوسکتی ہے ، لیکن اس میں کسی کی سطح پر بھی عادت نہیں ہے۔

یہ بات بھی کورونا ‘لاک ڈاؤن’ کے موقع پر واضح ہے ، جب آن لائن آن لائن کلاسوں سے آگ لگی ہے اور کتاب کا لکھنا پڑھنا یاد رکھنا ہے ، لیکن غور و فکر کرنا ہر وقت موبائل فون میں مشغول ہے۔ ، یہ ہیرو پر ٹھیک ہے پڑھائیوں کی آمیزش نہیں ہے۔

کھیلوں کی سرگرمیاں ویسے ہی ‘کورونا’ پھیل رہی ہیں اور اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اگر آپ کو کوئی ویڈیو نظر نہیں آتی ہے تو وہ کھیلوں میں شامل ہوتی ہیں۔ تو بالینگ یا بیٹنگ پر میری تصویر کھینچنا اور پھر سب کوٹ ایپ کے گروپ میں بھیجنا۔

ہر سرگرمی کو ‘سوشل میڈیا’ کی زینت بنانا ، کسی خوشی کی ، کوئی غم کی بات نہیں ، یہ بھی اپنوں اور غیروں کو آگ لگانے کی حد تک کافی حد تک ہے ، لیکن اس وقت اس پر عمل کرنے والے قبائلیوں کو احساس کم تر ڈالر میں ڈالنا پڑتا ہے۔ جو کچھ آپ کے دوستوں کا پاسپورٹ ہے ، وہ آپ کے پاس نہیں ہے ، لیکن ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دوڑ ہے ، جو کچھ نیا ہے ، اسے نئی جگہوں پر جانا جاتا ہے ، اس کے چھوٹے چھوٹے کام بھی سب لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ، جنوری سے آپ کا کوئی رشتہ نہیں ہے ، ‘حفاظتی نقطہ نگاہی’ بھی خطرناک ہے ، اچھی معلومات اور خیالات والے قبائل کے ساتھ بانٹنا مثبت گفتگو کرنا ایک اچھا پہلو ضرور ہے۔

طلاق کا رجحان ، ناجائز رشتے ، خود کُشیاں ، دشمنیاں ، دھوکا دہی ‘آن لائن شاپنگ’ یا کسی شکل میں ، حد سے زیادہ واقعات ، خود بخود ذہن میں سوچنے کی عمر بہت زیادہ ہے۔ قاصر ہو رہے ہو ، اس کو برباد کیا جائے ، ہم صرف انٹرنیٹ پر اور ‘میڈیا میڈیا’ کی وجہ سے پیدا نہیں ہوسکتے۔ مسائل میں اضافہ ہو ، ان کے حل اور سدباب کے بارے میں سوچنا ہو۔

اگرچہ ‘میڈیا میڈیا’ پر ہر طرح کی سرگرمی ‘غلط’ اور ‘گناہ’ کے زمرے میں نہیں آتی ، ہم سب اس کا حصہ ہوتے ہیں ، اس کا استعمال خود بھی ہوتا ہے ، ٹک ٹاک ، یوٹیوب ، انسٹا گرام اور نہ ہی کونن سے سوشل میڈیا اپلیکیشن ہم استعمال کرتے ہیں ، لیکن اب ضرورت کے مطابق بنکی بھی رہ سکتے ہیں ، لیکن تمام لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ، جو ابھی معاشرے میں ہے اس علاقے کی ڈھنگ سیکنڈ نہیں ہے ، اس کی بنیاد جیسی بنے گی ، تو عمارت بھی ویسٹی ہی تعمیر ہے۔

بڑی عمر کے لوگ یہ باتیں کسی قدرتی احساس کے ساتھ محسوس کرتے ہیں کہ ‘میڈیا میڈیا’ کے مل ملے والے داد و تحسین یا سلام دعا کے ساتھ ، حقیقی دنیا میں کم ہی اہمیت کے حامل ہیں ، لیکن ذہانت کے تجربات سے آشنا اور ان سے بہت زیادہ حساسیت پیدا ہوتی ہے۔ نہیں ہے۔ یہ اس سے زیادہ متاثر ہوتا ہے ، نفسیات اور شخصیت کی تعمیر میں بھی اس کا سامنا ہوتا ہے۔

یہ عمر کے انسان جانتے ہیں کہ اس کی باتیں زیادہ معنی نہیں رکھتی ، ہنسسی مزاج میں بات ختم ہوجاتی ہے ، لیکن اس کا اثر انداز ہوتا ہے۔ دوسری طرف ان گھروں میں بھی سحر جائےا ہے ، اگر آپ کو سونا پر سہاگہ والی بات چیت ہو رہی ہے ، تو ضروری ہے کہ ان کو چیزوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پانی کی بچی پڑھتی ہے ، ایک موبائل کھلونے کی وجہ سے والدین کو کچھ وقت دینا پڑتا ہے ، اس کے بعد وہ خود بھی وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کریں ، کچھ نئی باتیں بتائیں ، اپنے بچپن کے قصے سنائیں۔ اس کے ساتھ کھیل ہی کھیل میں ہے ، اس کی نظر سے دنیا کی نظر آرہی ہے جس طرح نظر آتی ہے ، لیکن اس سے بچنے کے لئے کوئی بات نہیں ہے اور کسی کو اپنے بچے بھی نہیں سمجھتے ہیں۔ باتیں کرنے والے بہت ملیں گے۔

موبائل فون کو رابطے کی سہولیات ہی سمجھتی ہیں ، وقت گزرنے کی وجہ سے کچھ وقت تفریح ​​کا سلسلہ بھی غلط نہیں ہوتا ، لیکن اس نے اپنے بچ بچوں کو بچھونا سمجھا جاتا ہے ، لیکن اگر ہم ان قبیلوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں تو ان کی اصلاح کی بات ہوتی ہے۔ اس کی دنیا میں کچھ حد تک توازن نہیں ہے ، لیکن زندگی کی زندگی میں بھی توازن ہے اور اس سے ڈیجیٹل کی قید ہے جو حقیقی دنیا میں رہتی ہے اور اسے ارادہگرد سے ناتا منقطی نہیں ہوتا ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here