کینسر کو شکست دینے کی کہانیاں جو اِس کا شکار مریضوں کی ہمت بندھاتی ہے

کینسر کو شکست دینے کی کہانیاں جو اِس کا شکار مریضوں کی ہمت بندھاتی ہے

 زندگی نشیب و فراز کا نام ہے۔ اچھے برے حالات آتے ہی رہتے ہیں۔ خوشی اور غم کا چولی دمن کا ساتھ ہے۔

بعض لوگوں کی پر سکون جھیل نما زندگی میں اچانک ایسا پتھر گرتا ہے کہ نہ ختم ہونے والی ہلچل پیدا ہو جاتی ہے۔صوبہ سندھ کے گاؤں گھوٹکی سے تعلق رکھنے والی اسماء گبول کے زندگی میں اس وقت طلاطم خیز طوفان اٹھا جب وہ پہلی بار تیس کی دہائی میں ماں بنیں۔

اسماء اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ’’اپنی بچی کو دودھ پلانے کے لئے ہر ممکن کوشش کے بعد بھی جب ایک چھاتی سے دودھ نہ نکلا تو مجھے اندر ہی اندر احساس ہوا کہ کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ہے۔بظاہر چھاتی بالکل ٹھیک تھی بس بہت زیادہ کوشش کرنے اور زور لگانے پر ہلکی سی سوجن ہو گئی اس سے پہلے ایسا کچھ بھی نہ تھا ہاں بس پوری پریگنینسی میں مجھے 99 بخار رہا جو میری جان دوا کھانے کے باوجود نہیں چھوڑ رہا تھا۔

اس کے علاوہ ایک عجیب سی اداسی مجھے گھیرے ہوئی تھی۔ ڈاکٹرز کو دیکھایا مگر انہوں نے کہا کچھ بھی نہیں ہے لیکن جب میں تشویش زدہ ہو کر ضیاء الدین ہسپتال کراچی میموگرام کے لئے گئی تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ کیا کسی ڈاکٹر نے یہ ٹیسٹ تجویز کیا؟ ابھی تو آپ کی عمر بھی صرف چونتیس برس ہے اور یہ ٹیسٹ چالیس برس سے کم عمر خواتین کے لئے نہیں۔ناچار مجھے واپس آنا پڑا۔ اس دوران ایک روز میری چھاتی سے ڈسچارج ہوا(سفید یا زردی مائل مادہ) اور اس کے بعد خون بھی نکلا تو مجھے احساس ہوا کہ بات واقعی بڑھ گئی ہے۔

اس کے بعد میں دوبارہ کراچی گئی اور آغاخان ہسپتال میں مجھے شعبہ سرطان کی مستند ڈاکٹر کا نمبر مل گیا جو کہ میری خوش قسمتی تھی ۔ جس پر انہوں نے دیکھتے ہیں کہا کہ بائی آوپسی، میمو گرام‘ سی ٹی سکین کروائیں اس کے بعد یوٹریس اور Lungsکا سی ٹی سکین ہوا ۔ سارے پلوک کا الٹرا ساؤنڈ ہوا۔

رپوٹیس آئیں تو بریسٹ کینسر نکلا۔ اس کے بعد ڈاکٹر نے پہلے بریسٹ ریمو کرنے کے بعد علاج شروع کرنے کا کہا کیونکہ کینسر کی وجہ سے اندر ساری کھچڑی پک چکی تھی۔ پھر جب بون اسکین ہوا تو اس کے بعد میں دو دن اپنی بچی سے نہیں مل سکی اور یہ سب تکلیف دہ وقت تھا مجھے لگتا تھا میری سرجری کے دوران مرگئی تو اپنی چار ماہ کی بچی کو پھر کبھی دیکھ نہ پاؤں گی۔

جب Mastectomy (چھاتی کاٹ دینا تاکہ کینسر نا پھیل سکے) کی تو پتا چلا کہ کینسر تیسری سٹیج پر پہنچ چکا تھا۔ اس کے بعد ایک اذیت ناک سفر شروع ہوا اوراکیس دنوں کے وقفے سے کیمو تھراپی شروع ہوئی۔پہلی کیمو تھراپی میں میرے شوہر میرے ساتھ کراچی آئے اور یہ بہت مشکل مرحلہ تھا کہ اپنی بچی کو آیا کے سپرد کر کے میلوں دور آئے تھے۔

پہلی دو کیمو مشکل تھیں مگر اس کے بعد سلسلہ چل پڑاجس میں بارہ کیمو آٹھ آٹھ دن کے وقفے سے ہونا تھیں تو ہر بار بارہ گھنٹے بس کا سفر کر کے آنے اور جانے کی ہمت نہ رہی تھی مگر میں اسی روز کیمو کروا کر واپس بارہ گھنٹے کا سفر کر کے گھوٹکی جاتی۔ کیمو کے بعد ریڈیشن ہونا تھی اور وہ مشین پہلے خراب تھی تو بڑی مشکل سے ٹھیک ہو کر آئی اب بیس ریڈیشن کا مطلب تھا ایک دن چھوڑ کر دوسرے دن پھر تو اس دوران مجھے پورے چالیس دن کراچی میں رہنا وہ بھی بغیر بچی کے زندگی کا مشکل ترین دور تھا ۔

ریڈیشن سے لوگ ڈرتے ہیں مگر اس سے کچھ بھی ایسا نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ لوگ کیمو سے بھی ڈرتے ہیں مگر کچھ نہیں ہوتا ہاں پہلی ایک دو مشکل ہوتی ہیں اب تو الٹی کو روکنے والی اتنی دوائیں آ گئی ہیں ڈاکٹر وہ دیتے ہیں منہ میں چھالے نکلتے ہیں اس کی تکلیف ہوتی ہے مگر دوا سے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

کچھ دنوں کی تکلیف تو بہرحال ہوتی ہے پھر آپ عادی ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعدTargeted cancer tharapyکی باری آئی جس میں ایک انجیکشن جس سے پہلے اور بعد میں ڈرپس لگاتے ہیں کینسر کو دوبارہ جڑ پکڑنے سے روکنے کے لئے کی جاتی ہے۔ تو تھراپی کافی مہنگی ہوتی ہے قریباً تیس دن میں اس تھراپی سے گزری۔ اس کے بعد مجھے ڈاکٹرز نے ملٹی ونامنز دیئے ہڈیوں کی طاقت کے لئے دوائیں دیں۔ الحمدللہ اب میں بالکل ٹھیک ہوں ہر سال یا چھ ماہ بعد فالواپ کے لئے ڈاکٹر کے پاس جاتی ہوں۔

اسماء گبول سے جب کینسر تشخص ہونے کے بعد کی مشکلات کی بابت سوال کیا گیا تو انکا کہنا تھا کہ ’’اس کڑے وقت میں اگر کوئی میرے ساتھ کھڑا تھا تو وہ میرے شوہر تھے۔ بریسٹ کٹنے کی باری آئی تو میں ڈر رہی تھی کہ اب ادھوری عورت بن جاؤں گی مگر انہوں نے کہا کہ جسم کا ایک حصہ کٹنے سے تم میرے لئے بدل نہیں جاؤ گی۔

یوں جب کیمو کے چودہ دنوں بعد بال گرنے تھے تو اس سے پہلے ہی میرے شوہر نے خود شیو کر دی کہ گرنے سے دکھ نہ ہو۔ اس دوران لوگوں کی تلخ باتیں تو سننے کو ملیں یہاں تک کہ میں خود یہ سوچنے لگی کہ میں تو مر جاؤں گی اپنے شوہر کی دوسری شادی خود کروادوں ۔ مگر اس پر بھی وہ مجھے حوصلہ دیتے کہ ایک بیماری کی وجہ سے میں تمہیں چھوڑ نہیں سکتا اور میری دوسری شادی کا خیال دل سے نکال دو‘ انہوں نے پیسے کی زرہ برابر پرواہ نہیں کی اورکبھی مجھ سے بیجا فرمائش نہ کی۔ ایک تکلیف دہ احساس یہ تھا کہ میں اپنی بچی کو اپنے ساتھ نہیں سلاپائی تھی اس ڈر سے کہ کہیں سینے میں لات نہ مار دے۔اسے اٹھا نہیںپاتی تھی کہ زیادہ وزن اٹھانے کی سکت نہیں ۔ مگر ایک بات یہ کہنا چاہوں گی کہ لوگوں کی ان باتوں میں نہ آئیں کہ فلاں حکیم دوا دے گا تو کینسر ٹھیک ہو جائے گا۔

دم درود ضرور کروائیں مگر کینسر علاج سے ہی ٹھیک ہو گا۔ لوگوں نے کیمو کو ہوا بنا رکھا ہے حقیقت میں ایسا کچھ نہیں کہ یہ علاج بہت لمبا اور مہنگا ہے مگر اسے کروائے بنا کوئی چارہ نہیں۔ میرے علاج پر کم وبیش ڈیڑھ کروڑ تک خرچ ہوئے جس میں ٹارگٹ تھراپی (کینسر کودوبارہ آنے سے روکنے کا نیا طریقہ علاج ) بھی شامل تھی۔ بال گرنے اور بریسٹ کٹنے سے لوگ ڈر کر علاج نہیں کرواتے تو کیا بال اور بریسٹ آپ کی زندگی سے بڑھ کر ہیں؟ عورتیں تو خوبصورتی کے لئے بریسٹ امپلانٹ کرواتی ہیں تو کیا ہم اپنی بیماری کی وجہ سے نہیں کروا سکتے۔ بیماری کے دنوں میں تو میں اس قدر خوف زدہ ہو گئی تھی کہ ڈاکٹر سے کہا میرا دوسرا بریسٹ بھی کاٹ دیں کیونکہ یہ تو میرے موت بن چکا ہے مگر پھر آہستہ آہستہ اللہ نے ہمت دی۔

آخر میں اسماء کہتی ہیں کہ میری عورتوں سے التجا ہے کہ اپنی بیماری کو مت چھپائیں جیسے پہلے تین ماہ میں نے اپنی غلطی کی وجہ سے چھپایا اگر میں بروقت علاج شروع کروا دیتی تو شاید Mastectomyکے بعد کیمو کی ضرورت ہی نہ پڑتی مگر جو تکلیف لکھی تھی وہ کاٹنی پڑی۔ اگر کسی کو کوئی ا یسی علامات محسوس ہوتی ہیں تو اپنے شوہر کو اعتماد میں لیں اور فورا ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔ یہ کوئی شرم کی بات نہیں آپ کی زندگی کا معاملہ ہے۔ ڈاکٹر کے مطابق اگر آپ کی فیملی میں کینسر پازٹو ہے تو اٹھائیس برس کی عمر میں پہلا میمو گرام ہو جانا چاہئے۔

فروا کی والدہ کو سن 2016ء میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوئی۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہیں کبھی بخار نہیں ہوا بس چھاتی میں ایک درد محسوس ہوتا تھا اور ٹیسیں نکلتی تھیں تو جب یہ چار پانچ مہینے تک چلتا رہا تو ڈاکٹر کو دکھانے لاہور شوکت خانم گئے وہاں بائی آوپسی ہوئی اور ایم آر آئی تو پتہ چلا کہ کینسر سکینڈ سٹیج پر پہنچ چکا ہے۔

پھر علاج شروع کروایا جس میں آپریشن سے دو گٹھلیاں نکال لی گئیں اور پھر کیموتھراپی شروع ہوئی۔ اس دوران ہم ڈرے بھی ہوئے تھے۔ مگر ہم لوگوں نے حوصلہ نہیں ہارا۔ علاج پر تیرہ چودہ لاکھ خرچ ہوئے مگر شکر ہے کہ امی اب بالکل ٹھیک ہیں ہاں دوائیں لیتی ہیں اور فالو اپ کے لئے 6 ماہ کے وقفے سے ڈاکٹرکے ہاں جاتی ہیں۔ اس سب کے دوران ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ آگاہی آ گئی ہمارے ہاں امی کو پوچھنے جو خواتین آتی تھیں ان میں سے بھی دو تین عورتوں کو تشخیص میں آسانی ہوئی اور بروقت علاج کروانے لگیں۔ میری بھی تمام خواتین سے یہ درخواست ہے کہ اپنے جسم کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہ برتیں اگر کچھ بھی غیر معمولی لگ رہا ہو تو چوکنا ہو جائیں۔

مندرجہ بالا دونوں کہانیاں ایسی خواتین کی ہیں جو کہ کینسر سے لڑ کر اب ایک خوشحال زندگی بسر کر رہی ہیں۔ گوکہ یہ بات درست ہے کہ آگاہی نہ ہونے مرض کی تشخیص میں مشکلات کا باعث بنتا ہے لیکن اس بات کو بھی قطعاً نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس مرض کی تشخیص سے علاج تک کا سفر انتہائی مہنگا اور مشکل ہے۔

ایسے ممالک جہاں آبادی زیادہ اور وسائل کم ہیں وہاں علاج معالے کی سہولیات کے ناکافی ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگاہونے کی وجہ سے لوگوں کی پہنچ سے باہر ہے خصوصاً غریب طبقہ علاج کی سہولت سے محروم رہتا ہے۔ ریاست عوام کی جان و مال و آبرو کے تحفظ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کینسر جیسے موذی مرض کے علاج کے لئے سہولیات کو یقینی بنایا جائے اور کینسرخصوصاً چھاتی کے سرطان کی تشخیص کے لئے سن یاس کو پہنچ جانے والی خواتین کے مفت سکین یا میمو گرام کا انتظام کیا جائے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج سے قیمتی جانوں کا ضائع روکا جاسکے۔  n

قاتل مرض

خواتین کوسب سے زیادہ متاثر کرنے والاخطرناک بریسٹ کینسر ہر سال2.1ملین عورتوں کو اپنا شکار بناتا ہے۔2018ء کے اعداد وشمار کے مطابق چھ لاکھ ستائیس ہزار خواتین بریسٹ کینسر کا شکار ہو کر ہلاک ہوئیں۔ گو کہ بریسٹ کینسر کی شرح ترقی پذیر ممالک میں ترقی یافتہ ممالک کی نسبت کم تصور کی جاتی ہے مگر یہ ہر خطے میں پر زور طریقے سے حملہ آور ہوتا ہے۔

پاکستان کی بات کی جائے تو دوسرے ایشیائی ممالک کی نسبت یہاں برسٹ کینسر کے اعداد وشمار بلندسطح پر ملیں گے۔ ہر برس تقریباً 90ہزار خواتین بریسٹ کینسر کاشکار ہوتی ہیں جن میں سے چالیس ہزار کے قریب لقمہ اجل بن جاتی ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق ہر 9میں سے ایک خاتون جو 50کی دہائی میں قدم رکھ چکی وہ چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہو سکتی ہے بروقت تشخص ہو جائے توبچنے کیاتناسب نوے فیصد ہے۔ عموماً50برس سے زائد عمر کی ہر 3میں سے ایک خاتوں جب میمو گرام کرواتی ہیں تو چھاتی کے سرطان کا رسک 11فیصد ہوتا ہے۔ بریسٹ کینسر کی وجوہات میں سرے فہرست بچوں کو اپنا دودھ نہ پلانا‘ ناقص غذا اور سگریٹ نوشی شامل ہیں۔ عموماً آگاہی کی کمی اور معاشی و سائل کی عدم دستیابی مرضی کی تشخیص اور علاج میں روکاوٹ کا باث بنتے ہیں۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here