یہ چھپکلی چاند کی روشنی میں الٹرا وائٹ شعاعوں کے جذبات شوخ سبز روشنی سے دور رہتی ہے۔  (فوٹو: زیڈ ایم ایس میونخ / پوسٹ ڈیم یونیورسٹی)

یہ چھپکلی چاند کی روشنی میں موجود ہے الٹرا وائٹ شعاعوں کے جذبات شوخ سبز روشنی سے دور رہنے والے افراد۔ (فوٹو: زیڈ ایم ایس میونخ / پوسٹ ڈیم یونیورسٹی)

میونخ: جرمن سائنسدانوں نے دریافت کیا کہا ہے کہ افریقی ریگستان میں پائی جانے والی چھتکلی ” پیکی ڈکٹائلس رینگی ” (پیچیڈیکٹیلس رینجی) رات کے وقت کی چاند کی روشنی جذباتی شوخ سبز روشنی سے خارج ہونے والی رات کی نیم تاریکی میں آسانی ہوتی ہے۔

واضح ہے کہ ایک رنگ کی روشنی جذباتی ہے ، کسی دوسرے رنگ کی روشنی کو خارج کرنے کا عمل ” فلوریت ” (فلوریسنس) کہ لاتا ہے۔ البتہ اگر کسی عمل میں زندہ ہوں تو وہ ” حیاتیاتی فلوریت ” (بایو فلوریسنس) کے ساتھ رابطہ کریں۔
https://www.youtube.com/watch؟v=Ke0MJFZUEe0

حیاتیاتی فلوریت کا مظہر اب تک جاگنا پائے کے علاوہ سدفے (کورل) ، مچھلیوں ، جیلی فش ، بچو اور مینڈک کی ، رینگنے والے جانوروں (ریپٹائلز) اور جل تھلیوں (پانی اور خاشقکی کے قابل جانوروں) میں واقع ہوا ہے۔ اگرچہ یہ پہلا موقع ہے جب اس کا مشاہدہ کیا ہوا کسی بھی زمینی جانور میں ہے۔

تمام جانوروں کی کھال یا ہڈیوں میں کیمیائی مرکبات موجود ہیں جو ایک رنگ کی روشنی کے جذبات ہیں جو قدرتی طور پر رہتے ہیں۔

افریقہ کے ‘نمیب’ ‘صحرا میں پائی والی والی’ ‘پِکی ڈکٹائلس رینگی’ ‘چھپکلی کی نچلی کھال میں گوانین کہلانے والوں میں ایک حیاتیاتی مرکب (بایو کیمیکل) کی کتابیں موجود تھیں جن کی وجہ سے یہ جلدی تھا۔ اس حصے میں زردی مائل سفید (آف وائٹ) دیکھا گیا ہے۔

بتاتا چل رہا ہے کہ چاند کی روشنی میں بالائے بنفشی (الٹرا وائیلٹ) شعاعوں میں معمولی مقدار بھی شامل ہے جو بالکل بے ضرر ہے۔

” پِکی ڈکٹائلس رینگی ” کی کھا ہال ہی شعاعوں کو جذباتی کر رہی ہے اور توانائی کے کوکلے حصےے میں گوانین سے بھرے خلیوں میں منتقل ہوگئی ہے۔

نمیب صحرا تین افریقی ممالک یعنی نمیبیا ، جنوبی افریقہ اور انگولا میں پھیلا ہوا ہے البتہ اس کا بڑا حصہ نمیبیا میں واقع ہے۔ ” پیکی ڈکٹائلس رینگی ” کا قدرتی مسکن بھی محفوظ صحرا ہے۔

اس چھپکلی پیر کسی جال کی طرح قدرتی طور پر اس کی لمبیائی 4 سے 6 انچ تک رہتی ہے۔

زیڈ ایس ایم میونخ اور پوسٹ ڈیم یونیورسٹیوں کے ماہرینِ حیاتیات نے اس کو دریافت ” پِکی ڈکٹائلس رینگی ” قسم کا انداز 55 چھپکلیوں کا مطالعہ کرنے کے بعد جنوری یا تحقیق کی غرض سے جرمنی منگوایا نے پھر جرم کیا تھا۔ افزائشِ نسل کی تھی تھی۔

اس میں پیکی ڈکٹائلس رینگی چھپلیوں کی نر ، مادائیں اور ہر وقت شامل تھے ؛ اور سبھی الٹرا وائیلٹ شعاعوں کی موجودگی میں شوخ سبز روشنی کو خارج کر دیا گیا۔

اس تحقیق اور دریافت کی مکمل تفصیل اور ایکسپن آن لائن آن لائن ریسرچ جرنل ” سائنٹفک رپورٹس ” کی تازہ شمارے میں شائع ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here