دو اہم چھان بین سے چاند پر پانی کے وسیع ذخائر کے شواہد کے حصے اور تصویر میں سردمقامات کا پتہ چلتا ہے جہاں پانی موجود ہے۔  فوٹو: فائل

دو اہم چھان بین سے چاند پر پانی کے وسیع ذخائر کے شواہد کے حصے اور تصویر میں سردمقامات کا پتہ چلتا ہے جہاں پانی موجود ہے۔ فوٹو: فائل

کولاراڈو: ہم جانتے ہیں کہ چاند پر پانی کی مقدار موجود ہے لیکن اب وہ موجود ہے جس میں بڑی مقدار کا انکشاف ہوا ہے۔

60 فیصد میٹرک ٹن پانی کی برف کی صورت میں موجود ہے جس میں انسانی کالونیوں کی ضروریات پوری ہوجاتی ہیں۔

پھر پانی میں موجود آکسیجن اور ہائیڈروجن کو الگ الگ بٹور راکٹ ایندھن بھی استعمال کرتے ہیں اس طرح انسان کی چاندی سے آگے کا سفر بھی جاری رہتا ہے۔ لیکن کیا علم نہیں ہے؟ اس تک رسائی کس طرح ہو؟

ان سوالات کے جوابات میں ایک مقالہ نیچر ایسٹرونومی شائع ہوا میں ہے جس میں دو مطالعے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ 231 کلومیٹر دور پانی کی سالمات (مالیکیول) کے حصے سے متعلق پہلی رپورٹ کے مطابق بڑے پیمانے پر گلاس کلاوسیس۔ یہ انکشاف اسٹریٹوسفیئرک آبروزرویٹری فار انفراریڈ ایسٹرونومی (سوفیا) کیا ہے؟ طویل عرصے سے خیال تھا کہ اس نے قمری گڑیا کو تیار کیا ہے اور پانی موجود ہے۔ سائنسدانوں کو یقین ہے کہ پانی کی وافر مقدار موجود ہے۔

سوفیا میں تحقیق والی والی ماہر کیسی ہونیبال بولتی ہیں کہ وہ چاند کی سطح پر ہیں اور پانی کے قطرے میں موجود ہیں اور وہ دھوپ سے بھاپ میں تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔ پھر کیا پانی کی مقدار بتدریج بڑھتی جائے گی؟ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے قریب ہر مربع میٹر مٹی میں 12 اونس پانی موجود ہے۔

صاف صاف ہوا میں ایک فضائی تحقیقی رصدگاہی جو بوئنگ 747 جہاز کو تبدیل کر رہی ہے۔ اس زمینی آلودگی اور فضائی دباؤ سے بلند ہوکر بطورِ خاص انفراری شعاعوں کو بہتر طور پر دیکھتے رہنا ہے۔ اس کا پہلا کارنامہ چاند پر پانی کی دریافت ہے۔

دوسری تحقیق کے مطابق ناسا کی قمری آربٹر نے چاندی کی تصاویر جاری رکھی ہیں۔ بہت ساری برف باریوں والی تصویروں میں یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ کچھ سینٹی میٹر بھی بہت کم ہے۔ “مائیکروکولڈریپس” کا نام لیا گیا ہے اور تھری ڈی ماڈلنگ سے انکشاف ہوا ہے کہ یہاں درجہ حرارت بہت کم ہے اورپانی سے بنی برف موجود ہے۔

خیال ہے کہ چاندی 10 سے 20 فیصد پانی میں سے کسی بھی طرح کے چھوٹے ذخائر کی موجودگی میں موجود نہیں ہے۔ یونیورسٹی آف کولاراڈو کے ایک سائنسدان کے ڈاکٹر پال ہائن نے بتایا کہ چاند پر ٹنڈک کے لاکھوں لوگوں نے چھوٹی چھوٹی مسکین موجود ہیں اور ان کا پانی سے پتہ چلنا بہت آسان ہے۔

لیکن ماہرین اس پر مزید غور و فکر کرتی ہے کہ کسطرح چاند کے پانی کو قابل قابل عمل حالت میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here