چالیس سال میں اس چاندی کی مٹی اور پتھروں کی نمونہ جمعہ لیلے والا پہلا مشن بھی ہے۔  (فوٹو: ژنہوانیٹ)

چالیس سال میں اس چاندی کی مٹی اور پتھروں کی نمونہ جمعہ لیلے والا پہلا مشن بھی ہے۔ (فوٹو: ژنہوانیٹ)

بیجنگ: چاند سے مٹی اور پتھروں کے نمونے جمعہ کو زمین پر لانے والے چین کا غیرمعمولی خلائی مشن ” چانگ ای 5 ” آج علی الصبح روہانہ گئے تھے۔ چالیس سال میں اس چاندی کا نمونہ جمعہ کا پہلا مشن بھی ہے۔

” چانگ ای 5 ” کے دو حصوں پر مشتمل ہے: ایک حصہ (آربٹر) خلاء میں چاند کے گرد چکر لگاتا ہے اور متحرک روبوٹ پر مبنی دوسرا حصہ (لنڈر) چاندی کی سطح پر اتر جاتا ہے۔

روبوٹک لنینڈر وہاں موجود مٹی اور پتھروں کے نمونے جمع کرائیں ، اس کے بعد مشن مکمل کرنے کے بعد اترکن بھر جائیں اور واپس آربٹر سے ملیں۔ پھر اس آربٹر نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا ، چاند کے گرد مدار سے نکلے اور بتدریج زمین کے گرد مدار میں آج کے دن آگئے۔

آخری اور سب سے اہم مرحلے میں یہ مشن آہستہ آہستہ زمین کے قریب پہنچ گیا ہے اور سمندر میں پہلے ایک مقام پر اتر گیا ہے۔

مشن روانگی سے لے کر جانے والی بحرانی زمین پر واپسی تک تمام مراحل بہت زیادہ قابل احترامات ہیں جیسا کہ ذرا سی غلطی پر بھی تھا۔

چینی میڈیا نے اس کی اطلاع نہیں دی ہے کہ مشن کتوں کی مدت تکمیل تکمیل نہیں کرسکتا ہے۔ ” چانگ ای 5 ” والے چاند کے ایک آتش فشانی میدان ” ماؤنٹ روئمکر ” کے قریب 2 کلوگرام وزنی مٹی اور پتھر جمعہ جائیں گے۔

اس مقام کا یہ اہم سمجھوتہ ہے کہ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ماؤنٹ روئیمکر ، چاندی کی مجموعی تاریخ کی تاریخ ” خاصا جوان ” ہے ، جس کا وجود بہت زیادہ وقت نہیں گزرا ہے۔ اس کی ساخت اور اجزاء کا جائزہ لینے کے سائنسدانوں کو کوڈ کے بارے میں معلومات کو بہتر بنانے کا موقع حص گاہ۔

یہ اور جیسی دوسری معلومات کو مدنظر ہے جو چاند پر انسانی بزنس بسنے کے منصوبے میں بنائے جاسکیں بھی زیادہ اثر انداز ہوگی۔

” چانگ ای 5 ” چاند کی طرف سے رواں دواں ہیں اور انداز ہے کہ اگلے ایک ہفتے میں چاند کے گرد مدار میں داخل ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد کے مشران بھی اس وقت بیان کرتے رہتے ہیں۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here