تصویر میں چار سال لِلی کا ہاتھ ڈائنوسار نقشِ پا کے ساتھ نمایاں ہے۔  فوٹو: نیشنل میوزیم ویلز

تصویر میں چار سال لِلی کا ہاتھ ڈائنوسار نقشِ پا کے ساتھ نمایاں ہے۔ فوٹو: نیشنل میوزیم ویلز

ویلز: برطانیہ میں ایک چارسالہ بچی ، ساحل کنارے گوشت ڈائنوسار کے قدموں کے نشانات ڈھونڈے گئے جن کی تصدیق خود قومی میوزیم نے بھی نہیں کی۔

جنوری 2021 میں چارسالہ للی ولڈر والے والدین کے ساتھ بینڈرکس بے نامی ساحلی علاقوں میں چہل قدمی واقعی تھی واقعہ بیری کے علاقوں میں ایک عجیب وسیع مقام پر نظر آتا ہے اور وہ گوشت خور تھا یا تھیروپوڈ نسلوں کے ڈائنوسار کے نقشِ پاؤڈ پر تھے۔

اس کے بعد کے ماہرین نے انھیں بتایا اور یہ 22 سالہ سالانہ نشانات ہیں جو ریگستانی مٹی میں محفوظ رہائش پذیر ہیں۔ اس علاقہ قدیم جانوروں کی آب و ہوا کی وجہ سے صاف ہے۔ یہاں لِلی کے والد کی رچرڈ کے ساتھ گزرتے ہوئے بھی یہ دیکھا گیا تھا کہ اس کی نظر پتھر پر ہے اور اس کے والد نے کہا تھا کہ ‘ابو وہ دیکھ رہا ہے’ اور اس کے بعد کی جگہ کی تصاویر بھی اتاری ہیں۔

بعد ازاں یہ تصاویر نیشنل میوزیم کوجی بھی ہیں جہاں پر رکازیات کی ماہر سنیڈی ہوئلز نے ان علاقوں سے ملنے والے لوگوں کے نشانات بتائے ہیں۔ نقشِ قدم کی لمبائی 10 سینٹی میٹر ہے۔ خیال ہے کہ ڈائنوسار 75 سینٹی میٹر اونچائی اور ڈھائی میٹر لمبا تھا ، لیکن ڈائنوسار کی حتمی نسل کا سراغ لگانا اب آسان نہیں ہے۔

بینڈرکس بے علاقائی قدیم جانداروں کی ہڈیوں اور آثار کی وجہ سے غیرمعمولی شہر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہاں بہت سارے جانوروں کے نشانات ملتے ہیں لیکن وہ مگرمچھ اور دوسرے جیونت ہوتے ہیں۔ خدارا وجہ ہے کہ ڈائنوسار کے اس نشان کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ ماہرین نے ڈائنوسار کے قدموں کے نشانات الگ الگ کرلی اور میوزیم منتقل کردیئے ہیں۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here