سویڈن کے مہر کو پرندوں کو کھانا فراہم کرنے والی والی مشین بنائی ہے جو بوتل کی چھڑکتی ہے اور اسے دودھ فراہم کرتی ہے۔  فوٹو: بورڈ پانڈا

سویڈن کے مہر کو پرندوں کو کھانا فراہم کرنے والی والی مشین بنائی ہے جو بوتل کی چھڑکتی ہے اور اسے دودھ فراہم کرتی ہے۔ فوٹو: بورڈ پانڈا

سویڈن: کوسٹ اور دیگر پرندے بہت ہوشیار ہیں اور دوسرے اقسام کے اوزار بھی بناوٹی استعمال کے ہیں۔ اب ایک صاحب کی مشین بنائی ہے ، اگر وہ بوتل کا ڈھکن گراتا ہے تو یہ بدلے میں مشین کی فراہمی کا بندوبست کر سکتی ہے۔

سویڈن میں روبوٹک اور مصنوعی ذہانت کی ماہر ہنس فورسبرگ ایک مشین بنائی ہے جس پر اب نیل کنٹھ کسی یورپی پرندے (میگ پائز) اطراف سے بوتل کے ڈھکن لاکر ڈالر ہیں اور بدلے میں کھانا کھا رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اس روزانہ کی سڑک پر ہیں اور بوتلیں ڈھیر کر لیتے ہیں اور اس مشین سے دانہ جاتے ہیں۔

ہنس فورسبرگ کا مقابلہ کرنے والی میگ پائی پرندے بہت ذہین ہیں اور اس نے اس اہم کام کو بھی سیکھ لیا ہے۔ اب روزانہ پندرہ باغات ، بیک هارڈ ، سڑک کے کنارے اور دیگر مقامات سے بوتلوں کی چھڑکیاں لے جانا۔ اس بدلے ینس کوک سائیکل سامان سامان ہے۔ اس طرح پرندے کے سڑکوں سے لے کر آپ کو کھانے کی کوئی تحفہ نہیں ہے۔ اس کی ویڈیو تیزی سے وائرل ہورہی ہے۔

ہنس ایک بار کے گھر کے باغ میں ہے کہ اس نے بلبوں پر لگے ہوئے شیشے کو لاک کو کھولنے کی کوشش کی جس کے بعد اس کی مشینری کا خیال آیا۔ ہنس کی مدد سے انے والوں کو ری سائیکلنگ میں مدد ملے گی۔ اس پرندے کو کی طرح چیزوں کو لے جانا ہے۔

https://www.youtube.com/watch؟v=FDTu6cA8JJk

مشین میں ایک سوراخ ہے جس کے اندر کی بوتلیں ڈھکنا گرایا ہوتی ہیں اور اس کی بدلے میں مشین دانہ پھینکتی ہے۔ اس میں مونگ پھلیاں اور دیگر شامل ہیں۔ ہر پرندے کو کوڑے میں ڈھل جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رسبری پائی کی مدد سے اس نظام کو بنایا گیا ہے۔

ہنس متفرق لوگ ہیں جن کے مطالعے کے اطراف میں بوتل کے بارے میں بھی بات کی جاسکتی ہے اور جمعہ کے روز بھی انسانی جان نہیں پہنچتی۔ اگلے مرحلے میں وہ ان پرندوں کو سگریٹ دے رہے تھے اور اس کے علاوہ کوکٹر کرکٹ اٹھارٹی کی تربیت بھی فراہم کریں گے۔

کچھ لوگوں نے اس کو پریشانی کا نشانہ بنایا ، انہوں نے کہا کہ اس کے پڑھنے والے کو کسی حصے کی صفائی کرنی کی جگہ نہیں ہے لیکن اس کو کچھ لالچ نہیں دیا جاتا ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here