اس مسئلے کی شناخت سے آگاہی انٹرنیٹ ماہرین اور براڈ بینڈ انجینئرز کو مہینوں تک پریشان نہیں ہوئی۔  (فوٹو: فائل)

اس مسئلے کی شناخت سے آگاہی انٹرنیٹ ماہرین اور براڈ بینڈ انجینئرز کو مہینوں تک پریشان نہیں ہوئی۔ (فوٹو: فائل)

کارڈف: ایک قصبے میں 18 مہینے تک انٹرنیٹ سے کوئی پتہ نہیں تھا اور اسرار کی وجہ سے متاثرہ افراد کو طویل عرصے سے چھان بین کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جزیرے برطانیہ کے ملک ‘ویلز’ میں ایک قصبے ‘ایبرہوسن’ کی انٹرنیٹ سروس 18 ماہ کی روزانہ صبح 7 بجے سے بند سرگرمی اور اگلے چند گھنٹوں تک رہائش پذیر ہے لیکن انجینئرز کو اس کی وجہ معلوم نہیں ہوسکتی ہے۔

قصبے کے باسیوں سے قریب قریب روزانہ ہی براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس مہیا کرنے والی کمپنی سے متعلق شکایات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن جب تک کمپنی کے ماہرین وہاں پہنچے ، تب تک انٹرنیٹ انٹرنیٹ ہوچکا ہی رہا۔

مہینوں کو تلاش کرنے کے لئے بھی اس کمپنی کے انجینئرز کو ایبرہوسن کے براڈ بینڈ انٹرنیٹ میں کوئی خرابی نہیں ملی۔

احتیاطاً ہی نے اسے قص قصہ میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی ایک کیبل ، ایک تار بھی بدلتے ہوئے کہا۔

تقریباً ڈیڑھ سال (18 ماہ) کی ناکامی کے بعد بالآخر اس قصبے کوڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس مہیا کرنے والی کمپنی کا سب سے زیادہ تجربہ کار ماہرین کو بھی موجود نہیں ہے۔

اس ٹیم نے بھی قصبے کا دورہ کیا لیکن اس سے کچھ نہیں معلوم ہوسکی روزانہ صبح سات بجے انٹرنیٹ سروس بند رہنے کا سبب بن گیا۔

البتہ ، اس ٹیم کا ایک مائیکل جونز کو شبہ ہوا ہے جو صبح ٹھیک سات بجے انٹرنیٹ بند ہوا ہے جس کی وجہ ” شائن ” (سنگل ہائی لیول امپلس نوائس) ہے۔

یہ کسی برقی آلے (الیکٹرانک ڈیوائس) سے ہنگم اور چھوٹے قسم کی قسم ہے۔ اگر اس ” شور ” (نوائس) کی فریکوئنسی ویسی ہی جیسی براڈ بینڈ کی فریکوئینسی ہے تو آپ کو ایک دوسرے میں ” دخل اندازی ” دیں جس کی وجہ سے براڈ بینڈ سروس بند ہوگئی ہے۔

” شائن ” کے علاقے میں اسٹریٹ لائٹ ، سی سی ٹی وی کیمرا اور مائیکرو ویو اوون تک شامل ہیں۔

ہمارے خیال کی تصدیق والے جونز اور ان کے ساتھی ” شائن ” کا سراغ لگانے والے آلات سے لیس اور صبح سویرے تیار ہو کر آئے تھے۔

صبح ٹھیک سات بجے ” شائن ” کی سرگرمی شروع ہوگئی تھی اور اس سے دوسرے آلات کی مدد حاصل تھی جب وہ اس جگہ سے تلاش کر رہے تھے جہاں سے برقی مقناطیسی شور آیا تھا۔

جلد ہی وہ ایک مکان تک پہنچی جہاں پرانا ٹی وی آن لائن تھا… اور وہ بھی ” شائن ” کا مرکز تھا۔

مزید چھان بین کے بارے میں یہ معلوم ہوا کہ اس پرانا ٹی وی فیملی میں ایک فرڈ سے پہلے ماہ کی بچی کا استعمال شروع کرنا تھا۔

وہ فرد روزانہ صبح ٹھیک سات بجے بی بی سی نیٹ ورک کا پروگرام ‘ہومز انڈر دی ہیمر’ کے واقعات کی حامل تھی اور اس کے بعد یہ پروگرام ختم نہیں ہوا تھا۔ ۔

اس گھر والوں نے خود کو بھی معلوم نہیں کیا تھا ، لیکن اس نے اس کی غلطی کو معاف کر دیا ہے اور آئندہ اس پرانا ٹی وی کو استعمال نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ ۔

‘کفر ٹوٹا خدا خدا’ مصدق ، آخرکار قصبے میں انٹرنیٹ کے مسئلے کا حل ہے اور اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ واقعات بھی معلوم نہیں ہوسکتے ہیں۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here