اس تصویر میں نینو اسفنج کوہ دوہزار گناہ بڑھا کریا ہوا ہے (فوٹو: آرایم آئی ٹی)

اس تصویر میں نینو اسفنج کوہ دوہزار گناہ بڑھا کریا ہوا ہے (فوٹو: آرایم آئی ٹی)

میلبورن: ماحولیاتی گھروں کے بارے میں آسٹریلیا کی ایک اچھی خبر آ رہی ہے جو نینو عمل انگیز (کیٹی لِسٹ) کی مدد سے تیل سے بایو ڈیزل تیار ہوئی ہے۔ اسی طرح کے کھانے ، خردبینی پلاسٹک اور پرانے ٹائروں سے بھی مفید اشیا تیار ہوکر جاسکتی ہیں۔

میلبرن کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے زرعی فضلے اور استعمال شدہ تیل کا استعمال نہیں کیا ، سرامک اسفنج سے خامرہ جاتی بایوڈیزل میں تبدیل ہوگئی۔ اسفنج میں لاتعداد خردبینی سوراخ میں جن لوگوں کا تیل گزرتا ہے تو یہ کیمیائی عمل واقعتا واقع ہی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ تیل کے بایوڈیزل میں تبدیلیاں ہوچکی ہیں۔ اس کے علاوہ ازیں فالتو غزا ، باریک پلاسٹک اور پرانے ٹائروں سے اڈویہ ، صنعتوں ، پیکنگ اور مصنوعی کھاد کے اہم اجزا بھی بنائے ہوئے ہیں۔

اسفنج میں دو طرح کے باریک سوراخ جن جنوری میں استعمال ہوئے اور آلودہ تیل ڈالا جاتا ہے۔ پہلے مرحلے میں کیمیائی عمل گزر رہا ہے ، جب تیل کی دوسری سوراخوں میں سے گزرتا تھا تو وہاں نینو ذرات کا ایک اور تعامل ہوتا ہے۔ اس تحقیق کے پروفیسر ایڈم لیٹڈ ایک دوسرے سے کہیں زیادہ ہیں کہ اس ٹھوس اور سستے عمل کی تیاری بہت آسان ہے۔ اس سے کم توانائی کی ضروریات کے ساتھ بار بار استعمال ہوتا ہے اور اس کو تبدیل کرنا ہوتا ہے۔

اسی عمل سے غریب ممالک کے کسانوں نے اپنا اپنا سامان بنا لیا ہے۔ چاول کا پھوگ ہو یا پھر اناج کا کوئی بھوسہ نہیں ہو گا ، جس کی وجہ سے فضائی آلودگی بڑھتی جارہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کاربین زرعی کچری سے مفید ایندھن میں تبدیلی آرہی ہے۔

اسی ٹکنالوجی سے گلن کے پھوگ ، پھولوں کی چھلکیاں اور سری گلی سبزیوں کا استعمال بھی ممکن ہے۔ بس حسبِ ضرورت عمل میں تبدیلی کرنا۔ پروفیسر ایڈم کی اس پہلو عملی نمونہ ایک بار میں پیش کیا گیا ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here