وہائٹ ہائوس کے مکین جو پاکستانیوں کے دل میں بھی رہے ۔ فوٹو : فائل

وہائٹ ہائوس کے مکین جو پاکستانیوں کے دل میں بھی رہے ۔ فوٹو : فائل

حالیہ امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار اور سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن امریکا کے چھیالیسویں صدر منتخب ہوچکے ہیں۔

امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج نہ صرف امریکی عوام کے کے لیے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں بلکہ واحد سپرپاور ہونے کے باعث یہ نتائج پوری دنیا کے عوام اور حکومتوں پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔

امریکی صدر نہ صرف امریکی حکومت کا سب سے طاقت ور اور بااختیار عہدہ ہے بلکہ اسے دنیا کاطاقت ور ترین اور بااختیار ترین شخص سمجھا جاتا ہے۔ امریکی صدر کے ایک اشارے پر جاہ وجلال رکھنے والے بادشاہوں اور فوجی حکم رانوں کے تخت الٹ دیے جاتے ہیں اور عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والی جمہوری حکومتوں کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے۔

اس لیے کہا جاتا ہے کہ بظاہر تو امریکی صدر صرف امریکا ہی کا صدر ہوتا ہے لیکن درپردہ پوری دنیا پر اسی کی حکومت ہوتی ہے۔ اسی لیے دنیا بھر کے ممالک اور ان کے عوام امریکی صدارتی انتخابات اور ان کے نتائج کو گہری نظر اور دل چسپی سے دیکھتے ہیں۔

امریکی صدر منتخب ہونے والا شخص ظاہر ہے کہ اپنے ملک کی ایک مشہور و معروف شخصیت ہوتا ہے۔ اس کی اپنے ملک و قوم کے لیے گراں قدر اور وسیع سیاسی اور سماجی خدمات ہوتی ہیں جن کے بل پر وہ دنیا کے طاقت ور ترین عہدے تک پہنچنے میں کام یاب ہوتا ہے۔ لیکن امریکی صدر بننے کے بعد وہ راتوں رات دنیا کی مشہور ترین شخصیت بن جاتا ہے۔ امریکی صدر کی دنیا بھر میں شہرت کا دارومدار مختلف عوامل پر ہوتا ہے۔ ان عوامل میں صدر کی شخصیت ، مختلف ممالک کے متعلق اس کی پالیسیاں اور بین الاقوامی معاملات میں اس کے کردار کو اہمیت دی جاتی ہے۔

یہ ضروری نہیں کہ امریکی صدر کی شہرت مثبت ہی ہو۔ بعض امریکی صدور ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے اپنے غلط اقدامات اور پالیسیز کے باعث نہ صرف امریکا می خفت اٹھائی بلکہ دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ اور امریکا کی بدنامی کا باعث بنے۔ موجود امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اس کی زندہ مثال ہیں۔ جن کی پالیسیوں کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اسی کے باعث انہیں حالیہ انتخابات میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے برعکس متعدد امریکی صدور ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے اپنی پالیسیز اور اقدامات سے اپنے عوام کی ترقی اور خوش حالی میں اضافہ کیا بلکہ اپنی پالیسیز سے دنیا میں قیام امن میں اپنا مثبت کردار ادا کیا۔

دنیا کے تمام ممالک نومنتخب امریکی صدر کو اپنے مخصوص جغرافیائی معاشی اور سیاسی حالات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ ہم پاکستان کی بات کریں تو ہم اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ نو منتخب امریکی صدر جتنے امریکا کے لیے اہم ہیں اتنی ہی اہمیت انہیں پاکستان کے مخصوص جغرافیائی سیاسی اور معاشی حالات میں بھی حاصل ہے۔ اپنے قیام سے لے کر آج تک پاکستان تمام بین الاقوامی معاملات میں امریکا کا اتحادی رہا ہے۔ یہ تاثر عام ہے کہ پاکستان میں بننے والی ہر حکومت خواہ جمہوری ہو یا فوجی امریکی رضامندی کے بغیر نہیں چل سکتی۔ اسی لیے بعض حلقے پاکستان کو امریکی طفلی ریاست ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔

قیام پاکستان سے لے کر اب تک تیرہ صدور برسراقتدار رہ چکے ہیں۔ اس عرصے میں پاکستان میں متعدد فوجی اور جمہوری حکومتیں برسر اقتدار رہی ہیں۔ حکومتی سطح پر اس عرصے میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ ایک عام پاکستانی بھی اس حقیقت کا ادراک رکھتا ہے کہ امریکا کو جب بھی ہماری ضرورت پڑی ہم نے اپنی بساط سے بڑھ کر امریکا کا ساتھ دیا ہے اور جب ہمیں امریکا کی ضرورت پڑی ہے اس نے ہمیں صرف لارا دیا ہے۔ لیکن ہمیشہ یہی ہوتا رہا ہے کہ جب بھی امریکا میں صدارتی انتخاب ہونے لگتا ہے پاکستانی عوام نومنتخب امریکی صدر سے توقعات وابستہ کرلیتے ہیں اور تیزرفتار ذرائع ابلاغ کی وجہ سے گذشتہ اور حالیہ انتخابات نے تو ایسا سماں باندھ دیا کہ یہ محسوس ہونے لگا کہ انتخابات امریکا میں نہیں بلکہ پاکستان میں ہورہے ہیں۔

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نومنتخب امریکی صدر کو یہاں کے عوام میں کتنی اہمیت حاصل ہے۔ نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن کو اپنی بطور صدر امیدوار نام زدگی اور انتخابی مہم کے دوران ہی پاکستانی عوام اور میڈیا کی توجہ حاصل ہو چکی تھی اور رائے عامہ ان کے حق میں ہموار ہونے لگی تھی۔

اس کی بڑی وجہ تو یہ تھی کہ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بالخصوص اپنی اسلام اور مسلمان مخالف اور بالعموم پاکستان سے متعلق پالیسیوں کے باعث پاکستانی عوام کے دلوں میں گھر نہ کر سکے اور پاکستانی عوام انہیں اجتماعی طور پر سخت ناپسند کرتے ہیں۔

اس لیے یہ عوامی خواہش تھی کہ ٹرمپ اس الیکشن میں کام یاب نہ ہوں۔ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں اپنی پالیسیز کے تسلسل کا اظہار کیا تھا، جب کہ جو بائیڈن نے اپنی انتخابی مہم میں اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ تمام امریکی بشمول مسلمانوں کو ایک نظر سے دیکھیں گے۔ ان کے اس بیانیے نے بھی پاکستان میں ان کی مقبولیت میں اضافہ کیا۔ اور پاکستان میں انہیں حکومتی اور عوامی حلقوں میں پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ ان کے برسراقتدار آنے کے بعد پاکستان میں ان کی عوامی سطح پر مقبولیت میں اضافہ ہوگا۔

ماضی پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھیں گے کہ متعدد امریکی صدور گزرے ہیں جن کو پاکستان میں عوامی سطح پر بہت شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کی اس مقبولیت کے پیچھے نہ صرف ان کی پاکستان کے متعلق پالیسیز، فوجی اور معاشی امداد کا بڑا دخل تھا بلکہ ان کی شخصیت کا بھی بہت اثر تھا۔ ذیل میں ہم ترتیب وار ان امریکی صدورکا ذکر کررہے ہیں جن کو پاکستان میں عوامی سطح پر بہت شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی:

جان ایف کینیڈی (1963-1961)

جان ایف کینیڈی امریکا کے پینتیسویں صدر تھے پاکستان میں عوامی سطح پر جو شہرت اور مقبولیت صدرکینیڈی کو حاصل ہوئی وہ کسی اور امریکی صدر کے حصے میں نہ آسکی۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان کے دورحکومت تک پاکستان پوری طرح امریکی بلاک میں شامل ہوچکا تھا۔ حکومتی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان خوش گوار تعلقات قائم ہوچکے تھے اور پاکستان کو امریکا سے بڑے پیمانے پر فوجی اور اقتصادی امداد مل رہی تھی۔ ان دنوں اخبارات میں صدر کینیڈی سے متعلق خبروں کو نمایاں جگہ دی جاتی تھی۔

اس کے باعث پاکستان میں رائے عامہ ان کے حق میں ہم وار ہو گئی۔ صدر کینیڈی اپنی رنگین مزاجی اور فلمی ستاروں سے معاشقوں کے باعث بھی خبروں کی زینت بنتے رہتے تھے۔ وہ کرشماتی شخصیت کے مالک تھے۔ اسی کے باعث انہوں نے عوامی حلقوں میں افسانوی شہرت حاصل کی۔ بدقسمتی سے وہ اپنی مدت صدارت پوری نہ کرسکے اور انھیں قتل کردیا گیا۔ ان کی موت پر پاکستانی عوام میں بھی غم و افسوس کی لہر ڈور گئی تھی۔

رونالڈ ریگن (1989-1981)

رونالڈ ریگن امریکا کے چالیسویں صدر تھے۔ ان کا دورحکومت امریکا اور پاکستان دونوں کے لیے نہایت ہنگامہ خیز تھا۔ اس دوران افغان جنگ زور وشور سے جاری تھی۔ پاکستانی اعانت سے افغان مجاہدین روسی افواج کو ناکوں چنے چبوانے میں مصروف تھے۔ امریکا پاکستان کو دھڑادھڑ فوجی اور اقتصادی امداد دے رہا تھا۔ ان دنوں صدر ریگن کے بیانات اور ان سے متعلق خبروں کو پاکستانی میڈیا پر نمایاں کوریج دی جاتی تھی۔ پاکستانی عوام صدر ریگن کے اقدامات اور پاکستان کے لیے ان کی امداد سے بہت خوش تھے۔ اسی وجہ سے پاکستانی عوام انہیں پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اس کے ساتھ رونالڈریگن کا اداکار ہونا بھی عوام میں ان کی مقبولیت کا باعث تھا۔

بل کلنٹن (2001—1993)

بل کلنٹن امریکا کے بیالیسویں صدر تھے۔ صدرکینیڈی کے بعد وہ دوسرے امریکی صدر ہیں جن کو پاکستان میں عوامی سطح پر بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کے دورحکومت میں بھی پاکستان کو امریکا کی طرف سے فوجی اور اقتصادی امداد ملتی رہی اور امریکا کی طرف سے پابندیوں میں نرمی کی گئی۔

صدر کلنٹن نے کارگل کی جنگ بند کرانے میں اپنا مثبت کردار ادا کیا۔ صدر کلنٹن کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے تھا اور پاکستان میں سمجھا جاتا ہے کہ ڈیموکریٹس کا جھکاؤ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی طرف ہوتا ہے۔ اس لیے پاکستانی انہیں اپنا ہم درد سمجھتے تھے۔ صدر کلنٹن کی اسی مقبولیت کے باعث جب گذشتہ انتخاب میں ان کی اہلیہ ہلیری کلنٹن ڈونلڈ ٹرمپ کے مدمقابل صدارتی انتخابات میں شریک تھیں تو پاکستانیوں کی اکثریت ہیلری کلنٹن کی حامی تھی۔

براک اوباما (2017-2009)

براک اوباما امریکا کے چوالیسویں صدر تھے۔ ان کا تعلق بھی ڈیموکریٹک پارٹی سے تھا۔ صدر اوباما نے بطور صدارتی امیدوار نام زدگی کے وقت سے ہی پاکستانی میڈیا اور عوام کی توجہ حاصل کرنی شروع کردی تھی۔ جب ان کے متعلق یہ خبریں آئیں کہ ان کے آباؤاجداد مسلمان تھے اس وقت سے ہی پاکستانی رائے عامہ ان کے حق میں ہم وار ہونا شروع ہو گئی تھی۔ پھر یہ خبر میڈیا میں چلی کہ اپنے زمانۂ طالب علمی میں اوباما پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں اور کچھ دن کراچی میں اپنے پاکستانی دوست کے گھر قیام بھی کرچکے ہیں۔

صدر اوباما نے ایک انٹرویو میں پاکستانی کھانوں کی تعریف بھی کی۔ اس کے باعث پاکستانی عوام میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا جو ان کے پور دوراقتدار میں قائم رہا۔ صدر اوباما کے متعلق پاکستان میں ایک عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور انہوں نے اپنے دور اقتدار میں امریکا سمیت دنیا بھر کے مسلمان کے لیے مثبت رویہ اپنایا۔ یہی وجہ ہے کہ صدراوباما کو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری اسلامی دنیا میں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

نومنتخب امریکی صدر کی پاکستان میں مقبولیت کا دارومدار بھی ان ہی عوامل کی بنیاد پر ہو گا جن پر انہوں نے اپنی انتخابی مہم چلائی ہے۔ پاکستانی عوام کے پیش نظر چند نکات ہوتے ہیں جن کے مطابق وہ کسی بھی امریکی صدر کے متعلق اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ نیا امریکی صدر پاکستان کو کتنی فوجی اور مالی امداد دیتا ہے؟ پاکستانیوں کے لیے ویزا اور امیگریشن قوانین میں کس حد تک نرمی کی جاتی ہے؟

امریکا میں مقیم پاکستانیوں کے متعلق اس کی کیا پالیسیاں ہیں؟ پھر اسلامی ممالک کے متعلق اس کی پالیسیاں کیا ہیں؟ دنیا بھر کے مسلمانوں کے متعلق اس کی کیا پالیسیاں ہیں؟ ان تمام نکات کا جائزہ لینے کے بعد عوام اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ نیا صدر پاکستانیوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے حق میں بہتر ثابت ہوگا تب تو اسے عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جائے گا، بصورت دیگر عوام اس کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔ فی الحال نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن سے پاکستانی عوام نے ان کی انتخابی مہم کو مدنظر رکھتے ہوئے کافی امیدیں اور توقعات وابستہ کرلی ہیں۔ اس وقت پاکستانی امید کرتے ہیں کہ جو بائیڈن امریکا میں مقیم پاکستانیوں اور دیگر ممالک کے مسلمانوں کے لیے امریکا کو محفوظ بنائیں گے۔ ان کے خلاف نسلی تعصبات کے خاتمے کے لیے اقدامات کریں گے۔

پاکستانیوں پر عائد سفری پابندیوں اور امیگریشن قوانین میں نرمی کریں گے۔ پاکستان سے ڈومور کے مطالبے پر نظرثانی کریں گے اور پاکستان اور پاکستانیوں کی خدمات اور قربانیوں کو تسلیم کریں گے۔ امریکی صدر کی پاکستان میں مقبولیت کا دارومدار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں کیا کردار ادا کرتا ہے؟ تاریخ شاہد ہے کہ کسی امریکی صدر نے اس مسئلہ کے حل کے لیے زبانی جمع خرچ سے زیادہ کچھ نہیں کیا۔ نومنتخب امریکی صدر اس مسئلے کے حل کے لیے کیا کردار ادا کرتے ہیں اور کس حد تک پاکستانیوں کی توقعات پر پورا اترتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

فی الحال جو بائیڈن کی کام یابی سے پاکستانی اور امریکی پاکستانی بہت خوش ہیں۔ دعا ہے کہ نو منتخب امریکی صدر نہ صرف پاکستانیوں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں اور تمام دنیا کے حق میں بہتر ثابت ہوں۔ جو بائیڈن کا تعلق بھی ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے اور پاکستان میں سمجھا جاتا ہے کہ ڈیمو کریٹس کا جھکاؤ پاکستان کی طرف ہوتا ہے اور ان کے دور میں دونوں ممالک کے تعلقات خوش گوار رہتے ہیں، خدا کرے ایسا ہی ہو۔ جو بائیڈن کو کام یابی مبارک۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here