پاؤں کے نشانات کی مدد سے ملزم تک پہنچانا آسان کام نہیں ہے ، فوٹو: ظہور احمد

پاؤں کے نشانات کی مدد سے ملزم تک پہنچانا آسان کام نہیں ہے ، فوٹو: ظہور احمد

 لاہور: جدید دور میں چوری اورگمشدہ مال کا سراغ لگانے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال کیاجاتا ہے لیکن دیہی علاقوں میں آج بھی جرم کی وارداتوں میں ملزم تک پہنچنے کے لئے کھوجیوں کی مدد لی جاتی ہے۔

ایکسپریس نے ایسے ہی ایک بزرگ کھوجی کوتلاش کیا ہے جوگزشتہ 25 برسوں سے دریائی علاقے میں ہونیوالے مویشی چوری کی درجنوں وارداتوں کا سراغ لگاچکا ہے، یہ کھوجی ملزم کے پاؤں کے نشانات کی مدد سے اس تک پہنچتے ہیں.

70 سالہ نذیرمحمد عرف نجا کھوجی کا تعلق ضلع قصور کے علاقہ سرائے مغل سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کھرا تلاش کرنے کا ہنرانہوں نے کسی استاد سے نہیں سیکھا بلکہ ان کے علاقے میں چوری کی وارداتوں میں ملزم کا سراغ لگانے کے لئے جب کھوجی بلائے جاتے تھے تووہ بھی وہاں پہنچ جاتا تھا ، ان کھوجیوں کے کام کودیکھ کرسب کچھ سیکھ لیا اورآج دریا اورماجھے کے علاقے میں دور درازتک انہیں بلایاجاتا ہے۔

نذیرمحمد کہتے ہیں کھوجی کا کام کھرے یعنی پاؤں کے نشانات سے ہی چلتا ہے ، اگرپاؤں کے نشانات ختم ہوجائیں تو وہ کچھ نہیں کرسکتے۔ انہوں نے بتایا پاؤں کے نشانات میں پاؤں کی لمبائی ، چوڑائی، دباؤ، ایک سے دوسرے پاؤں تک فاصلہ، پاؤں کے نشانات کا رخ یہ سب چیزیں دیکھی جاتی ہیں، پاؤں کے نشانات دیکھ کروہ بتاسکتے ہیں کہ یہ کسی مردکے پاؤں کے نشانات ہیں یا عورت کے ، اس کے وزن اورقد کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے، انہوں نے بتایا کہ وہ زیادہ ترمویشیوں کی چوری کا سراغ لگانے جاتے ہیں، کئی نامی گرامی چوروں اورڈاکووں کے پاؤں کے نشانات ان کے دماغ میں محفوظ ہیں۔

نذیرمحمد نےکہا کہ جس طرح چونیاں میں بچی سے زیادتی کے کیس میں ملزم تک پہنچنے کے لئے ایک کھوجی نے مدد کی تھی لاہورمیں موٹروے پرخاتون سے زیادتی کا جو واقعہ ہوا اس میں بھی اگرکھوجیوں کی مدد لی جاتی تو شاید ملزمان تک پہنچنے کا کوئی سراغ مل جانا تھا۔ پاؤں کے نشانات کی مدد سے ملزم تک پہنچانا آسان کام نہیں ہے ، اگربارش، ہوا یا کسی اوروجہ سے کھرے کے نشانات مٹ جائیں تو پھر ملزم تک پہنچنا مشکل ہوجاتا ہے، کئی تیزطرارچورایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے کھروں کے نشانات مٹادیتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اپنے جرم کی کوئی نہ کوئی نشانی چھوڑجاتے ہیں جس کی وجہ سے ان تک پہنچا جاسکتا ہے۔

نذر محمد نے بتایا کہ پولیس بھی کئی وارداتوں کا سراغ لگانے کے لئے ان سے مدد لیتی ہے۔ وہ اپنے کا کام کا کوئی معاوضہ طے نہیں کرتے، مدعی کام ہونے پر اپنی خوشی سے جو بھی دے دیں لے لیتے ہیں۔ کئی بارایسا بھی ہوتا ہے کہ جب کھوجی پاؤں کے نشانات سے ملزم تک پہنچ جاتے ہیں توملزمان انہیں بھاری آفرکرتے ہیں، لیکن خاندانی کھوجی کسی لالچ میں نہیں آتا ہے۔ انہوں نے ایک واقعہ کا ذکرکرتے ہوئے بتایا کہ جن کی چوری ہوئی تھی انہوں نے سراغ رساں کتے بھی منگوائے تھے اورہمیں بھی بلایا تھا، جب سراغ رساں کتے کے ٹرینرز نے ہمیں دیکھا تو کہا کہ ہم 3 ہزار روپے لے لیں اور ان کے کتوں کو کسی غریب کے گھرتک لے جائیں لیکن ہم نے ان کی آفرٹھکرادی تھی۔

سرائے مغل کے وثیقہ نویس اورقانونی ماہر بوٹا صابر نے بتایا کہ جرم کی وارداتوں میں ملزمان تک پہنچنے کے لئے ان کھوجیوں کے 80 فیصد اندازے درست ثابت ہوتے ہیں،جب ان کے پاس کوئی مدعی چوری،ڈکیتی کی واردات کا پرچہ درج کروانے کے لئے درخواست لکھوانے آتا ہے تو اس درخواست میں کھوجیوں کی رائے بھی لکھی جاتی ہے، کھوجی جس ملزم کے گھر کھرالے جاتے ہیں اس وجہ سے ان کی کئی لوگوں سے دشمنی ہوجاتی ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here