تقلید کو رد کرنا ہی دراصل تخلیق کی طرف اٹھایا جانے والا پہلا قدم ہے

تقلید کو رد کرنا ہی دراصل تخلیق کی طرف اٹھایا جانے والا پہلا قدم ہے

ہر ایجاد کے پیچھے تخلیقی صلاحیتیں اور عموماً نوجوان نسل کے زرخیز اذہان کار فرما ہوتے ہیں۔

درس گاہ ہو یا دفتر، تخلیقی ہنر ایک ایسی طاقت بن کر سامنے آتی ہے جو متاثر کرتی ہے اور کچھ منفرد سکھاتی ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی کے رازوں میں سے ایک راز اس قوم کی تخلیقات و ایجادات کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ اختراعات اور پرانی چیزوں کو کچھ نیا اور منفرد بنانے کی خواہش و لگن ہوتی ہے جس پر اس قوم کے لوگ مستقل کام کرتے رہتے ہیں۔

مشہور فلاسفر اور اسکالر ایڈورڈ ڈی بونو کا ماننا ہے کہ جب لگے بندھے طریقوں سے ہٹ کر چیزوں کو مختلف انداز سے دیکھا جاتا ہے تو تخلیقی عمل ظہور پذیر ہوتا ہے جب کہ مشہورِزمانہ مصور پکاسو کا کہنا ہے کہ” بہتر سمجھ تخلیقیت کی اصل دشمن ہے۔”

تخلیقیت کا عمل دراصل کچھ نیا دریافت کرنے کی لگن ہے جو یہ بتاتا ہے کہ اگر ہمیشہ دوسروں کی بنائی ہوئی لکیر پر چلتے رہیں گے تو آپ کے اطراف کی دنیا میں تبدیلی کی گنجائش کم سے کم ہوتی چلے جائے گی۔ لہٰذا تخلیقی ذہن اپنی لکیریں خود بناتے ہیں، کچھ ایسا نیا راستہ بنانے کی دھن میں کہ جس پر لوگوں کو چل کر نئی منزلوں تک پہنچنے میں آسانی ہو۔ ہر نئی اور عمدہ سوچ ایک نیا راستہ، ایک نیا در وا کرتی ہے۔ غور و فکر کرنے سے آگہی کے نئے در کھلتے ہیں۔ آگہی ذہنی ارتقاء کے لیے بہت ضروری ہے، اگر تخلیقیت کا عمل جاری نہ رہے تو زندگی جمود کا شکار ہونا شروع ہوجاتی ہے اور جمود زندگی کے لیے زہرقاتل ہے۔

ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دو پہلو سامنے آتے ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ایک یہ کہ تخلیق کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے اور دوسرا جب تخلیقی عمل مکمل ہوجائے تو ان تخلیقی اذہان کی حوصلہ افزائی مناسب انداز میں کی جائے تاکہ تخلیقیت کا یہ عمل پھلتا پھولتا رہے اور دوسروں کو بھی نت نئے تجربات کرنے پر اکساتا رہے۔

معاشرتی سطح پر دیکھا جائے تو متحرک تخلیقی صلاحیتیں یقیناً شخصی خاصہ ہیں لیکن جب مجموعی طور پر تخلیقی صلاحیتوں کے استعمال کی بات کی جائے تو پھر انفرادی تخلیقی صلاحیتوں کا اصل استعمال نت نئی اور مفید ایجادات و اختراعات کی شکل میں کسی بھی ملک کی صنعتوں میں نظر آتا ہے اور پھر ان صنعتوں کے ذریعے ملکی زرمبادلہ کے زخائر بڑھانے میں نہ صرف مدد دیتا ہے بلکہ وہ مثبت انداز میں کسی بھی ملک کی معیشت کے استحکام کا باعث بھی بنتا ہے۔

اس طرح مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ، انفرادی تخلیقی صلاحیتوں کے بہترین اور بروقت استعمال کے ذریعے کوئی بھی ملک معاشی طور پر مستحکم ہو سکتا ہے۔ ان صنعتوں میں فن و ثقافت، فیشن و ایڈورٹائزنگ، میڈیا اور شوبز، ریسرچ و ڈیویلپمنٹ، سافٹ وئیر اور آرکیٹیکچر سے متعلقہ صنعتیں شامل ہیں، جو کسی بھی ملک کی معیشت کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔

ہر سال عالمی سطح پر ایسے ممالک کی فہرست مرتب کی جاتی ہے جہاں تخلیقیت کا عمل اس ملک کی صنعتی ترقی کا باعث بنتا ہے۔ اس کام میں مختلف نامزد ایجنسیاں اور آرگنائزیشن حصہ لیتی ہیں اور اپنے اپنے متعین کردہ انڈیکیٹرز کی بنیاد پر پوری دنیا کے ممالک کی اس انڈیکس میں درجہ بندی کرتی ہیں۔

گلوبل کریٹیویٹی انڈیکس کے ذریعے ہر سال عالمی سطح پر دنیا کے ان ممالک کی درجہ وار ترتیب مرتب کی جاتی ہے جہاں تخلیقی صلاحیتوں کے مؤثر استعمال کے ساتھ یہ ممالک خود کو ترقی کی دوڑ میں نمایاں رکھتے ہیں۔ یہ انڈیکس تخلیقی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی، ہنر اور برداشت جیسے عناصر کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا جاتا ہے۔

اس طرح ہر سال اقوامِ عالم کے تمام ممالک اپنی معیشت کی بنیاد پر اس انڈیکس میں درجہ بند کیے جاتے ہیں۔ اس انڈیکس کی شائع کردہ ممالک کی درجہ بندی کو پالیسی میکرز اور سرمایہ کاروں میں بہت اہمیت حاصل ہے اور اس انڈیکس کی مستند لسٹنگ کو مانتے ہوئے دنیا بھر سے ماہرین اور سرمایہ کار ان ممالک میں اپنے سرمائے کو محفوظ سمجھتے ہوئے سرمایہ کاری کے فیصلے کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

2020 کی جاری کردہ انڈیکس میں ترقی یافتہ ممالک تاحال سرِفہرست ہیں جن میں سوئٹزرلینڈ، سوئیڈن اور امریکا بالترتیب پہلے دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ لوئر مڈل انکم گروپ میں انڈیا نے تیسرے نمبر پر آ کر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مستقل ٹیکنالوجی کے فروغ کی کاوشوں کے ذریعے بہتری کی گنجائش لائی جا سکتی ہے۔ مقامِ افسوس ہے کہ 2020 کی شائع کردہ انڈیکس میں پاکستان نے اپنی سابقہ پوزیشن کھوتے ہوئے 105ویں کے بجائے 107 ویں پوزیشن حاصل کی۔ گلوبل انوویٹو انڈیکس کی گلوبل ریجن لسٹ میں بھی پاکستان اس بار آٹھویں نمبر پر نظر آیا جس میں کُل دس ممالک شامل ہیں۔

اب یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ایسی کیا چیزیں ہیں جو ان ممالک کو اس فہرست میں ٹاپ رینکنگ پر لاتی ہیں۔ جی آئی آئی رپورٹ کے کوایڈیٹر اور ایکزیکٹو ڈائریکٹر برونو لانواں کے مطابق “اس ساری رینکنگ میں چمپئن بننے کی ترکیب ایک ہی ہے اور وہ ہے معیشت کی کشادگی اور تعلیمی سیکٹر پر مناسب توجہ، اور کووڈ کے حالیہ بحران کی اس نئی صورت حال نے ان دونوں بنیادی ستونوں کو متاثر کیا ہے۔”

یقیناً کرونا کی حالیہ صورت حال میں سرمایہ کاری کم ہوئی ہے لیکن امید باقی ہے کہ یہ مسئلہ عالمی سطح پر توجہ طلب ہے اور تمام ممالک کو ہی درپیش ہے تو اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان وقتِ موجودہ کے حساب سے صنعتوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں سنجیدہ کوششیں کرے اور ان شعبہ جات پر خصوصی توجہ دے جن کی مانگ میں اس نئی صورت حال میں اضافہ ہوا ہے جیسا کہ ٹیلی کمیونیکیشن کے مخصوص شعبہ جات، جن میں لوگوں کے اس وائرس سے بچاؤ کے لیے گھروں تک محدود ہو جانے کے باعث اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

پاکستانی نوجوان زرخیز تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہیں لیکن صرف سوچ پر انفرادی طور پر کام ممکن نہیں۔ اگر آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو پاکستان میں نوجوانوں کا تناسب سب سے زیادہ ہے اور پاکستان عالمی سطح پر بھی نوجوانوں کی اکثریت کے ساتھ ٹاپ رینکنگ پر ہے اور یہ یقیناً پاکستان کے تابناک مستقبل اور ترقی کے لیے ایک خوش آئند بات ہے۔

پاکستانی نوجوان دنیا کی ہر فیلڈ میں اپنی دماغی صلاحیتوں اور ہنر سے خود کو منوا چکے ہیں۔ ان نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید اجاگر کر کے سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن جیسے شعبوں میں ایک انقلاب لایا جاسکتا ہے۔ بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ افرادی قوت کے درست اور بروقت استعمال کے ساتھ پاکستان تیز ترین معاشی و سماجی ترقی کی مزید نئی جہتوں پر گام زن ہوسکتا ہے۔

تعلیمی شعبے میں جتنا سنجیدہ ہونے کی اب ضرورت ہے، شاید پہلے کبھی نہ ہوئی ہوگی پاکستان کا تعلیمی نظام فرسودہ ہونے کے ساتھ ساتھ غیرمؤثر ہوچکا ہے۔ تعلیمی ادارے پرانے نصابی نظام میں ہی بھٹک رہے ہیں جہاں طلباء کی تخلیقی صلاحیتیں فرسودہ تعلیمی نصاب کی تقلید کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اب طلباء سے لگی بندھی مشقت کروانے کے بجائے ان کو ان کی دل چسپی کے حساب سے آگے بڑھنے کے مواقع دیے جائیں۔ زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہونے کی بجائے ان میں جستجو بیدار کرنے کی طرف توجہ دی جائے۔

اساتذہ کو بھی غوروفکر کی طرف مائل کیا جائے تاکہ تعمیری و تخلیقی سوچ کے ساتھ وہ بھی اپنے طریقۂ تدریس کو دورِحاضر کے جدید طریقوں کے حساب سے ہم آہنگ کر سکیں- جامعات کو اس وقت نوجوان نسل کے اندر تخلیقی دل چسپی پیدا کرنے کے لیے، بدلتے وقت کے حساب سے کچھ نئے پروگرام متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ ملک و قوم کی ترقی و خوش حالی کا راز تعلیم و تحقیق میں پوشیدہ ہے۔

دنیا کے تخلیقی صلاحیتوں کے بہترین استعمال میں سرفہرست ممالک (جن میں یو کے، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں) کی اگر گذشتہ دس سالہ تاریخ کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات واضح طور پر نظر آئے گی کہ ان ممالک نے جب طلباء کے تعلیمی کیریئر میں آرٹس اور کریٹیویٹی سے متعلقہ مخصوص شعبہ جات میں اپنے ترقیاتی فنڈز بڑھائے، تو انہوں نے ان سے وابستہ صنعتی میدانوں میں ریکارڈ ریونیو حاصل کیا، کارکردگی بڑھی اور نوجوان تخلیقی اذہان کا بہترین استعمال دیکھا گیا۔

اگر یو کے کی گذشتہ دس برسوں کی کارکردگی دیکھی جائے تو وہاں حکومت نے فنونِ لطیفہ جیسا کہ ثقافت، ذرائع ابلاغ اور کھیلوں سے متعلق شعبہ جات میں اپنے فنڈ بڑھائے اور نتیجتاً وہاں کے طلباء کے مختلف تخلیقی صنعتی میدانوں میں جانے کے مواقع بڑھے، جن میں ٹی وی، فلم، تھیٹر اور موسیقی وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح آسٹریلیا کی دس سالہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب وہاں کی حکومت نے اپنے فنڈ آرٹس سے متعلق تعلیمی شعبہ جات میں بڑھائے تو وہاں ریکارڈ ریونیو ان سے وابستہ انڈسٹریز سے واپس وصول ہوا۔

لیکن صدافسوس کہ سائبر وار کا شکار ہمارے طلباء ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال کر کے اس کو اپنے شعور کی بلندی اور آگہی اور تحقیق و تخلیق کی چوٹیوں کو سر کرنے کے بجائے سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک جیسے ایپس میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ اگر نوجوان نسل میں تخلیقی صلاحیتیں موجود بھی ہیں تو ان کی کسی بھی مناسب پلیٹ فارم سے حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔ بغیر کسی راہ نمائی اور حوصلہ افزائی کے، مختلف شعبہ جات میں اپنی مدد آپ کے تحت کام کرنے والے نوجوانوں یا تخلیق کاروں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔

مشہور و معروف ماہرِتعلیم کِن روبنسن کہتے ہیں کہ تعلیم میں انقلاب کی ضرورت ہے۔ بچوں میں نئی چیزوں کی کھوج اور ممکنات پر بات کرنا ہوگی، سوالات پوچھنے اور ایک سوال کے مختلف انداز میں جوابات دینے کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی۔ انٹرنیٹ کے اس دور میں معلومات ہر ایک کی پہنچ میں ہیں۔ مناسب مواقع اور راہ نمائی سے بچوں میں موجود تخلیقی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

کسی بھی معاشرے میں تخلیق کاروں کے کام میں جدت پسندی کے لیے صحت مند مقابلوں کا ماحول بنانا حکومت وقت کی ذمہ داری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ انفرادی تخلیق سے اجتماعی تخلیقی سفر درحقیقت کسی بھی قوم کی ترقی کا سفر ہے۔ تقلید کو رد کرنا ہی دراصل تخلیقیت کی طرف اٹھایا جانے والا پہلا قدم ہے۔ لکیر کی فقیر بنی قومیں کبھی ترقی کی شاہ راہ پر گام زن نہیں ہوسکتیں۔

پاکستان کی ثقافت اور تہذیب قدیم اور اس کے رنگ نہایت پرکشش ہیں۔ پاکستان اپنے شاندار ثقافتی ورثے کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ابتدائی درجات سے ہی اگر طلباء کی صحیح طریقے سے رہنمائی کی جائے اور ان کے لیے اس سے وابستہ شعبہ جات میں روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں تو طلباء کی دل چسپی سے اپنے ثقافتی رنگوں کو پوری دنیا میں بھرپور طریقے سے متعارف کرایا جا سکتا ہے۔

دیہی علاقوں میں اس شعبے میں کام کرکے وہاں کے نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کر کے ان کو ملکی معیشت کے دھارے میں باوقار طریقے سے شامل کیا جا سکتا ہے جس سے ان کے لیے باعزت روزگار کے بہترین مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ جن ممالک نے تخلیقی صلاحیتوں کو سپورٹ کیا وہاں معیشت کام یاب رہی۔

دنیا بھر میں اپنی رینکنگ بہتر بنانے کے لیے اب ہمیں مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ قلیل المیعاد اور طویل المیعاد منصوبوں پر درست سمت میں کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہنر مند نوجوان نسل کے تخلیقی اذہان کی خدمات کا فائدہ خود پاکستان کے بجائے دوسرے ترقی یافتہ ممالک اٹھا رہے ہیں جو ان نوجوانوں کو بہتر مستقبل سمیت پرکشش مراعات دے کر ان کی صلاحیتوں کو استعمال کر کے اپنی GDP میں مستقل اضافہ کر رہے ہیں۔ سال 2021 میں نئی امیدوں کے ساتھ داخل ہونے کے لیے اور پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے اب نوجوان نسل، پیشہ ورانہ تعلیمی ماہرین، صنعت کاروں اور حکومت کے مابین رابطہ سازی ناگزیر ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here