ماہرین نے پہلی مرتبہ زمین سے باہر کسی سیارے کی اصل تصاویر لی تھیں لیکن اس کی حقیقت تصویر نہیں ہے۔  فوٹو: ایسٹرونومی اینڈ ایسٹروفزکس جرنل

ماہرین نے پہلی مرتبہ زمین سے باہر کسی سیارے کی اصل تصاویر لی تھیں لیکن اس کی حقیقت تصویر نہیں ہے۔ فوٹو: ایسٹرونومی اینڈ ایسٹروفزکس جرنل

لندن: فلکیاتی کی دنیا میں ہر ماہ کا نظام شمسی سے باہر کسی کو کوئی خبر نہیں ہے (ایگزوپلانیٹ) خبریں آتی رہتی ہیں جنوری کا براہ راست مشاہدہ نہیں کیا جاسکتا ہے ثقلی امواج یا اس کے اثر سے سیارے کا پتا جڑ جاتا ہے۔ تاہم اب وہ شہروں میں ماہرین کی ٹیم ہے جس کا کسی شہری کو کوئی راستہ نہیں ہے۔

یہ سیارہ زمین سے نور سال نوری سال فاصلے پر واقع ہے جو گیسی ستارے ، بی ٹا پکٹورِس سی سیگرڈ گھوم واقع ہے۔ یہ ستارہ بہت جوان اور سرگرمی ہے جس کی عمر صرف 23 سال ہے۔ اس کے گرد گیس اور گردوغبار اب بھی موجود ہے جس کے ساتھ ساتھ پندرہ سیارے بھی موجود ہیں۔ اب تک دوسیارے دریافت ہوچکے ہیں۔

ماہرین پہلی مرتبہ براہ راست روشنی اور کمیت بھی نوٹ ہے۔ آپ کے جوان عمری کی وجہ سے اس تحقیق کے سیاروں کی تشکیل بہت حد تک ہے۔

یہاں یہ بات یاد نہیں ہے کہ ابھی تک کسی بھی ایگزوپلانیٹ کو براہ راست راستہ نہیں سمجھا گیا تھا لیکن جدید ٹکنالوجی کی مدد سے کسی کی مدد نہیں کی جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ اس کے بارے میں واضح بات نہیں ہے۔ واضح ہے کہ ایگزوپلانیٹ ثقلی اثر یا ڈگمگاہٹ کی نظر نہیں آتی ہے۔

فرانس کے ماہرِ فلکیات نے میری لیگرینج کے مطابق ستارے کے حلقے پر ایک سیارہ 16 برس قبل دریافت تو ہوچکا کی تھی لیکن اس کی تصدیق ثقلی اثر کی وجہ سے تھی اور اس سیارے کو بی ٹا پکٹورس سی کا نام دیا گیا تھا۔

اس کے بعد ایکگریویٹی ٹیم کے کارکنان میتھیاس نوواک نے پہلے مرتبہ بی ٹا پکٹورس سی کا مشاہدہ کیا اور تصاویر اتاری ہیں۔ یہ تحقیق دو اکتوبر کو ایسٹرونومی اور ایسٹروفزکس پر شائع ہوئی ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here