اِس ’دوریوں کے زمانے‘ میں پڑوسی ہی عملاً ہمارے ساتھ ہیں

اِس ’دوریوں کے زمانے‘ میں پڑوسی ہی عملاً ہمارے ساتھ ہیں

’کورونا‘ کی دوسری وبا کے باعث اب دوبارہ احتیاطی تدابیر پر زور دیا جا رہا ہے، کیوں کہ پہلے کی طرح دوبارہ اس وبا کی وجہ سے لقمہ اجل بننے والوں کی تعداد بڑھ چکی ہے۔ اگرچہ دوبارہ مکمل لاک ڈاؤن تو نہیں ہوا، لیکن گھروں میں رہنے اور میل جول میں احتیاط کی صلاح دی جا رہی ہے، اس لیے شادی بیاہ سے لے کر مختلف تقاریب ملتوی ہونے لگی ہیں، اور پھر دوبارہ سے آن لائن کاموں اور آن لائن کلاسوں پر بات آگئی ہے۔۔۔

ایسے محدود ہونے کے عالم میں پڑوسیوں کا کردار اہم ہوگیا ہے، کیوں کہ لوگ میل جول سے گریزاں ہیں، ہم اپنے عزیز واقارب سے طبعیی طور پر دور ہوگئے ہیں، ایسے میں اپنے مجسم صورت میں ہمارے قریب صرف ہمارے پڑوسی ہی ہیں،  کیوں کہ ان کے گھر کی دیوار ہمارے گھر کی دیوار سے ملی ہوئی ہے۔ ایک وقت ایسا بھی دور گزرا ہے، جب لوگ اپنی مصروفیات اور دیگر سرگرمیوں کے باوجود اپنے پڑوسیوں سے تعلقات رکھنا اور انہیں نبھانا اچھی طرح جانتے تھے۔

پہلے پڑوسی کسی رشتے دار کی طرح ہوتے تھے، اگر کبھی گھر تبدیل بھی کر لیا جاتا، تب بھی پرانے پڑوسیوں سے باہمی تعلقات جوں کے توں استوار رہتے، لیکن آ ج کے نفسا نفسی کے دور میں ہمیں اپنے موجودہ پڑوسیوں کے بارے میں صحیح سے نہیں معلوم ہوگا۔ شاید بہت سوں کے ہمیں ناموں کا علم اور شکل سے واقفیت بھی نہ ہو۔

پہلے خواتین خانہ اپنی پڑوسنوں سے بہنوں کی طرح میل جول رکھتی تھیں، اور انھی کے وسیلے پورے گھر کی ایک دوسرے سے واقفیت اور تعارف ہوجاتا تھا، خواتین کی یہ باہمی تعلق داری باورچی خانے کے امور سے لے کر باہمی دل چسپی کے امور تک پہنچتی تھی، لیکن اب ترجیحات بھی بدل گئی ہیں۔

آج دیوار سے دیوار ملی ہونے کے باوجود دلوں میں قربتیں نہیں۔ زندگی کی بھاگا دوڑی اور بڑھتے ہوئے مسائل کے ساتھ ذہنی و معاشرتی انتشار نے اس چیز کو جنم دیا ہے۔ اس کے باوجود بھی معاشرے میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں کو صرف دنیا دکھاوے کو نہیں، بلکہ خندہ پیشانی سے اپنے پڑوسیوں کے حقوق کو نبھانے کی پوری کوشش کرتے ہیں، مگر ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔ معاشرتی سطح پر اس کی بڑی وجہ وقت کی کمی، مصروفیات اور مہنگائی ہی کو سمجھا جاتا ہے۔

جبلتی طور پر انسان سماج کا طالب ہے اور اس کا مجلسی ہونا، عین فطری ہے، فاصلوں کی وبا میں یہ ایک بہترین موقع ہے، کہ ہم گئے وقتوں کی طرح پھر اپنے ہم سائے سے جڑیں یا کم از کم اجنبیت کی خلیج کو پاٹنے کی کوشش کریں۔  معاشرہ ایک دوسرے کے تعاون سے ہی چلتا اور آگے بڑھتا ہے، بہ حیثیت ایک خاتون اگر ہم اپنی قرب وجوار کی خواتین سے اچھے تعلقات جوڑے رکھیں گی تو یقیناً یہ امر ہر طرح سے سود مند ثابت ہوگا، کیوں کہ یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی مشکل کی گھڑی میں صرف ہمسائے ہی سب سے پہلے کام آتے ہیں۔

فی زمانہ لوگوں کے گھر بدلنے کا رجحان خاصا زیادہ ہے۔ لہٰذا جب ہم کسی نئی جگہ پر جا کر بستے ہیں یا کوئی ہمارے برابر والے گھر میں نیا مکین آتا ہے، تو ہمارے درمیان جھجک رہتی ہے جس کی وجہ سے بات چیت ہی نہیں ہو پاتی۔ ہمیں کوئی موضوع ہی نہیں سوجھتا کہ ہم کس طرح بات شروع کریں۔ حالاں کہ ہم بہت زبردست طریقے سے اپنے نئے پڑوسیوں کو جا کر خوش آمدید کہہ سکتے ہیں۔

ان کے بارے میں جان سکتے ہیں اور  اپنا تعارف کرا سکتے ہیں کہ ہم آپ کے پڑوس میں ہی رہتے ہیں وغیرہ وغیرہ، اس طرح ہم پہلے دن ہی عمدہ تعلقات کی بنیاد رکھ دیتے ہیں۔ دوسری صورت میں ہم سوچتے ہی رہتے ہیں اور پھر ہمارے اچھے تعلقات کی چاہ دھری کی دھری ہی رہ جاتی ہے۔ اپنے نئے پڑوسیوں سے خود جا کر تعارف کرانے میں بھی کوئی مضایقہ نہیں۔ اسی طرح سرِراہ جب کبھی بھی کوئی پڑوسی دکھائی دے، آپ لازمی اس سے خیر خیریت لیں۔ وقت کی تیز رفتاری میں یہ امر آپ کو اچھے پڑوسی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

اپنے پڑوسی کی کسی بھی چیز جو اسے بہت زیادہ عزیز ہو اس کی تعریف کریں۔ چاہے وہ اس کا گھر، بچے یا پھر اس کے کپڑے ہی کیوں نہ ہوں، کیوں کہ تعریف کسی کا بھی دل جیت سکتی ہے۔ دوستی یا ایک دوسرے کو جاننے کاتعلق اسی نقطے سے ہوتا ہے کہ آپ دونوں میں مشترکہ چیز کیا ہے اسی لیے نہ صرف اس کی تعریف کریں، بلکہ اس حوالے سے اس اچھے مشورے بھی دیں، جس سے اپنی ذات میں آپ کی بڑھتی ہوئی دل چسپی اسے آپ سے دوستی کرنے پر مجبور کرے گی۔

اکثرو بیش تر لوگ اچھے تعلقات قائم رکھنے کا سب سے اہم نکتہ نظر انداز کر دیتے ہیں اور وہ نکتہ ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانے کا ہے، آپ کی ایک ہلکی سی مُسکان دوسروں سے تعلقات کے آغاز میں خاصی مدد دے سکتی ہے، لہٰذا جس سمے بھی ہمسائے ملیں تو ایک تبسم کے ذریعے اس کی تواضع کریں۔

ایک ایسے وقت میں جب سب کو دور دور رہنا ہے، تو اس سماجی دوری کے ساتھ اپنے گھر کے پہلو میں موجود قریب ترین افراد سے  ناتا جوڑیے، کیوں کہ دوریوں کی اس وبا میں صرف آپ ہی اپنوں سے دور نہیں، آپ کے ہم سائے بھی اسی طرح وبا سے تحفظ کا بندوبست کر رہے ہوں گے، تو ایک دوسرے کی دل جوئی کیجیے اور اس بات کو محسوس کیجیے کہ شاید اسی وقت کے لیے کہا گیا تھا کہ ہمارے ہم سائے ہمارے خونی رشتہ داروں سے بھی بڑھ کر ہیں۔۔۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here