لندن: برطانیہ میں ایک گمنام مجسمہ ساز ایسا بھی ہے جو کسی سنگتراش کی طرح میٹھے کدّو (پمپکن) کو تراش کر اس پر طرح طرح کے چہرے بناتا ہے۔

بورڈ پانڈا نامی ویب سائٹ پر ’’سائڈلنگ فلائر‘‘ کے نام سے اس مصور کا اپنے بارے میں کہنا ہے کہ اس نے 6 سال پہلے میٹھے کدّووں کو تراش کر ان پر چہرے بنانے کا کام شروع کیا تھا۔

’’لیکن برطانیہ میں پمپکنز پورے سال میں صرف چند مہینوں کےلیے دستیاب ہوتے ہیں، اس لیے مجھے ان پر مشق کرنے کا بہت کم موقع مل سکا،‘‘ سائڈلنگ فلائر نے لکھا۔

اپنی ’’کدّو تراشی‘‘ کا ہنر دکھانے کےلیے سب سے پہلے تو وہ مناسب جسامت والا ایک پمپکن لیتے ہیں اور پھر کوئی بھی تصویر لے کر کدّو پر اس کی نقل تراشتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اس مرحلے پر سب سے بڑا چیلنج ایک تصویر کو دیکھ کر اس کی گہرائی کا اندازہ لگانا اور پھر پمپکن میں اسی حساب سے گہرے نقوش بنانا ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ میٹھا کدّو اندر سے بہت نرم ہوتا ہے جس پر نقش کاری کےلیے بہت احتیاط کی ضرورت پڑتی ہے۔

The post میٹھا کدّو تراش کر بنائے گئے چہرے appeared first on ایکسپریس اردو.

Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here