حکومتی سرپرستی سے ثقافتی سیاحت فروغ پا کر ملک و قوم کو بیش بہا معاشی فوائد دے سکتی ہے فوٹو : فائل

حکومتی سرپرستی سے ثقافتی سیاحت فروغ پا کر ملک و قوم کو بیش بہا معاشی فوائد دے سکتی ہے فوٹو : فائل

میلے مغربی و مشرقی پنجاب کی ایک شان ہوا کرتے تھے۔

صنعتی انقلاب سے پہلے پورا پنجاب ایک ’’ اناج گھر‘‘ تھا کافی حد تک آج بھی ہے مگر بڑھتی آبادی، سکڑتی زراعت، پھیلتی صنعتیں، زرعی زمینوں کو کھاتی رہائشی سکیمیں اور زراعت میں در اندازی کرتی میکانکی ٹیکنالوجی نے جیسے میلوں کا دم گھونٹ دیا ہو۔ میلوں کے زوال پر کچھ اثرات 1947ء کی تقسیم کے بھی ہیں اور بعد میں جدید دور میں کیبل و انٹر نیٹ کی وجہ سے ڈیرے کے زوال نے میلوں کے زوال کو مہمیز کیا۔

مسعود نظامی 1960 کی دہائی میں لکھتے ہیں کہ ان کے بچپن میں لاہور میں مزارات پر ہونے والے عرسوں کی منادی کرنے والا آواز لگایا کرتا تھا:

سجنو! ایہہ لاہور اے

ست دن تے اٹھ میلے

گھر جاواں کیہڑے ویلے

(ترجمہ: دوستو! یہ لاہور ہے، ہفتے میں سات دن ہوتے  ہیں اور میلے آٹھ، اب میں گھر کب جاؤں)

اور اسی طرح پورے پنجاب میں زراعت اور بزرگان (مسلم، سکھ اور ہندو) سے کافی سارے میلے جڑے ہوتے تھے، زراعت سے وابستہ میلے کلی طور پر سیکولر ہوتے تھے کہ سب گاؤں والے مل کر ایک دوسرے کی فصل کی کٹائی کرتے اور اناج سمیٹ کر زراعت کی طرف لوٹنے سے پہلے کچھ ہلہ گلہ کر لیتے تھے، میلے سجا لیتے تھے، پکوان پکوا لیتے تھے، گھوڑے دوڑا لیتے تھے، پہلوان لڑا لیتے تھے، نیزے ہوا میں لہرا لیتے تھے اور کچھ جمع خرچ بھی معاشرے میں گھما لیتے تھے کہ میلے نہ صرف میل جول کا ادارہ ہوتے تھے بلکہ معاشی سرگرمیاں بھی میلوں کا ایک اہم جزو ہوتی تھی جہاں ہر کوئی اپنی اپنی استطاعت کے مطابق جمع خرچ کرتا تھا۔

پھر جدیدیت کا دور آیا اور مشینی دیو نے حملہ کیا، جو کھیت دس لوگ ایک دن میںکاٹتے، مشینی دیو فقط چند منٹوں میں، تو جب کام کی تھکن ہے ہی نہیں تو کتھارسس کیسا؟ یہ مشینیں پنجاب کے میلے چاٹتی گئیں،  چاٹتی گئیں،  اب بس تلچھٹ ہی رہ گیا ہے۔

ایسے میں گجرات کی تحصیل جلال پور جٹاں کے ایک گاؤں (منڈہالہ نورا) کا میلہ حال کا وہ دریچہ ہے جس سے ہم پنجاب کے ماضی کے سماج میں جھانک سکتے ہیں، میلے میں مذہبی و سیکولر پنجاب کے ہر دو رنگوں میں جھانکا جا سکتا ہے۔

جلال پور جٹاں دریائے چناب کے کنارے بستا ایک ’’ قصباتی شہر‘‘ ہے، شہر کی حدود بہت کم ہے جس کے چاروں طرف کھیت کھلیان اور دیہات آباد ہے، چناب کی وجہ سے علاقہ کافی زرخیز بھی ہے اور کئی دیہاتوں کے ناموں سے تاریخ بھی جھلکتی ہے، جیسے ایک گاؤں ہے شاہ جہانیاں ہے جس کے بارے لکھا گیا ہے کہ کشمیر جاتے ہوئے مغل شہنشاہ شاہ جہان یہاں مقیم ہوا تھا۔

اس کے قریب ہی کے ایک گاؤں اسلام گڑھ جہاں موجود ایک قدیم قلعہ میں پنجاب کے مضبوط حکمران رنجیت سنگھ نے ٹکسال قائم کی تھی جہاں ’ نانک شاہی‘ سکے ڈھالے جاتے تھے ، پھر ایک گاؤں ہے کلا چور، جس کے بارے میں ماہرِ تعمیرات، مورخ اور یونیورسٹی آف انجئنیرنگ و جامعہ گجرات کے سابقہ استاد پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمان لکھتے ہیں کہ  جب سکندر مقدونوی (سکندرِ اعظم) کی فوجیں قدیم گجرات سے گزریں تو یقیناً قدیم شہر کو نقصان پہنچا ہوگا تو اس کے بعد ہندو راجہ کلا چند نے اپنے نام پر ایک شہر آباد کیا جو وقت کے جبر کی لہروں پر اپنا نام برقرار نہ رکھ پایا اور بگڑ کر کلا چور ہو گیا ۔

قصہ مختصر کہ جلال پور جٹاں سے جنوب کی طرف (بہ جانب چناب دریا) کے کوئی سات کلومیٹر کی دوری پر پنڈی لوہاراں (موجودہ نام داؤد پور) کے متصل منڈہالہ ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جس میں ہر سال جون میں حضرت چراغ بادشاہ (سائیں رحمت سرکار) کے مزار پر عرس اور مزار کے باہر ایک پرجوش میلہ سجتا ہے، جو کبھی پنجاب کا رنگ ہوا کرتا تھا۔ سائیں چراغ بادشاہ کا دو روزہ میلہ مذہبی و غیر مذہبی ہر دو رنگ لئے ہوئے ہے کہ مزار کے احاطے میں زائرین فاتحہ خوانی کرتے ہیں۔

پہلے روز محفلِ نعت کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اگلے روز قوالی جبکہ مزار کے باہر کا میلہ سیکولر ہو جاتا ہے جہاں مختلف پکوانوں کی دوکانیں سجتی ہیں، کھلونے بچوں کو لبھاتے ہیں اور محبت کے نام پر کانچ بکتا ہے۔ احاطے کے سامنے والے ان کھیتوں میں جن سے تازہ تازہ فصل لی ہوتی ہے میں منڈلی لگتی ہے، جھولے ہلکورے لیتے ہیں اور اس میلے کی وہ پہچان جس کی وجہ سے ستر ، ستر میل سے بھی لوگ آتے ہیں وہ ہے اکھاڑہ ۔

سائیں چراغ بادشاہ کے میلے کا خاص رنگ اکھاڑے کا آباد ہونا ہے۔ ایک اکھاڑہ تو میلے کے دوسرے دن سجتا ہے، انسانی اکھاڑہ، کبڈی جو پنجاب کا کھیل ہے ۔ یہ کبڈی طمانچے دار کبڈی ہوتی ہے، دونوں پہلوان گویا ہوا میں تھوڑا سا اوپر کو اٹھ کر مخالف پہلوان کے کندھے یا سینے پر وہ زناٹے دار تھپڑ رسید کرتے ہیں کہ ڈھول کی تھاپ میں بھی اس کی آواز پورا مجمع سنتا ہے اور پھر ہاہاکار مچاتا ہے ۔

مگر جو پہلے دن اکھاڑہ سجتا ہے وہی اس میلے کی شان ہے اور یہ انسانی نہیں حیوانی اکھاڑہ ہوتا ہے جس کا نام ہے، ’’ اکھاڑہ بیل دوڑ ‘‘ کہ اس میں بیلوں کی جوڑی کو سرپٹ ایک دائرے میں دوڑایا جاتا ہے۔ اس کھیل کو مقامی ٹومبی کہتے ہیں جو بیلوں کی جوڑی سب سے زیادہ چکر کاٹے اس کا مالک اس برس کا چیمپئین بنتا ہے۔اس برس کا میلہ تو عالمی وبا کھا گئی۔ گزشتہ برس اکھاڑہ بیس جون کو سجا ۔

مزار کے احاطے میں ایک رہٹ ہے( جو اب کھیتوں کو پانی نہیں دیتا، بس سال کے سال بیل دوڑ کے وقت ہی کام میں لایا جاتا ہے) اور رہٹ سے متصل ایک نیم گہرا گول دائرہ جس کے وسط میں ایک مستول ایستادہ ہوتا ہے اسی کے ساتھ ایک سجی سجائی پنجالی میں دو بیل جوت کر ان کی آنکھوں پر کھوپے چڑھا کر ان کو سرپٹ بھگایا جاتا ہے، پھر دوسری جوڑی پھر تیسری۔ اس طرح صبح چھے بجے سے شام تک کوئی ستر کے قریب جوڑیاں مقابلے میں حصہ لیتی ہیں جو جلال پور جٹاں، گجرات، لالہ موسیٰ، کھاریاں، منڈی بہاؤالدین اور جہلم تک سے لائی جاتی ہیں، مطلب ان کے مالکان بیان شدہ علاقوں سے فتح کا خواب آنکھوں میں سموئے بسوئے منڈہالہ چل پڑتے ہیں۔

بیل دوڑ اور طریقہِ کار

اکھاڑے سے کوئی پچیس فٹ دور ایک ٹرالی پر رنگ برنگی دریاں بچھا کر چند کرسیاں لگا کر اسٹیج بنایا گیا تھا جہاں سے منتظمین میں سے ایک پاٹ دار آواز کے مالک اور پنجابی شاعری میں نکتہ بازی رکھنے والے جلیل حسین کے پاس بیلوں کے مالکان کی فہرست تھی جس کے مطابق وہ اعلان کرتا جاتا تھا اور حاجی صاحب، چوہدری جی، ملک صاحب، راجہ صاحب وغیرہ میں سے کوئی اپنے ساتھیوں اور بیلوں کی جوڑی کے ساتھ اکھاڑے کی طرف بڑھتا جاتا تھا۔ چھ سات لوگ مل کر دونوں بیلوں کو پنجالی میں جوت دیتے ہیں اور پنجالی گڑھے کے وسط والے مستول سے جوڑ دی جاتی ہے۔

آنکھوں پر اندھیرا کرنے کی غرض سے کھوپے کس کر باندھ دیے جاتے ہیں اور پھر ایک دم سے بیلوں کو جب چھوڑا جاتا ہے تو وہ بجلی کی سرعت کے ساتھ اچھل کر دوڑ کا آغاز کرتے ہیں۔ بیلوں کی ہر جوڑی کو اپنا دم دکھانے کے لئے چھ منٹ دیے جاتے ہیں۔  ٹرالی اسٹیج پر براجمان اسٹیج سیکرٹری کے ہاتھ میں سٹاپ واچ اس کی مدد کرتی ہے کہ کب اس نے چھ منٹ پورے ہو جانے پر دوڑ ختم کرنے کے لئے ہاتھ کو لہرا دینا ہے جبکہ اس کا ایک عدد مددگار ڈیجیٹل کاؤنٹر پر بیلوں کے پھیرے گنتا ہے اور جو سوا، آدھے اور پونے کا حساب بھی رکھتا ہے۔ ساتھ ہی اسٹیج سیکرٹری دو اعلانات کرتا ہے:

ایک کہ بیلوں نے کتنے چکر کاٹے ( جو چھ منٹ میں عموماً 105 اور 113 کے درمیان ہوتے ہیں) اور دوسرا اگلی بیلوں کی جوڑی کے مالک کا نام ۔ جیسے ہی بیلوں کی جوڑی اکھاڑے سے باہر نکلتی ہے تو ایک شخص دوڑ کے آتا ہے اور بیل دوڑ سے جہاں جہاں سے مٹی اکھڑ جاتی ہے وہاں وہاں وہ زمین کو برابر کرتا جاتا ہے اور یوں اگلی جوڑی کی دوڑ شروع ۔

پہلے منٹ دو منٹ تو بیل سے سرپٹ بھاگتے ہیں جیسے کہ کبھی رکیں گے ہی نہیں اور تماشائی نیم خاموش ہوتے ہیں۔ ڈیڑھ دو منٹ کے بعد جیسے ہی دوڑ میں ہلکا سا بھی ضعف آتا ہے تو ڈھولچی تھاپ دیتا ہے اور ٹھیک ٹھاک دیتا ہے، جھنجھنے شور مچاتے ہیں، ڈھولچی تو منتظمین کی طرف سے ہوتے ہیں مگر مالکان بھی پوری تیاری کر کے آتے ہیں، ہر جوڑی کے ساتھ چھ سات بندے ہوتے ہیں،  جو اکھاڑے سے کم از کم دس فٹ کی دوری پر عارضی سی لگائی گئی برائے نام باڑ سے پرے ہوتے ہیں ۔ ان کے ہاتھوں میں باجے ہوتے ہیں جو بیلوں کے ساتھ ساتھ تماشائیوں کے کانوں میں گھسے جاتے ہیں۔

وہ ساتھ آتش بازی کا سامان، بم پٹاخے لاتے ہیں جنھیں ہر دو، دو تین، تین لمحوں کے بعد چھوڑا اور پھوڑا جاتا ہے کہ بیل بدک کے بس بھاگتے رہیں ۔ بس ایک تکلیف دہ امر ہوتا ہے کہ ان میں اکثریت کے ہاتھوں میں  بجلی کے جھٹکوں والے (سٹن گن بیٹن) راڈ ہوتے ہیں جن کا منہ وہ بیلوں کی طرف کر کے ہر ،  ہر چکر میں راڈ کی کلی دبا کر بجلی کی لہر بیلوں کی طرف پھینکتے ہیں۔ اس عمل میں بجلی کی لہریں تو شائد بیلوں تک نہیں پہنچتی مگر وہ خوف ضرور پہنچتا ہے جواکھاڑے میں لانے سے پہلے تربیت کے دوران اْن کو بجلی کے جھٹکے لگائے جانے کی وجہ سے ان کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔

جیتنے والے کو منتظمین کی طرف سے پہلا انعام گھوڑی اور دوسرا تیسرا انعام موٹر سائیکل کا دیا جاتا ہے، سن دوہزار اٹھارہ میں جس بیل کی جوڑی نے میدان مارا تھا ، اس نے چھ منٹوں میں ایک سو چودہ چکر کاٹے تھے جبکہ  2019 میں جیتنے والے بیلوں کی جوڑی نے چھ منٹوں میں ایک سو ساڑھے پندرہ پھیرے لئے اور ان کا مالک (چوہدری شماء گجر) اپنے بیلوں کے ساتھ ساتھ انعامی گھوڑی بھی گھر لے کر گیا۔

اس میلے کو میں نے دوسرے میلوں سے تھوڑا سا مختلف پایا یا کم از کم لاہور کے میلوں سے کچھ اختلاف دیکھنے میں آیا کہ دربار کے احاطے یا متصل قبرستان میں ملنگوں کا وہ مخصوص ٹولہ نظر نہیں آیا جو آگ کا مچ لگا کر اس پر دیگچی چڑھا کر سارا دن چائے پیتے پلاتے رہتے ہیں اور ایک دو ملنگ دوری (کونڈی) میں بادام اور بھنگ کا گھوٹا لگاتے رہتے ہیں۔ دوسرا میلے میں خواتین کی شرکت تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی، پہلے دن بالکل نہ ہی ہونے کے برابر تھی جبکہ دوسرے دن خال خال اور تیسرا کہ پورے میلے میں ایک بھی دوکان بھی ایسی نہ تھی جہاں سے صاحبِ مزار کے لئے چادر یا پھول خریدے جا سکتے، نہ چراغاں کے لئے چراغ، تیل، موم بتیاں دستیاب تھیں۔

خشک تبرک (مثلاً مخانے، ٹافیاں وغیرہ) بانٹے کے لئے بھی کوئی دوکان نہ تھی، ہاں چند لوگ گھر سے ہی لے کر آرہے تھے یا لنگر خانے میں چاول وغیرہ بانٹے جا رہے تھے۔ شائد صاحبِ مزار سماجی اکٹھ کرنے کا ایک بہانہ ہے اور بس یہ کہ میلے کا غالب رنگ مذہبی نہیں ۔

لوگ ابھی تک ہزاروں برس قبل کی زراعت کی سماجیات سے جڑے ہوئے ہیں کہ فصلوں کی کٹائی کے بعد اکھٹے ہو کر ہلہ گلہ کر کے پھر سے اپنے اپنے کھیتوں کو لوٹ سکیں ۔ مقامی روایات کے مطابق بابا چراغ بادشاہ کے دو مزار ہیں ایک منڈہالہ جلال پورجٹاں میں اور دوسرا گجرات شہر کے پاس بھولے پل کے پاس ۔ یہ وہی پل ہے جس کے قریب ایک مزار ہے جس کے مکین کا نام بابا شاہ جہانگیر ہے، جبکہ بعض لوگوںکا خیال ہے کہ یہ کوئی مزار نہیں بلکہ یہاں بادشاہ جہانگیر کی میت امانتاً دفن کی گئی تھی جب کشمیر سے لاہور واپسی پر ان کا انتقال ہو گیا تھا۔  ایک روایت یہ بھی ہے کہ میت  دفن نہیں کی گئی تھی بلکہ پیٹ کی آلائشیں دفن کی گئی تھیں ۔

بابا چراغ بادشاہ کا میلہ مکمل طور پر مقامی لوگوں کی کاوشوں سے سجا، لگا تھا، حکومتِ وقت اگر پنجاب کی ثقافت سے جڑے ہوئے میلوں کی سرپرستی کرے اور ان میلوں کی بھرپور تشہیر کی جائے تو پاکستان میں ثقافتی سیاحت کو فروغ دے کر، مقامی و غیر مقامی سیاحوں کو متوجہ کر کے معاشی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ دوسرا اس طرح کے میلے پاکستان کا ایک بہتر خاکہ دنیا میں پیش کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں اور تیسرا کہ ان میلوں سے شمالی علاقہ جات پر جو سیاحوں کا دباؤ ہے اس کو کسی حد تک کم یا منتقل کیا جا سکتا ہے۔

( لکھاری جامعہ گجرات کے شعبہ تاریخ سے بطورِ استاد منسلک ہے)



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here