جرمنی میں فوت شدگانی والے افراد کے منہ سے سونے کے دانت پائے جانے والے گورکن غلطی۔  فوٹو: فائل

جرمنی میں فوت شدگانی والے افراد کے منہ سے سونے کے دانت پائے جانے والے گورکن غلطی۔ فوٹو: فائل

جرمنی: جرمن پولیس نے یہ سمجھا کہ اس کے لئے کوئی غلطی نہیں ہے اور اس کے بعد اس نے عادی مجرم کو فورا ہوا ختم کردیا ہے۔

بیویریا صوبے کے شہر وارزبرگ کے مرکزی قبرستان میں لوگوں کو کو شبہ ہوا ہے کہ گورکن بہت خاموشی سے دفنانے کے عمل سے پہلے یا بعد میں اس کے منہ سے سونے کے دانتوں کا پتہ چل رہا ہے۔ پولیس کو اس کی غلطی کا سامنا کرنا پڑا جب اس کی موت واقع ہوئی اور اس کے بعد ‘بےحرمتی’ کا مرتکب ہونا پڑا۔

مقامی پولیس نے گورکن کو غلط تحقیقات شروع کیں اور ستمبر 2019 سے دانت چوری میں 20 واقعات رونما آئے ہیں۔ اس واقعات میں ایک عورت کی انگوٹھی پر چرائی ہوتی ہے۔

ابتدائی اطلاع کے بعد پولیس نے براہ راست راست گورکن کے گھر پر چھپہ مارا اور لگ بھگ 30 گرام سونا ، سونے کے 11 دانت یا ان کے خول اور ایک انگوٹھی قبضہ میں لیا۔

پولیس کا مؤقف یہ ہے کہ یہ سونا مرکزی قبرستان میں دفن ہوا ہے۔ لیکن یہ کام بہت چالاکی سے ہوا ہے اور حال ہی میں وہ مرنے والوں میں شامل ہیں۔ تاہم اس سے مزید عدالتی کارروائی کی ضرورت ہے۔

اس ضمن میں مزید تفتیشیں جاری رہی گورکن نے کہا کہ وہ عادی مجرم نہیں ہے لیکن اس نے صرف دانتوں سے تفتیش نہیں کی جس کی وجہ سے وہ خود کو دیکھ سکیں۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here