منفرد اسلوب اور دھیمالہجہ جون ایلیا کا تعارف ہوا ، ان کو ضرورت نہیں اردوادب کو ایک نئی جہت سے روشناس کرایا۔  فوٹو: فائل

منفرد اسلوب اور دھیمالہجہ جون ایلیا کا تعارف ہوا ، ان کو ضرورت نہیں اردوادب کو ایک نئی جہت سے روشناس کرایا۔ فوٹو: فائل

کراچی: معروف شاعر جون ایلیا کو دنیا سے متعلق 18 برس کی بات ہے۔

14 دسمبر 1931 کو ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہونے والے لوگ جون ایلیا کو انگریزی ، عربی اور فارسی مکمل عبور حاصل ہوئے تھے اس کا پہلا شعری مجموعہ ‘شاید’ نامعلوم شیعہ ہوا تھا جس میں اردو ادب کادیباچہ ٹھیکیدیا گیا تھا ، اردو ادب میں جون ایلیا کے نثر اور اداریے کوکمال کی روشنی کیا ہے۔

جون ایلیا کے شعری مجموعوں میں ، یعنی گمان ، لیکن گویا اور امور شامل تھے ، بیشتر تصانیف کو پزیرائی ملی تعداد میں شامل تھے ، نام سے مضامین کی تصنیف بھی قابل ذکر ہے ، الگ تھلگ نقطہ نظر اور غیر معمولی ، عملی قابلیت جون ایلیا ایل ایل میں ایلیا ادبی حلقوں میں ایک علیحدہ مقام کی حیثیت تھی ، یہ انفرادیت کی منفرد شاعری ہے جو ادب سے وابستہ شعرا کا مانا ہے۔

اس نے انگلیوں پر چلنے والی شاعری کی جون ایلیا میں ایک نمایاں افراد شامل کیے جنوری نے قیام پاکستان کے بعد جدید دھن کو فروغ دیا جس نے جون ایلیا کو میر اور مصفی قبیل کا انسان سمجھوتہ کیا۔

جون ایلیا کی شاعری کو معاشرے اور روایات سے کھلی بغاوت سے عبارت کیا یہی وجہ ہے کہ شاعری کے شعری دیگر شعراسے مختلف قسم کے دیتی ہیں ان کے معاشرے سے ہمیشہ ہی یہ بات رہ جاتی ہے کہ شاعر کو وہ عزت وتوقیر نہیں دی گئی جس کا وہ حقدار تھا۔ میں الگ الگ شناخت بخشنے والے جون ایلیا 8 نومبر 2002 کو ٹرانسپورٹ کرگئے ہو۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here