مریخ قطب جنوبی پر آبی برف کے علاوہ زیریں سطح کے بڑے ذخائر دریافت کا سلسلہ جاری ہے۔  (تصاویر: ای ایس اے)

مریخ قطب جنوبی پر آبی برف کے علاوہ زیریں سطح کے بڑے ذخائر دریافت کا سلسلہ جاری ہے۔ (تصاویر: ای ایس اے)

روم ، اٹلی: ماہرینِ فلکیات کی ایک عالمی ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ وہ مریخ کے قطب جنوبی (ساؤتھ پول) کے جھیلوں کا ایک پورا نیٹ ورک موجود ہے جو سطح پر نیچے چھپا ہوا ہے۔

اس نیٹ ورک میں تین جھلکیاں ہیں جن میں سب سے بڑی جھلکیاں 30 کلومیٹر لمبی اور 20 کلومیٹر چوہدری ہیں ، جو سرد ہے لیکن ‘مائع پانی’ ہیں متعدد تالابوں سے گھڑی آرہی ہے۔ یہ سب کچھ مریچ سطح کے اندر ، خاصی گراہائی میں موجود ہے۔

بتاتا چل رہا ہے کہ 2018 میں سائنسدانوں نے مریخ کی سطح سے 1500 میٹر گہرائی میں ، قطب جنوبی پر ، پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود تھا ، جو تقریباً 20 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ دریافت بھی اسی طرح کے تسلسل میں ہے 2018 2018 2018 میں میں دریافت والے والی جھیلوں سے قریب واقع ہوئی ہیں۔

دو سال پہلے والی والی دریافت کو ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا تھا لیکن اس سے پہلے شاید اس نے مریخ پر اپنے سابقہ ​​انداز سے دوری اختیار کرلی ہے۔ البتہ وہ سارے کا سارا سطح نیچے پوشیدہ ہے۔

تحقیقی مجلّے ” نیچر ایسٹرونومی ” کے تازہ شمارے آن لائن شائع ہونے والی والی رپورٹ اٹلی ، جرمنی اور آسٹریلیا کے ماہرین نے مشترکہ طور پر مرتب کی جس میں یورپی خلائی مشن ” مارس ایکسپریس ” کے خاص ریڈار سے لے کر سن 2010 سے لے کر 2019 تک ، دس سالوں کے دوران حاصل شدہ ڈیٹا تھا تجزیہ کیا ہوا؟

یوریپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) کا یہ مشن ایک مصنوعی سیارے کی حیثیت سے ہے جس میں مریخ کے گرد چکر کا مقام ہوتا ہے اور اس سرخ سیارے کے اسرار ہم آشکار ہوتے ہیں۔

مارس ایکسپریس کا یہ ریڈار ، جگہ مختصراً ‘مارسس’ (مارسس) نے علاج کیا ، مریخ کی سطح سے ٹکرا کر پل والی والی ریڈار لہروں میں موجود زیریں سطح موجود برف اور دوسرے آبی ذخائر کا پتا لگانے میں مدد ملی۔

ریموٹ سینسنگ میں ریڈار لہروں کی سطح زمین کے نیچے پوشیدہ ڈھانچے اور آبی ذخائر وغیرہ تلاش کی برسات سے وابستہ ہیں جس کی سائنس آج مستحکم اور قابل بھروسہ ہوچکی ہے۔ خدمت طریقہ مریخ پر زیرِ سطح آبی ذخائر کی تلاش میں بھی استعمال ہوا۔

ماہرین کا اندازہ یہ ہے کہ مریخ کی سطح نیچے چھپی ہوئی ہے اور مائیک پانی کے درجے کی منفی 68 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد سے زیادہ ہے ، جس کا صرف ایک ہی حق ہے کہ وہ مریخ کے نیچے کی سطح کی حد سے زیادہ نمکین ہے۔ پانی سے نقطہ انجماد (برف بننے کا درجہ حرارت) گویا پانی میں جتنا زیادہ نمک شامل ہے ، وہی قدرتی درجہ حرارت پر منجمد ہو کر برف بننے والا ہے۔

واضح ہے کہ یہ مریخ پر انسانی بستیوں کے مستقبل کے منصوبوں میں اہم اہمیت رکھتا ہے لیکن وہ سرخ سیارے پر موجود حالات اور خدشات اور خطرات سے دیکھتے ہیں کہ اس کے بعد کسی بھی طرح کے منصوبے سامنے نہیں آسکتے ہیں۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here