تصویر میں دیکھنے والوں کو سولر سیل میں مرچوں کے کیمیکل کیسپیسیئن میں شامل کیا گیا ہے جو افادیت بڑھتی ہوئی تصویر ہے (فوٹو: نیوسائنسٹسٹ)

تصویر میں دیکھے جانے والے سولر سیل میں مرچوں کے کیمیکل کیسپیسیئن میں شامل ہونے والی افادیت بڑھتی ہوئی تصویر ہے (فوٹو: نیوسائنسٹسٹ)

بیجنگ: آپ کے منہ اور زبان کو بے حد آرام دینے والا مرچوں کا کیمیکل ” کیسپیسیئن ” اب شمسی سیل کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔ اس اختراع کے بعد کے دھوپ سے بجلی پیدا کرنے میں مزید سہولیات حاصل ہوتی ہیں۔

ماہرین نے پہلے سورج کی روشنی کو بجلی میں بدلتے ہوئے شمسی سیل کو تبدیل نہیں کیا تھا۔ اس سیلیکون سے باز آ گیا ہے۔ اب ہم شمسی سیلوں سے بجلی کی مناسب مقدار بھی نہیں رکھتے ہیں اور ہر سال کچھ کفایت کرتے ہیں (ایفیشنسی) ملکہ ہوتی ہے اور بقیہ دھوپ حرارت کی صورت میں دوبارہ آتی ہے۔

اب شنگھائی میں واقع ایسٹ چائنا نارمل یونیورسٹی کے چائنا باؤ اور ان کے ساتھیوں نے ایک دلچسپ کام کیا اور سلیکون سے شمسی سیل کے دوران اس نے مرچوں کا کیمیکل کیسپیسیئن ملایا۔ اس کے بعد کے الیکٹرون قدرے آزاد ہوکر آگے دوڑ رہے ہیں اور سولر سیل کی افادیت میں اضافہ ہوا ہے۔

سب سے پہلے سائنسدانوں نے تجربہ گاہک میں نہیں تھا سورج سے مماثل مصنوعی روشنی میں آزمایا۔ ماہرین نے کہا کہ مرچوں والے سولر سیل میں الیکٹرون کے گھر میں اضافہ ہوا۔ مرچوں کے کیمیکل سے روشنی کی روشنی 21.88 فیصد تک پہنچ گئی جو اس سے پہلے 19.1 فیصد تھی۔ اس طرح یہ ایک بہتر کاوش ہے۔

بعد ازاں ماہرین نے سولر سیل کا بغور جائزہ لیا جس میں طیف نگاری (اسپیکٹرو اسکوپی) استعمال ہوا۔ یہ بھی تصدیق ہے کہ الیکٹرون کا گھر سے ہوا اور کرنٹ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ توانائی کا رساؤ (کتاب) بھی کم جگہ ہے۔

لیکن اس طرح کے عمل کو سمجھنا باقی رہ گیا ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ یہ ایکسپیسیئن سالمات بجلی کے آئنوں کے گھر سے بہتر ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کیمیکل کوٹنا آسان ہے اور اس کی قیمت بھی کم ہے۔

اس سے پہلے بھی ماہرین نے سولرسیل کی افادیت کے بارے میں بتایا تھا کہ اس میں قدرتی اشیا کو آزمایا جاسکتا ہے لیکن مرچوں کے کیمیکل کے نتائج بہت حیرت زدہ ہیں۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here