اسرائیل کو تسلیم کرنے والا مراکش چوٹھھا مسلمان ملک ہے (فوٹو ، فائل)

اسرائیل کو تسلیم کرنے والا مراکش چوٹھھا مسلمان ملک ہے (فوٹو ، فائل)

واشنگٹن: شمالی افریقہ کے ایک اور عرب مسلمان ملک مراکش نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔

ہمارے اکاؤنٹ پر امریکہ کے صدر نے اعلان کیا کہ آج ایک تاریخی پیشرفت ہے۔ ہمارے دو قریبی دوست اسرائیل اور سلطنت مراکش ایک دوسرے کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات کی پیش کش پر رضا مند ہوئے۔ یہ مشرق وسطیٰ کا ایک بہت بڑی پیشرفت ہے۔

شہریوں کی خبروں کے مطابق جمعرات کو امریکی صدر اور مراکش کے بادشاہ محمد ہشتم میں ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں اس معاہدے کو حتمی شکل دینے پر بات چیت جاری رہی۔

وائٹ ہاؤس نے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن صدر مغربی صحارا پر مراکش کے دعوے کو قبول نہیں کرتے ہیں۔ اس علاقوں میں مراکش اور الجیریا کی حمایت یافتہ پولیساری محاذ کے مابین دہائوں سے جھڑپیں جاری ہیں۔ پولیساریو اس خط کو کوٹ ایک آزاد ریاست بنانا ہے لیکن امریکہ نے اس کے علاقے پر مرقش کا اختیار قبول نہیں کیا۔

رواں برس اگست کے بعد کے مراکس چوتھا عرب ملکوں کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات کی فہرست کا معاہدہ کرنا ہے۔ اس سے پہلے متحدہ عرب امارات ، بحرین اور سوڈان ، اسرائیل سے تعلقات کے معاہدے طے کرچکے ہیں۔

اس معاہدے کے تحت مراکش اسرائیل سے باضابطہ اور مکمل سفارتی تعلقات قائم رہتے ہیں اور تمام اسرائیلی اڑانوں کو اپنے فضائی حدود کھول دیتے ہیں۔

فلسطین عرب ممالک میں اسرائیل کے فیصلوں پر قدرتی تنقید کی جارہی ہے۔ اس کا مؤثر یہ ہے کہ فلسطینی ریاست علیحدہ قطعہ زمین کی درینہ واقعہ پیش آئے گی جب کبھی بھی اسرائیلی ریاست کو تسلیم نہیں کرنا پڑے گا تو وہ عرب ممالک کے اپنے دیرینہ حلقہ سے پسپائی ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: عرب ممالک اسرائیل سے تعلقات پر فلسطینی خواتین کودچکا مقام ، صدر محمود عباس

صدر ٹونٹی 20 جنوری کو سب کو دو دن سے لے رہے ہیں اور اس معاہدے پر دستخط کروانا منصب پر رہائش پذیر ہیں۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here