کم بخت ادب میں جہاں اور بیس مصیبتیں ہیں وہاں ایک جھگڑا یہ بھی ہے کہ اس کے ایک عنصر کو باقی عناصر سے الگ کر کے سمجھنا چاہیں تو بات آدھی پونی رہ جاتی ہے۔

یہاں وہ ڈاکٹروں والی بات نہیں چلتی کہ کوئی کان کے امراض کا ماہر ہے تو کوئی ناک کی بیماریوں کا‘ ادب پارہ عناصر کا مجموعہ نہیں ہوتا۔ یہاں تو کُل ہی اصل چیز ہے۔ کہیں سے اینٹ، کہیں سے روڑا لے کے اور چاہے جو بن جائے ادب نہیں بنتا۔ ادب کا معاملہ تو وہی ہے جو اشیا کا ہے۔ اشیا میں لمبائی بھی ہوتی ہے اور چوڑائی بھی۔ لیکن ایک کے بغیر دوسری وجود میں نہیں آ سکتی۔

ادب کے بارے میں سوچنے بیٹھیں تو یہی الجھن پیش آتی ہے۔ ابھی ایک پہلو کے متعلق کوئی بات کہہ کے مطمئن بھی نہیں ہونے پائے تھے کہ پتہ چلا یہ پہلو دوسرے پہلو سے جڑا ہوا ہے۔ جبھی تو ادبی تنقید کا کام ہوا سے لڑنے کے برابر ہے۔

مثلاً میں نے کچھ دن سے غل مچا رکھا ہے کہ ہمارے ادیبوں کو الفاظ پر قدرت حاصل نہیں‘ اس لئے ہمارا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ الفاظ کو قابو میں لائیں۔ اس سیدھے سادے بیان سے بظاہر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ادیب لوگ روز صبح اٹھ کے نہار منہ لغت کاا یک صفحہ رٹ لیا کریں۔ یا پرانی کتابیں پڑھ پڑھ کے اچھے اچھے لفظوں کی ایک فہرست تیار کریں اور پھر اس فکر میں رہیں کہ موقع بے موقع ایک زور دار سا لفظ ٹکا دیں۔

اگر بغرض محال اس طرح اچھی نثر یا نظم لکھی بھی جا سکے تو محض ایک افسانہ چھپوانے کی خاطر ا تنا جھنجھٹ کون پالے گا کہ نوراللغات کی چار جلدیں ہر وقت کندھے پہ اٹھائے پھرے۔ اصل پوچھنے کی بات تو یہ ہے کہ لفظ یاد کس طرح رہتے  ہیں اور لفظوں پر قابو کیسے پایا جاتا ہے۔ آخر وہ کیا چیز تھی جس نے اکیلے شیکسپئیر کو چھبیس ہزار الفاظ دے دیئے۔ حالانکہ ہماری پوری اردو زبان میں  کُل ملا کے چھپن ہزار الفاظ ہیں‘ اور آج  کل کے اردو ادیبوں کے پاس تو شاید دو تین ہزار سے زیادہ نہ ہوں گے۔ یہ کیا قصہ ہے؟

الفاظ اس آدمی کو یاد ہوتے ہیں جو زندہ ہو۔ یعنی جسے زندگی کے عوامل اور مظاہر سے جذباتی تعلق ہو اور جو اس تعلق سے جھجکے یا گھبرائے نہیں۔ ادیبوں کو چھوڑیئے ہم آپ جیسے عام آدمی روزانہ جوالفاظ بولتے ہیں ان میں ہماری پوری جسمانی‘ ذہنی اور جذباتی سوانح عمری بند ہوتی ہے۔ گویا ہر آدمی دن بھر ا پنی داستان اور بچپن سے لے کر آج تک کی تاریخ بیان کرتا پھرتا ہے۔

ان میں سے بہت سے لفظ تو ایسے تجربات کی نمائندگی کرتے ہیں جنہیں ہمارے شعور نے بھی قبول کر لیا ہے۔ بہت سے لفظوں میں وہ تجربات چھپے بیٹھے رہتے ہیں جن سے شعور بچتا ہے۔ لیکن جنہیں لاشعور ہمارے اوپر ٹھونستا ہے۔ دوسری طرف ایسے بھی لفظ ہوتے ہیں جنہیں ہم حافظے کی گولیاں کھانے کے بعد بھی یاد نہیں رکھ سکتے۔ کیونکہ ‘ ا ن کا تعلق ایسے ناخوشگوار تجربات سے ہوتا ہے، جن سے ہم دامن چھڑانا چاہتے ہیں۔

ہم کتنے اور کس قسم کے الفاظ پر قابو حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہمیں زندگی سے ربط کتنا ہے اور ہم خوشگوار اور ناخوشگوار دونوں طرح کے تجربات قبول کرنے کی ہمت کتنی رکھتے ہیں۔ جی ہاں‘ خوشگوار تجربے کو قبول کرنے کے لئے بھی ہمت چاہئے۔

بقول فراق صاحب‘ ’’بلائیں یہ بھی محبت کے سر گئی ہوں گی‘‘، اس میں بھی نفی خودی کا کرب برداشت کئے بغیر گزارا نہیں ہوتا۔ خودپرست آدمی نشاط کے قابل رہتا ہے نہ غم کے۔ اگر کوئی سکڑ سمٹ کے بالکل اپنے اندر بند ہو جائے تو اسے لفظوں کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

کیونکہ الفاظ تو اس تعلق کا ذریعہ اظہار ہیں جو ہمارے اور خارجی چیزوں کے درمیان ہوتا ہے۔ خدا نے حضرت آدم علیہ السلام کو سب سے پہلے چیزوں کے نام سکھائے تھے پھر الفاظ محض اظہار کا ذریعہ ہی نہیں ہیں‘ ان کے پیچھے یہ خواہش کام کرتی ہے کہ ہم دوسروں سے تعلق پیدا کریں۔ چنانچہ لفظوں کو قابو میں لانے کے لئے آدمی کے اندر دو چیزیں ہونی چاہیں۔

ایک تو زندہ رہنے اور زندگی سے دلچسپی رکھنے کی خواہش۔ دوسرے انسانوں سے تعلق رکھنے کی خواہش۔ شیکسپیئر نے چھبیس ہزار الفاظ لغت میں سے نقل نہیں کئے تھے‘ بلکہ چیزوں اور انسانوں کی دنیا سے چھبیس ہزار طرح متاثر ہوا تھا۔ کیونکہ ایک سیدھا سادا اور بذات خود مہمل سا لفظ ’’اور‘‘استعمال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی شخصیت میں اتنی لچک موجود ہے کہ وہ اپنی دلچسپی کو ایک چیز سے دوسری چیز تک منتقل کر سکے۔

اس کے اندر گیرائی ہے کہ بیک وقت دو چیزوں کا احاطہ کر سکے۔ بہت سے لوگوں کی شخصیت ٹھٹھر کے رہ جاتی ہے تو اسی لئے کہ وہ اپنی روح کی گہرائیوں میں سے ’’اور‘‘ کہنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ میں شاعرانہ مبالغے سے کام نہیں لے رہا۔ یہ ذرا سا لفظ ’’اور‘‘ کتنا عظیم ہے۔ اس میں تو ایک پوری کائنات سما سکتی ہے۔

اتنی جھک سے مقصود میرا بس اتنا تھا کہ ادیبوں کے پاس لفظ کم رہ جائیں تو پورے معاشرے کو گھبرا جانا چاہئے۔ یہ تو ایک بہت بڑے سماجی خلل کی علامت ہے۔ باعمل لوگ ادب جیسی بے مصرف چیز سے ہزار بیگانہ رہیں۔ لیکن ادب میں ان کی نبض بھی دھڑکتی ہے۔ ادب میں لفظوں کا توڑا ہو جائے تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ معاشرے کو زندگی سے وسیع دلچسپی نہیں رہی یا تجربات کو قبول کرنے کی ہمت نہیں پڑتی۔ جب ادب مرنے لگے تو ادیبوں ہی کو نہیں بلکہ سارے معاشرے کو دعائے قنوت پڑھنی ہے۔

خیر اب لمبی چوڑی باتیں چھوڑ کے یہ دیکھیں کہ آج  کل کے ادب میں لفظوں کے قحط کی نوعیت کیا ہے۔ فی الحال محاورے کا معاملہ لیجئے! بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ محاروں کے استعمال کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اگر سیدھے سادھے لفظوں سے کام چل جائے تو اس تکلف میں کیوں پڑیں؟ دو چار لوگ ایسے بھی ہیں جو چاہتے ہیں کہ محاورے استعمال ہوں اور اس کی صورت وہ یہ بتاتے ہیں کہ پرانا ادب پڑھا جائے۔

اگر اس طرح محاوروں کا استعمال سیکھا جا سکتا ہے تو پھر وہ لغت والا نسخہ ہی کیا برا ہے؟ خیر اپنی اپنی رائے تو اس معاملے میں سبھی دے لیتے ہیں۔ کوئی محاوروں کو قبول کرتا ہے کوئی رد۔ لیکن جو بات پوچھنے کی ہے وہ کوئی نہیں پوچھتا‘ اصل سوال تو یہ ہے کہ محاورے کب استعمال ہوتے ہیں اور کیوں؟ اور محاورں میں ہوتا کیا ہے؟ وہ ہمیں پسند کیوں آتے ہیں؟ ان سے بیان میں اضافہ کیا ہوتا ہے:

خالص نظریاتی بحث تو مجھے آتی نہیں۔ ایک آدھ محاورے کو الٹ پلٹ کر دیکھتا ہوں کہ اس کے کیا معنی نکلتے ہیں۔ سر شار نے کہیں لکھا ہے، ’’…چراغ میں بتی پڑی اور اس نیک بخت نے چادر تانی۔‘‘ اس اچھے خاصے طویل جملے کا سیدھا سادا مطلب یہ ہے کہ وہ لڑکی شام ہی سے سو جاتی ہے‘ تو جو بات کم لفظوں میں ادا ہو جائے اسے زیادہ لفظوں میں کیوں کہا جائے؟ اس سے فائدہ؟ فائدہ یہ ہے کہ جملے کا اصل مطلب وہ نہیں جو میں نے بیان کیا بلکہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔

’’شام ہونا‘‘ تو فطرت کا عمل ہے ’’چراغ میں بتی پڑنا‘‘ انسانوں کی دنیا کا عمل ہے جو ایک فطری عمل کے ساتھ وقوع پذیر ہوتا ہے اور یہ عمل خاصا ہنگامہ خیز ہے۔ جن لوگوں نے وہ زمانہ دیکھا ہے‘ جب سرسوں کے تیل کے چراغ جلتے تھے‘ انہیں یاد ہو گا کہ چراغ میں بتی پڑنے کے بعد کتنی چل پول مچتی تھی‘ اندھیرا ہو چلا‘ ادھر بتی کے لئے روئی ڈھونڈی جا رہی ہے۔ روئی مل گئی تو جلدی میں بتی ٹھیک طرح نہیں بٹی جا رہی۔ کبھی بہت موٹی ہو گئی‘ کبھی بہت پتلی۔ دوسری طرف بچے بڑی بہن کے ہاتھ سے روئی چھین رہے ہیں۔

یہی وقت کھانا پکنے کا ہے توے پر روٹی نظر نہیں آ رہی۔ روٹی پکانے والی الگ چلا رہی ہے‘ وغیرہ وغیرہ۔ ’’چراغ میں بتی پڑنے‘‘ کے معنی محض یہ نہیں کہ شام ہو گئی۔ اس فقرے کے ساتھ اجتماعی زندگی کا ایک پورا منظر سامنے آتا ہے۔ اس محاورے میں فطرت کی زندگی اور انسانی زندگی گھل مل کر ایک ہو گئی ہے۔ بلکہ شام کے اندھیرے اور سناٹے پر انسانوں کی زندگی کی ہماہمی غالب آ گئی ہے۔

سرشار نے یہ نہیں کہا کہ سورج غروب ہوتے ہی سو جانا صحت کے لئے مضر ہے۔ انہیں تو اس پر تعجب ہوا ہے کہ ایسے وقت جب گھر کے چھوٹے بڑے سب ایک جگہ جمع ہوں اور اتنی چہل پہل ہو رہی ہو‘ ایک آدمی سب سے منہ موڑ کر الگ جا لیٹے۔ انہیں اعتراض یہ ہے کہ سونے والی نے اجتماعی زندگی سے بے تعلقی کیسے برتی؟ پھر’’چادر تاننا‘‘ بھی سو جانے سے مختلف چیز ہے۔

اس میں ایک اکتاہٹ کا احساس ہے۔ یعنی آدمی زندگی کی سرگرمیوں سے تھک جانے کے بعد ایک شعوری فعل کے ذریعے اپنے آپ کو دوسروں سے الگ کر کے چادر کے نیچے پناہ لیتا ہے۔ سرشار نے محض ایک واقعہ نہیں بیان کیا۔ بلکہ عام انسانوں کے طرز عمل اور ایک فرد کے طرز عمل کا تضاد دکھایا ہے۔ اس انفرادی فعل کے پیچھے سے اجتماعی زندگی جھانک رہی ہے۔ محاوروں کے ذریعے پس منظر‘ اور پیش منظر دونوں ایک دوسرے میں پیوست ہو گئے ہیں۔

اب ایک ضرب المثل لیجئے۔ ’’بلی کے بھاگوں چھنیکا ٹوٹا۔‘‘  اس میں ایک عمومی تصور ایک خاص واقعے کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ ایک استعارہ ہے جو بقول ارستو شاعری کی جان ہے۔ تو ایسے بھی محاورے اور ضرب الامثال ہوتی ہیں جو محض بیان سے آگے بڑھ کے شاعری بن جاتی ہیں۔ پھر مندرجہ بالا فقرے میں گھریلو زندگی کے کئی پہلو نظر آتے ہیں۔ خاص طور سے بعض جانوروں کو انسانوں کی زندگی میں جو دخل ہے اس کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے۔

غرض محاوروں میں اجتماعی زندگی کی تصویریں‘ سماج کے تصورات اور معتقدات‘ انسان‘ فطرت اور کائنات کے متعلق سماج کا رویہ‘ یہ سب باتیں جھلکتی ہیں۔ محاورے صرف خوب صورت فقرے نہیں‘ یہ تو اجتماعی تجربے کے ٹکڑے ہیں۔

اور ایسے ٹکڑے جن میں سماج کی پوری شخصیت بستی ہے۔ محاورہ استعمال کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے انفرادی تجربے کو اجتماعی تجربے کے پس منظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ محاورہ فرد کو معاشرے میں گھلا دیتا ہے۔ تخصیض میں تعمیم اور تعمیم میں تخصیص پیدا کرتا ہے۔ محاورہ ہمیں بتاتا ہے کہ فرد کے ایک تجربے کو اس کے د وسرے تجربوں سے، فرد کے تجربے کو سماج کے تجربے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔

محاورہ جزو کو خالی جزو نہیں رہنے دیتا‘ اسے  کُل میں ڈبوتا ہے… ہمیں زندگی کی پیچیدگی اور نگارنگی یاد لاتا ہے۔ اس کے ذریعے مختلف تجربات کا تضاد اور تقابل نظر کے سامنے آتا ہے۔ چونکہ محاورہ فرد کو کھینچ کے پھر اجتماعی زندگی میں واپس لے آتا ہے‘ اس لئے اسی وقت استعمال ہوتا ہے، جب فرد اپنے معاشرے سے تعلق برقرار رکھنا چاہئے۔ یعنی محاورہ ایک مربوط اور منضبط معاشرے کی پیداوار ہے۔ جب فرد اپنے معاشرے سے بچھڑ جائے اور وہ دوبارہ معاشرے میں گھل مل جانے کی خواہش بھی نہ رکھتا ہو تو پھر نہ تو محاورے استعمال ہو سکتے ہیں نہ ان کی ضرورت باقی رہتی ہے۔

اردو شاعری میں محاوروں سے اجتناب سب سے پہلے ہمیں غالب کے یہاں نظر آتا ہے ۔ کیونکہ ان کی خواہش تو یہ تھی کہ ’’عرش سے پرے ہوتا کاش کہ مکاں اپنا۔‘‘ آسماں سے پرے کوئی مطلق اور مجرد تجربہ ہوتا ہو تو ہوتا ہو۔ انسانوں کا اجتماعی تجربہ نہیں ہوتا۔ اس دنیا میں تو فرد اپنے تجربے ہی کو ایک مطلق چیز سمجھ سکتا ہے۔ اسے اوروں کے تجربے سے اپنے تجربے کا مقابلہ کرنے کی ضرورت نہیں پیش آتی۔ تو پھر غالب محاورے کیوں استعمال کرتے؟ اگر غالب کے خطوط موجود نہ ہوتے تو ہمیں ان کی شخصیت بڑی چھوٹی اور گھٹی ہوئی نظر آتی۔

غالب کی غزل میں ان کی شخصیت کی عظمت چاہے آ گئی ہو‘ وسعت نہیں آنے پائی۔ غالب کو دو چیزوں نے مارا۔ ایک تو اپنے آپ کو دوسرے انسانوں سے الگ رکھنے کی خواہش‘ دوسرے فلسفہ بگھارنے کا شوق ’’عالم تمام حلقہ دام خیال ہے‘‘… یہ بات اپنی جگہ درست سہی‘ مگر سچا خیال بھی اسی وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب ٹھوس چیزوں پر نظر ہو۔ ارسطو نے کہا ہے کہ نوجوان لوگ فلسفی نہیں بن سکتے۔ کیونکہ ان کی اصول سازی اور خیال آرائی کے پیچھے خصوصی تجربات کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے غالب اپنی فکری زندگی میں ہمیشہ لڑکے ہی رہے۔

جہاں تک مفکر ہونے کا تعلق ہے، غالب کیرکے گورکے گھٹنے تک بھی نہیں پہنچتے۔ لیکن کیرکے گورکا زبردست امتیاز یہی ہے کہ اس کا ہر خیال انفرادی یا اجتماعی زندگی کے کسی نہ کسی ٹھوس تجربے سے نکلتا ہے۔

بہرحال غالب تو ایک ایسے رجحان کی نمائندگی کر رہے تھے جو ہمارے معاشرے میں پیدا ہو چکا تھا۔ یعنی فرد کے دل میں سماج سے الگ ہونے کی خواہش۔ جب فرد کی زندگی پرانے اجتماعی مناسبات سے واقعی الگ ہو گئی تو نیاز فتح پوری وغیرہ کا ادب سامنے آیا۔ ان لوگوں کا عقیدہ تھا کہ ادیب کے تجربات عام انسانوں کے تجربات سے الگ اور جمالیاتی نوعیت کے ہوتے ہیں‘ اور ادیب تصورات کی دنیا میں رہتا ہے۔

فارسی اور عربی کے الفاظ کی تعداد زیادہ ہو جانے اور محاوروں کے ادب سے غائب ہو جانے کے یہی معنی ہیں۔ ان ادیبوں کو تو یہی منظور تھا کہ اپنے تجربات کا اختصاص اور ندرت دکھائیں‘ اور اجتماعی تجربات کا سایہ تک اپنے اوپر نہ پڑنے پائے۔ چنانچہ محاورے اسی لئے ترک کئے گئے تاکہ اجتماعی زندگی بن بلائے مہمان کی طرح نہ گھس پڑے۔

رہے 36ء کے بعد والے ادیب تو عقیدے کے اعتبار سے تو وہ اجتماعی زندگی کے قائل تھے‘ مگر خاندان‘ مذہب وغیرہ سماجی اداروں پر یقین نہ رکھتے تھے۔ یعنی وہ موجودہ اجتماعی زندگی کو رد کر کے اپنا تعلق ایک آئندہ اور خیالی اجتماعی زندگی سے استوار کرنا چاہتے تھے۔ پھر دوسری طرف کسی طرح کی اجتماعی زندگی سے انہیں جذباتی علاقہ نہ تھا… اس کے مشاہدے کی خواہش ضرور تھی۔ (یہاں میں ایک عام رجحان کا ذکر کر رہا ہوں‘ انفرادی حیثیت سے احمد علی‘ عصمت چغتائی ‘ انتظار حسین‘ وغیرہ میں اجتماعی زندگی سے محبت نظر آتی ہے۔) جولوگ اجتماعی زندگی سے اس بری طرح کٹ گئے ہوں، وہ اگر چاہیں بھی تو محاورے استعمال نہیں کر سکتے۔

کیونکہ اجتماعی زندگی ان کی شخصیت میں اس طرح جذب ہی نہیں ہوئی‘ جیسے سرشار‘ نذیر احمد اور راشد الخیری میں رس بس گئی تھی۔ یہ لوگ’’چراغ میں بتی پڑی‘‘ کہہ ہی نہیں سکتے۔ کیونکہ شام کے تصور کے ساتھ ان کے ذہن میں اجتماعی زندگی کا کوئی منظر نہیں ابھرتا۔ یہ لوگ ’’چادر تاننا‘‘ بھی نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ انہیں انسانوں کے چھوٹے سے چھوٹے فعل سے وہ دلچسپی نہیں جو سرشار کو تھی۔ یہ لوگ تو ایسی جگہ محض ’’سونا‘‘ کہیں گے یعنی ایسا لفظ استعمال کریں گے جو ا یک جسمانی فعل تو ضرور دکھائے مگر انسانی مناسبات سے خالی ہو۔

تو محاورے کا مسئلہ محض ادبی مسئلہ نہیں‘ بلکہ ہماری پوری انفرادی اور اجتماعی زندگی کا مسئلہ ہے۔ ہمارے ذہن میں محاورے اس وقت آئیں گے جب ہم اجتماعی زندگی سے جذباتی تعلق رکھتے ہوں‘ اور اپنے معاشرے کو قبول کریں۔

محاورے تو اجتماعی زندگی کی شاعری ہیں۔ اجتماعی زندگی کے (Myths) ہیں۔ جب تک ہمیں اپنی اجتماعی زندگی میں شاعری نظر نہ آئے گی ہم محاورے بھی استعمال نہیں کر سکیں گے۔ اتنی بات میں مانتا ہوں کہ بہت سے پرانے محاورے ہمارے کام نہیں آئیں گے۔ کیونکہ سماجی پس منظر بدل چکا ہے‘ اور اب ان کے ذریعے ہمارے ذہن میں کوئی تصویر نہیں ابھرتی۔ زندگی کی شکلیں بدل جائیں تو محاورے بھی نئے بننے چاہیں۔ لیکن غضب تو یہی ہوا ہے کہ نئے محاورں کی پیدائش بالکل رک گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی سے تخلیقی دلچسپی اور گہرا جذباتی تعلق باقی نہیں رہا‘ دوسرے ہماری زندگی اجزا میں بٹ گئی ہے۔ کُل کا احساس غائب ہو گیا ہے، ہم اپنے تجربات کو ایک دوسرے میں گھلا ملا کر انہیں ایک نہیں بنا سکتے۔

اسی لئے ہمارا ذہن نئے محاورے ایجاد نہیں کرتا۔ ذہن میں یہ صلاحیت تو اسی وقت آتی ہے‘ جب فرد اور معاشرے میں سچا ربط ہو۔ جان بوجھ کر محاوروں کی لین ڈوری لگا دینے کا مطلب اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ یہ ایک نقلی ربط پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ محاورے اسی وقت قابو میں آئیں گے کہ جب ادیبوں کو ہی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے سب افراد کو اجتماعی زندگی میں ڈوب جانے کی لگن ہو‘ اور نئے محاورے اس وقت پیدا ہوں گے، جب فرد اور جماعت کا ربط اتنا گہرا ہو کہ ہمیں اس ربط کی موجودگی کا خیال بھی نہ آئے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here