بندروں کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ماں اور سب سے ابتدائی تعلق مفید ہے۔  فوٹو: فائل

بندروں کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ماں اور سب سے ابتدائی تعلق مفید ہے۔ فوٹو: فائل

نیویارک: ماہرین نے بتایا کہ اس کی ماں اور بچوں کی درمیانی عمر میں ایک لمبے لمبے لمبے لمبے لمبے لمبے لمبے لمبے لمبے لمبے لمبے لمبے لمبے لمبے لمبے لمبے لمبے بچے رہتے ہیں۔

اس واقعہ میں واقعی نیشنل بیورو آف اکنامک ریسرچ نے بتایا ہے کہ اس میں عام لوگوں کے ساتھ ریمز بندرگاہوں کے بارے میں تحقیق کی جاسکتی ہے جس کا ماڈل انسانوں پر لاگو ہے جس کا راستہ اس بات کا ہے کہ جینیاتی حد تک انسان کے قریب آنے کی ضرورت ہے۔ ہم جاسکتے ہیں۔

مطالعے میں شامل یونیورسٹی کے امینڈا ڈیٹمر یہ کہتے ہیں کہ ‘یہ جان کر خوشی ہے کہ اس کی مثبت لمبی اگلی نسلوں کو رہائش پذیر رہنا ہے۔’

اس کے پاس ریزز بندرگاہ کی ماں اور ایک 650 جوڑے کے لئے جانا ہے۔ اٹ ان اٹ اٹکل اٹ اٹ کوکلکل میںکل انتخاب انتخاب انتخاب انتخاب کردہ کردہ کردہ بندر بندر بندر بندر بندر بندر بندر کو کو کو کو کو کو ماں کو ماں ماں ماں ماں ماں ماں ماں ماں ماں ماں ماں ماں ماں ماں ماں ماں ماں نرسری میں انسانوں سے پہلے 40 روزے سے گزرنے کے لئے۔ 40 دن بعد کوئٹہ سروگیٹ میں شامل ہوئے اور اس کے ساتھ ہی صارف کے بندرگاہوں کا جائزہ لیا گیا۔ یا پھر چار بالغ بندروں کے ساتھ خود ہوگیا۔ واضح ہے کہ کلاتھ سروگیٹ کے عمل میں کوئی نرمی نہیں ہو سکتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ گویا اس کا کوئی لمس کام کرتا ہے اور بسا اوقات مفید ثابت ہوتا ہے۔ نوکروں کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے کوٹھیوں میں لیپٹ کر سلایا علاج ہے۔

اس آٹھ مہینے کے بعد تمام بندروں کو ایک جگہ اپنا ایک یکساں رویہ دیا گیا۔ اب جہاں بندروں کو حقیقی بیمار ملتا ہے وہ خود ہی بیمار ہوتا ہے اور ان کی نگہداشت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر اس بندرگاہ کے ماحول اور معاشرے کے لئے ضروری کام آسانی سے رہتا ہے جیسے کھانا ، پینا اور مخالف جنس سے تعلق رکھنا وغیرہ۔ یہاں تک کہ اس عمل میں کچھ فوائد موجود ہیں اور اگلی نسلوں میں بھی ان کا پتہ چلتا ہے۔

انسان اور بندرگاہوں کا 93 فیصد تک مشابہہ موجود ہے۔ بچے ان بچے بچے بچے بچے بچے بچے وال وال بچے وال وال بچے وال وال وال وال وال وال وال وال جیسے جیسے جیسے جیسے جیسے جیسے جیسے جیسے جیسے جیسے جیسے جیسے جیسے جیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وجہ سے انسانوں پر بھی تحقیق کی جاسکتی ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here