لکڑیوں کے چولوں سے پھیپھڑوں کے پاس گئے تھے۔  فوٹو: فائل

لکڑیوں کے چولون سے پھیپھڑوں کے پاس گئے تھے۔ فوٹو: فائل

کیلیفورنیا: کمپیوٹر ٹوموگرافی اور دیگر ٹیسٹوں سے معلوم ہوا کہ لکڑی ، کوئلے اور گھاس پھوسوں کے چولیوں سے پھیپھ کا امتحان لیا۔ پوری دنیا میں تین ارب افراد مجبوراً اس ایندھن کو استعمال کرتے ہیں اور خود کو مجروح کرتے ہیں۔ اس طرح ہر سال 40 لاکھ سے زیادہ عمر کے افراد کی موت منہ میں چلتی ہے۔

ریڈیولاجیکل سوسائٹی آف نارتھ امریکہ (آر ایس این اے) کی سالانہ میٹنگ میں لکھا گیا ہے کہ لکڑی کے برادران اور دیگر اجزا کو جلری سے زہریلے بخارات اور دھواں مٹا دیئے گئے ہیں جو گھر کے اندر آلودگی کو جنم دے رہے ہیں۔ اس سے بالخصوص عام متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ عام طور پر صرف ایک ہی واقعہ ہے جو دنیا میں واقعی ہو جاتی ہے۔

اگر کسی ملک میں لکڑی اور بایوماس کی اسمارٹ چولی تھی اور دوسرے افراد نے اس کی رفتار برقرار رکھی ہے تو وہ بھی لکڑی اور گھاس پھوس ہی استعمال کر رہے ہیں۔ پھر شعور کی وجہ سے اس کی شرح بہت زیادہ ہے۔

کیلیفورنیا سان ڈیاگو اسکول آف ڈیسن اور دیگر مراحل میں سائنسدانوں نے لکڑیوں کے چولیان اور گیس کے چولہا کا موازنہ کیا۔ یہ تحقیقی سروے انڈیا میں کیا ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ ان پھیپھڑوں میں گیسوں کی زندگی میں لکھنے والے جلاؤ سے آلودگی اور بیکٹیری اینڈوٹاکسن آگئے ہیں۔ یہاں تک کہ پھیپھڑے میں درست انداز میں گیسوں کا تبادلہ نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ سروے میں شامل بالخصوص ایک تہوار کی جماعتوں میں پچیس فیصد تعداد میں پھیپھ کے پڑوسیوں نے پھانس کے وقت زندگی اور ان کا صحت مند تبادلہ نہیں کیا تھا۔

اس کے بعد کے کمپیوٹرٹوموگرافی سے بھی مدد ملی ہے ، اگرچہ اس نے چولادیوں کو دھوکہ دیا تھا تو اس کے بعد ان لوگوں نے بھی اس سے رابطہ نہیں کیا تھا۔ پھیپھڑوں کے افسران متاثر ہوئے اور اندرونی سوزش جلدی سے پھیل گئے۔

دنیا کی غریب ممالک کی حکومتوں کو یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ہرطرح سے لکڑی اور گھاس پھوسوں سے جلدی ہونے والوں کے لئے چالان کی حوصلہ شکنی اور ماحول دوست دوست کو فراہم کرتا ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here